جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے🌿
، جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے☘️
جب اپنی اپنی محبتوں کے🍁
عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے🍂
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے🍂
مسافروں کو اٹھا دیا تھا🍁
انہیں درختوں پہ اگلے موسم 🍀
جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے🌿
اس ایک کچی سی عمر والی کے🍁
فلسفے کو کوئی نہ سمجھا🍂
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی🍀
، خطوط نکلے تو لوگ سمجھے🌿
وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے،🌿
سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت☘️
پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے 🍁
جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے🍂
وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں🍂
سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا🍁
جب ان کے بچے جو شہر جاکر☘️
کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے🌿🌿🌿