خشک ہونٹوں پہ کوئی پیاس پرانی چپ ہے پھر بھی آغوش میں بہتا ہُوا پانی چپ ہے ڈھونڈتی پھرتی ہے اب کون سے کرداروں کو دل کے اُجڑے ہوئے رستوں پہ کہانی چپ ہے لفظ تخلیق کی منہج پہ کھڑے تھے لیکن میں ہُوں اظہار پہ مائل تو معانی چپ
یاد آوں تو بس اتنی سی عنایت کرنا ۔ اپنے بدلے ہوئے لہجے کی وضاحت کرنا تم تو چاہت کا شاہکار ہواکرتے تھے ۔کس سے سیکھا ہے الفت میں ملاوٹ کرنا ہم سزاوں کے حق دار بنے ہے کب سے تم ہی کہہ دوکہ جرم کیا محبت کرنا ۔تیری فرقت میں یہ آنکھیں ابھی تک نم ہیں ۔کبھی آنا میری آنکھوں کی زیارت کرنا