ڈاکٹر مریض سے: صابن کون سا استعمال کرتے ہیں؟
مریض: صوفی کا..
ڈاکٹر: شیمپو؟
مریض: صوفی کا..
ڈاکٹر: تیل؟
مریض: صوفی کا
ڈاکٹر: صوفی کوئی امپورٹڈ برانڈ ہے؟
مریض: نہیں جی، صوفی میرا رومیٹ ہے😂😂
محبت ایسے ہی نہی ہوجاتی
کسی کورزق کی طرح ملتی
اور
کسی کو روگ کی طرح
خشونت سنگھ لکھتے ہیں :
"ایک بار میں جہاز میں ممبئی سے سنگاپور جارہا تھا. ایک خاتون میرے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی مجھے مسلسل گھورے جارہی تھیں. میں سمجھ گیا کہ اس عورت نے آج تک کوئی سردار نہیں دیکھا. سفر کے دوران جب ایئر ہوسٹس چائے اور اسنیک لائی تو میں نے سوچا کہ اس خاتون سے گفتگو کا آغاز کروں. اس کا نام مارگریٹا تھا اور اس کا تعلق اسپین سے تھا. دوران گفتگو اس نے پوچھا. " آپ کون ہیں؟" میں نے انگریزی میں کہا. " I m sikh"
" آئی ایم سوری" وہ خاتون کہنے لگیں. " امید ہے آپ جلد ٹھیک ہو جائیں گے"
" میں نے اس پر کہا. " نہیں محترمہ آپ غلط سمجھی ہیں.
I am not sick as that of the body, I am Sikh as of religion."
وہ خاتون بہت خوش ہوئیں اور مجھ سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا. کہنے لگیں.
"it is nice meeting you, I am also sick of religion.
تُم اپنے سائے کے سوا کُچھ نہیں دیکھ سکتے کیونکہ تُم نے سورج کی طرف پیٹھ کر رکھی ہے۔”
خلیل جبران
ان سردیوں میں آپ مجھے چلغوزے کھلادیں۔۔۔😛
آنے والی گرمیوں میں میں آپکو قلفی کھلا دوں گا۔۔۔🙈😍 😛😛👈
"ذہانت"
بہت سے لوگ ذہانت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیں؛ سائنسی مضامین پڑھنے والے ذہین نہیں ہوجاتے اور آرٹس مضامین پڑھنے والے نالائق نہیں ہوتے... دراصل ذہانت کی مختلف اقسام ہیں اور سائنسی مضامین میں دلچسپی لینے والے الگ نوعیت کی ذہانت رکھتے ہیں جبکہ آرٹس مضامین کی رغبت رکھنے والے الگ۔ اگر اس بات کا عملی مشاہدہ کرنا ہو تو سائنسی مضامین کی رغبت رکھنے والے کو کسی آرٹس مضمون میں اپنی ذہانت کے جوہر دکھانے کا کہیں!
محض دو سو روپے کا نارمل کوالٹی کا سیوو گارڈ ایکسیڈینٹ کی صورت میں آپ کی بائیک کو محفوظ رکھتا ہے ۔ دو سو روپے کی کنجوسی یعنی بائیک کو سیوو گارڈ نہ لگانے سے ایکسیڈنٹ ہونے کی صورت میں یا بائیک کے گرنے کی صورت میں بائیک کے ٹیکی ، ٹاپے ، اشارے اور بھی کئی چیزیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتیں ہیں۔ جن کی وجہ سے دو سو روپے بچاتے بچاتے ہزاروں روپے بائیک پہ خرچ کرنے پڑتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی بائیک کی وہ صورت حال نہیں رہتی جو پہلے تھی اور بائیک بہت سی اوریجنل چیزوں سے محروم ہوجاتی ہے ۔
نخرے وہی کرتے ہیں جن کے پاس آپشنز زیادہ ہوتی ہیں ۔ جو بچارے صدیوں سے بھوکے ہوں وہ کچرے سے بھی خوراک تلاش کرکے کھالیتے ہیں۔
آج کل انسانوں کا معیار ناپنے کےلیئے اس کی دولت کو مدِنظر رکھا جاتا ہے ۔ یعنی جس کے پاس جتنی دولت وہ اتنا عزت دار ۔
جن افراد کو دوران سفر الٹیاں آتیں ہیں ۔ وہ سفر سے پہلے دوائی کا استعمال کریں یا اپنے پاس شاپر رکھیں یا پھر خالی پیٹ سفر کیا کریں ۔
