مری تھکی ہوئی آنکھوں کے اس خرابے میں کہو کہ تم یہ اچانک کہاں سے آ نکلے اِدھر ہے دشتِ تمنا ؛ اُدھر حصارِ وفا کسے خبر کہ یہ راستہ کہاں پہ جا نکلے یہ صبح نوِ کی مُسافت ؛ یہ ڈھلتی عمر کی شام فغاں کے اپنے ستارے ؛ جدا جدا نکلے امجد اسلام امجد~
"گمشدہ ستارہ" وہ ستارہ جو کبھی اوجھل نہیں ہوتا تھا آنکھوں سے مری جس کی سیمیں ضوفشانی سے فشارِ زندگی کی تیرگی کو مات تھی جس سے چاروں کھونٹ پھیلی کہکشاں میں رونقیں تھیں جس کے محور میں بقا تھی میری رات اور میرے دن کی وہ ستارہ دفعتاً کس سمت لڑھکا کون جانے کس طرف اس کی جبینِ ضوفشاں ہے ضو فگن اب اس کروڑوں کہکشاؤں سے بھرے عالَم میں جانے وہ کہاں ہے ڈھونڈنا چاہے بھی تو اس کو کہاں ڈھونڈے کوئی انعام کبیر~
زندگی کب شروع ہوئی؟ جب سانس لیا، آنکھ کھولی؟نہیں۔۔ زندگی تب شروع ہوئی تھی جب اس نے مجھے اپنے دل میں رکھا اور مجھے بتایا کہ اسے مجھ سے محبت ہو گئی کب کیوں، نا جانے کیسے یعنی میری زندگی کا آغاز میری عمر کے نصف سے شروع ہوتا ہے۔ ہابیل بن آدم~
سبز پتے فقط ہیں فریب نظر زرد ہونے پہ آۓ تو سب ساعتیں زرد کر جائیں گے بن کہے ہی کسی روز مر جائیں گے تم سے کس نے کہا سبز پتوں کو تم زندگی مان لو زرد شاخوں پہ امید کے سرخ دھاگوں کو یوں باندھ لو میں تو خود میں ہی خود کو سمیٹے ہوۓ راکھ کا ڈھیر ہوں گھن زدہ پیڑ ہوں سجل احمد~
"رخصت" فسردہ رخ لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی تبسم مضمحل تھا مرمریں ہاتھوں میں لرزش تھی وہ کیسی بے کسی تھی تیری پر تمکیں نگاہوں میں وہ کیا دکھ تھا تری سہمی ہوئی خاموش آہوں میں فیض احمد فیض~
"سامنا" چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں بے خوابیاں افسانے مہتاب تمنائیں کچھ الجھی ہوئی باتیں کچھ بہکے ہوئے نغمے کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں
"I'm never lonely when I'm with you, that was kind of a perfect time in my life,... to be honest, I don't think I was ever really happy before then." -NORMAL PEOPLE📺
"حُکم آیا نہیں" مَیں نے موسم سے پُوچھا کہ اب کے برس کیا مرے واسطے کوئی پتّا، کوئی اَدھ کِھلا پُھول ہے یا فقط کچّے رستے پہ آتے ہُوئے مُشکی گھوڑے کے پاؤں سے اُڑتی ہُوئی دُھول ہے سبز موسم نے سورج مکھی کی طرح اِک کرن کی طرف گھوم کر یہ کہا سال کی آخری ساعتوں میں کہیں بُوڑھے برگد کے نیچے ملیں گے یہیں اے مرے ہم نوا، اے مرے ہم نشیں تیری خاطر ابھی حُکم آیا نہیں رفیق سندیلوی~
"تیری آواز" یوں اچانک تری آواز کہیں سے آئی جیسے پربت کا جگر چیر کے جھرنا پھوٹے یا زمینوں کی محبت میں تڑپ کر ناگاہ آسمانوں سے کوئی شوخ ستارہ ٹوٹے شہد سا گھل گیا تلخابہ تنہائی میں رنگ سا پھیل گیا دل کے سیہ خانے میں دیر تک یوں تری مستانہ صدائیں گونجیں جس طرح پھول چٹکنے لگیں ویرانے میں ساحر لدھیانوی~