تُو نے دَرویش کو غصے میں نہیں دیکھا اَبھی زِندگی ہم تجھے تھپڑ بھی لگا سکتے ہیں چل کے آئی ہے مرے پاس تو کچھ اُونچا مانگ چاند تارے تو مرے چیلے بھی لا سکتے ہیں کل بھی کل جیسی ہو اور آج بھی پرسوں جیسی ہم اَگر چاہیں گھڑی ایسے گھما سکتے ہیں یار کے نام میں گم ہو کے بڑھاؤں گر ہاتھ ہفت اَفلاک بھی مٹھی میں سما سکتے ہیں صاحباں ، شیریں ، پری ، سوہنی ، سَسَی ، ہیر ، عذرا حق میں اِک شوخ کے ہم سب کو بٹھا سکتے ہیں