جو ڈاکٹر اپنا اخلاق بہترین رکھتے ہیں اور مریضوں کو تسلی سے چیک کرکے بہترین دواء تجویز کرتے ہیں ۔ وہ ڈاکٹر ایک تو لوگوں سے دعائیں لیتے ہیں ، دوسرا ان کا ادب ، عزت و احترام لوگوں کے دلوں میں خود بیٹھنے لگتا ہے تیسرا ان کے مخلص پن کی وجہ سے ان کے علم اور تجربے میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔
جو ڈاکٹر بد زبان اور بد اخلاق ہوتے ہیں اور مریضوں کو توجہ سے نہیں دیکھتے بلکہ ٹائیم پاس کرتے ہیں ۔ ان ڈاکٹروں کے لیئے مریضوں کے دلوں سے گالیاں نکلتیں ہیں ۔ لوگ انہیں الٹے القاب سے یاد کرتے ہیں اور وہ وقت گزاری کی وجہ سے اتنا ٹائیم ڈاکٹری کو دینے کے باوجود ڈاکٹری کا تجربہ حاصل نہیں کرپاتے ۔
اگر میں ٹی شرٹ کے نیچے سکن ٹائیٹ پجامہ پہن کر بازار میں آوں تو میں پاگل ، بے غیرت ، بے حیاء اور نجانے کیا کیا اور اگر لڑکی ٹی شرٹ کے نیچے سکن ٹائیٹ پجامہ پہن کر نکلے تو فیشن ۔
ہماری عقل و غیرت کو میڈیا گھن کی طرح چاٹ گیا ہے ۔
جب میں جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ رہا تھا تو میرے والد نے مجھے نصیحت کی تھی ۔ موسم چاہے کتنا ہی گرم کیوں نہ ہو کبھی قمیض اتار کر گھر میں نہیں پھرنا ۔
مجھے آج بھی کسی کے سامنے قمیض اتارتے ہوئے انتہائی شرم اور بے عزتی محسوس ہوتی ہے ۔
جو الفاظ والدین اپنی اولاد کو بچپن میں بولتے ہیں وہ الفاظ اولاد کے ذہنوں پہ نقش ہوجاتے ہیں۔
بعض لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے اونچا دیکھانے کے لیئے نفسیاتی طور پہ اس حد تک پہنچ چکے ہوتے ہیں کہ اگرچہ وہ ائیرپورٹ پہ جھاڑو دینے والے ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن انہوں نے گاوں میں اپنے آپ کو پی آئی اے کا پائیلٹ مشہور کروایا ہوتا ہے۔
جب نوبت بحث و مباثہ پہ آجائے تو ہمیں ہمیشہ حق کا ہی ساتھ دینا چاہیئے ۔ خواہ حق ہمارے اور ہمارے فرقے کے مخالف ہی کیوں نہ ہو ۔
ہمیں عوام کے وسائل ضائع کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ۔ خواہ وہ دوران وضو مقررہ حد سے زیادہ پانی کااستعمال ہی کیوں نہ ہو۔
محض زبان کے ذائقے کی خاطر ہم نے اپنے معدوں کا ستیاناس کر ڈالا۔
ہم اپنی عقل و فہم سے دین اسلام میں خواہ کتنا ہی بہترین عمل کیوں نہ ایجاد کرلیں ۔ لیکن ہمارے عمل کی حثیت نبی کریمؐ کے عمل کی نسبت خاک برابر بھی نہیں ہوسکتی ۔
خدارا لوگوں کی زندگیاں اپنےمن گھرٹ بنائے ہوئے اعمال کے پیچھے برباد نہ کریں ۔ بلکہ انہیں ان اعمال پہ لگائیں جو نبی کریمؐ نے اپنی حیات مبارکہ میں کیئے ۔ تاکہ ان کی بھی دنیا و آخرت سنورئے اور تمہاری آخرت بھی سنور جائے ۔
بعض خواتین سیلفی بناتے وقت اپنا منہ چوسنی کی طرح شاید اس لیئے کرتیں ہیں کہ وہ خوبصورت دیکھیں ۔ لیکن حقیقت اس کےبرعکس ہوتی ہے۔
اگر آپ نے غور کیا ہو تو آپ کو معلوم ہوگاکہ جب بچہ نئی نئی سائیکل چلانے میں مہارت حاصل کرتا ہے تو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیئے ہاتھ چھوڑ کر سائیکل چلاتا ہے ۔ وہ اپنے ذہن میں اس طرح سائیکل چلانے کو بہت بڑا کارنامہ تصور کررہا ہوتا ہے ۔ اسی طرح ہم بھی زندگی کے ہر موڑ پہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیئے کبھی کبھار بہت بڑی بڑی چھوڑنے لگتے ہیں یا پھر اس بچے کی طرح لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیئے اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain