گہری گہری ذات سمندر دن صحرا اور رات سمندر میں ہوں پھر بھی تشنہ تشنہ ورنہ اسکی ذات سمندر سامنے اسکی آنکھوں کے تیری کیا اوقات سمندر پھر بھی غم کیا راہ میں میری حائل ہیں گر سات سمندر بوند بوند کو ترسے صحرا پی جائے برسات سمندر سامنے اسکی آنکھوں کے تیری کیا اوقات سمندر ❤