اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری تم اسے جھنگ کے بیلے میں رولا دیتے ہو جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے تم اسے تپتے ہوئے تھل میں جلا دیتے ہو سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو