Damadam.pk
ossama's posts | Damadam

ossama's posts:

o  🔥 : If you had the chance to alter your life, would you take it? - 
o  : Toss a coin off witch 3😃 - 
o  : I'm just going to take a step back then - 
o  : Jo jo loota wo to wapis krty jao.b1😂😂😂 - 
o  : O velly of plenty😂😂😂 - 
o  : I love damadam.b1 - 
o  🔥 : In classroom😆😆😆 - 
o  : A pink cruiser bike with flowers infront of a candy store by Kristen Curette - 
o  🔥 : Kon kon krta hai aisa.b1 - 
o  : Agr Muhabbat hoti to..... - 
o  🔥 : Mention your type.b1 mine normal😁😁 - 
o  : Mujha b aisy friendz chahiya.b1 - 
o  : Everything is possible.... - 
o  : So true😂😉 - 
o  : Peoples who wears Glasses😂😂😂😜 - 
o  : Majical power😍😍😍😘 - 
ossama
 

پروموشن 🤐🤐🤐
*ایک دن بیگم صاحبہ،پروفیسر صاحب سے لڑ رہی تھیں کہ "چوبیس گھنٹے آن ڈیوٹی ہوتی ہوں ، کام ختم ہی نہیں ہوتے لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ آپ کی طرح نہ تو کبھی سالانہ انکریمنٹ لگتی ہے اور نہ ہی پروموشن ہوتی ہے"*
*پروفیسر نے کہا، "میری انکریمنٹ لگے یا پروموشن ہو ، ظاہر ہے سب کچھ تمہارا ہی ہے لیکن پھر بھی تمہارے دونوں گِلے دور کر دیتا ہوں*
*ہر سال تمہاری پاکٹ منی میں ایک ہزار کا اضافہ ہوگا."*
*بیگم نے ہنستے ہوئے کہا ،" ڈن ہوگیا ، اب پروموشن کی بات کریں.."*
*پروفیسر نے کہا، "میری کسی بیس بائیس سال کی جوان بیوہ سے شادی کرا دو*
*تم سینئر ہوجاؤ گی اور وہ جونئیر اور ثواب فری میں ملتا رہے گا،*
*اب بیگم پروموشن لینے سے بھی انکاری ہیں اور نعوذ باللہ ثواب کمانے سے بھی...*
از قلم۔
(پروفیسر نوید احمد)

ossama
 

بقیہ
پھر مینجر صاحب بولے، "بھائی! میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس اتنی دولت ہو کہ میں اِس چھوٹی موٹی کمپنی کی جاب سے آزاد ہو جاؤں اور اپنی پوری زندگی مزے سے اپنے گھر والوں کے ساتھ گزاروں، تو کیا میری یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے؟" جن نے پھر تالی بجائی تو مینیجر بھی غائب ہو گیا۔
اب ڈائریکٹر صاحب کی باری تھی، جن بولا، "جی جناب! آپ کی کیا خواہش ہے؟" ڈائریکٹر صاحب غصے سے بولے، "یہ مینیجر اور سیکرٹری دونوں لنچ کے بعد مجھے میرے آفس میں چاہیں۔۔۔!"😂😁😄
*اخلاقی سبق: کبھی بھی بڑوں سے پہلے نہیں بولنا چاہیے، ورنہ انجام یہی ہوگا۔۔۔۔!*

ossama
 

☺سبق آموز مزاح☺*
کسی کمپنی کا ڈائریکٹر، مینیجر اور اُسکی سیکرٹری ایک دِن کسی ہوٹل میں لنچ کرنے جا رہے تھے۔ وہ کمپنی سے نکل کے ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ انہیں راستے میں ایک آلہ دین کا چراغ ملا۔ ڈائریکٹر نے چراغ رگڑا تو اُس میں سے ایک جن نمودار ہوا، اور بولا، "حکم میرے آقا۔۔۔! آپ تینوں مجھ سے ایک ایک خواہش کر سکتے ہیں، جسے میں ان شاء اللہ پورا کروں گا"۔
ابھی ڈائریکٹر صاحب کچھ سوچ ہی رہے تھے کہ، اُسکی سیکرٹری بولی، "پہلے میں، پہلے میں" چنانچہ وہ نہایت جذباتی ہوتے ہوئے بولی، "جن بھیا! مجھے بچپن سے ہی پرستان دیکھنے کا بہت شوق تھا، میں چاہتی تھی کہ میں ایسی کسی حسین جگہ پر جاؤں جہاں مجھے کوئی تنگ کرنے والا نہ ہو، اور میں ہمیشہ وہاں رہوں، تو کیا آپ میری یہ خواہش پوری کر سکتے ہیں؟"۔ جن نے تالی بجائی اور سیکرٹری غائب ہو گئی۔
جاری ہے.

ossama
 

لوگ آ کے تیرے پاس رہیں باتیں بھی کریں
اک ہم پہ یار تیری جھلک تک حرام ہے
سانول حیدری