دکھ دیکر سوال کرتے ہو
غالب تم بھی کمال کرتے ہو
دیکھ کر پوچھ لیا حال میرا
چلو کچھ تو عیال کرتے ہو
شہر دل میں اداسیاں کیسی
یہ بھی مجھ سے سوال کرتے ہو
مرنا چاہیں بھی تو مر نہیں سکتے
تم بھی جینا محال کرتے ہو
اب کس کس کی مثال دوں تم کو
ہر ستم بے مثال کرتے ہو
تمھیں کیا پتا جلن کیا ہوتی ہے غالب
کبھی تم بھی مرچوں والے ہاتھ اپنی آ نکھوں پر لگا کر تو دیکھو😁
پوچھا گیا صبر جمیل کس کہتے ہیں
جواب آیا جب تم آزمائے جا رہے ہو اور تمھارے لب پر ہو شکر الحمدللّٰہ
بڑے کم نظر تھے گنہگار تھے ہم
مگر تیرے دل کو لبھاتے رہے ہیں
یہی سوچ کر تم بھلا دو خطائیں
تجھے ہم بہت یاد آتے رہے ہیں