قصے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے☘️ آ دیکھ تیرے نام سے موسوم ہیں سارے🙄🌿 بس اس لیے ہر کام اَدُھورا ہی پڑا ہے🌴 خادم بھی میری قوم کے مخدوم ہیں سارے🌱 اب کون میرے پاؤں کی زنجیر کو کھولے🌳 حاکم میری بستی کے بھی محکوم ہیں سارے🌲 شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک🌿 ورنہ تو تیرے عیب بھی معلوم ہیں سارے☘️ ہر جرم میری ذات سے منسوب ہے محسؔن🌱 کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے؟🍂🍂🍂
آج رہنے دو اشنان ، بہت سردی ہے اور گیزر بھی نہیں آن، بہت سردی ہے.😒 اب یہی عزم ہے چاہے تو قیامت گزرے ہم نہ بدلیں گے یہ بنیان، بہت سردی ہے چاند پر جھک کے کسی ابر نے سرگوشی کی🙃 گھر میں رہتے ہیں میری مان، بہت سردی ہے😐 وہ جو برسوں سے مری، نتھیاگلی کہتے تھے اب وہی کہتے ہیں ملتان ، بہت سردی ہے🤧 جیب میں ہاتھ دیئے ایک سپاہی بولا😏 آہ، کیسے کروں چالان، بہت سردی ہے🥲 سرد ہاتھوں سے چھوا جب تو تڑپ کر بولے🤗 بھاڑ میں جائے یہ رومان، بہت سردی ہے ہم تو لاھور کے جاڑے میں بھی جم جاتے ہیں🥶 ہم نہیں جائیں گے ناران، بہت سردی ہے🥴 آگ تاپی ہے رقیبوں نے بھی ہمراہ میرے☺️😐🙃 تیرے کوچے میں میری جان، بہت سردی ہے