:دسمبر جانے والا ہے چلو اک کام کرتے ہیں پرانے باب بند کر کے نظر انداز کرتے ہیں بھلا کر رنجشیں ساری مٹا کر نفرتیں دل سے معافی دے دلا کر اب ادلوں کو صاف کرتے ہیں جہاں پر ہوں سبھی مخلص نہ ہو دل کا کوئ مفلس اک ایسی بستی اپنوں کی کہیں آباد کرتے ہیں جو غم دیتے نہ ہوں گہرے ہوں سانجھے سب وہاں ٹھرے سب ایسے ہی مکینوں سے مکاں کی بات کرتے ہیں نہ دیکھا ہو زمانے میں پڑھا ہو نہ فسانے میں اب ایسے جنوری کا ہم سبھی آغاز کرتے ہیں
کبھی بھی کسی کی زندگی میں محض آپشن نہ بنیں۰ یا تو آپ کی جگہ ترجیح ہو، یا پھر وقار کے ساتھ تنہائی قبول کریں۰ جو لوگ آپ کو چننے میں ہچکچاتے ہیں، وہ آپ کے قابل ہی نہیں۰ عزت ہمیشہ اُنہیں ملتی ہے، جو خود کو قیمتی سمجھتے ہیں تنہا رہ جانا بہتر ہے، بے وقعت رہنے سے
:وقت کے ساتھ انسان جینا سیکھ لیتا ہے، مگر خوش ہونا بھول جاتا ہے۔ شکوے آہستہ آہستہ ختم ہو جاتے ہیں، سوال دب جاتے ہیں، اور خاموشی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ دل کے کسی کونے میں ایک خلا ہمیشہ باقی رہتا ہے جو کسی اور سے نہیں بھرا جا سکتا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے، مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ انسان بس عادت ڈال لیتا ہے۔ آخرکار یہ احساس گہرا ہو جاتا ہے کہ کچھ دکھ قسمت بن کر آتے ہیں، اور انہیں برداشت کرنا ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain