اذان کے وقت پڑھنے کی دعا
جب اذان کی آواز سنے تو یہ پڑھے
اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ، وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ، رَضِیْتُ بِاللّٰهِ رَبًّا وَّ بِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا
ترجمہ:
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کو رب ماننے پر اور محمد ﷺ کو رسول ماننے پر اور اسلام کو دین ماننے پر راضی ہوں۔
(صحيح مسلم ١/ 290، بيروت)
حدیث شریف میں ہے کہ اذان کی آواز سن کر یہ دعا پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
مسلمان اللہ کو تمام جہانوں کا خالق، مالک اور رب مانتے ہیں۔ جب کچھ بھی نہیں تھا سیاہ تاریکی تھی پانی کے اوپر اللہ تبارک تعالی کا تخت تھا۔دین حنیف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ماننے والے آپ کی اولاد حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مسلمانوں کا مذہب اسلام میں اللہ کی ذات کے ساتھ جو خصوصیات منسلک ہیں ان سے توحیدیت کا اظہار ہوتا ہے اور شرک و کفر کی نفی کی جاتی ہے۔ اسلام کے بنیادی تصورات اور مسلمان علماء دین کے اجتماعی اتفاق کے مطابق ؛ اللہ ایک ذات واحد ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے لیے کوئی شبیہ (شکل یا تصویر یا مشابہت یا مثال) نہیں، اس کے لیے کوئی نظیر (متبادل یا ہم پلہ) نہیں، اس کی کوئی اولاد (بیٹا یا بیٹی) نہیں،
شیطان جو انسان کا دیرینہ دشمن ہے اور جس نے بنی آدم کو ہر ممکنہ راستہ سے بہکانے اور گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے، مختلف راستوں، حیلوں اور بہانوں سے انسان کو صراط مستقیم سے منحرف کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اس کی تمام چالبازیوں پر پانی پھیر دیتی ہیں۔ انہیں میں سے ایک نماز ہے۔
سب سے پہلے انسان سے آخرت میں نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا اگر نماز قبول کر لی گئی تو تمام اعمال قبول کرلیے جائیں گے اور اگر رد کر دی گئی تو دوسرے سارے اعمال رد کر دیئے جائیں گے۔
نماز سبب بنتی ہے کہ انسان ہمیشہ خدا کی یاد میں رہے اور اسے بھولے نہیں، نافرمانی اور سرکشی نہ کرے۔ خشوع و خضوع اور رغبت و شوق کے ساتھ اپنے دنیاوی اور اخروی حصہ میں اضافہ کا طلب گار ہو۔ اس کے علاوہ انسان نماز کے ذریعہ ہمیشہ اور ہر وقت خدا کی بارگاہ میں حاضر رہے اور اس کی یاد سے سرشار رہے۔ نماز گناہوں سے روکتی اور مختلف برائیوں سے منع کرتی ہے سجدہ کا فلسفہ غرور و تکبر، خودخواہی اور سرکشی کو خود سے دور کرنا اور خدائے وحدہ لا شریک کی یاد میں رہنا اور گناہوں سے دور رہنا ہے۔
نماز کے بہت سے فلسفے ہیں انہیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پہلے لوگ آزاد تھے اور خدا و رسول کی یاد سے غافل تھے اور ان کے درمیان صرف قرآن تھا امت مسلمہ بھی گذشتہ امتوں کی طرح تھی کیونکہ انہوں نے صرف دین کو اختیار کر رکھا تھا اور کتاب اور انبیاء کو چھوڑ رکھا تھا اور ان کو قتل تک کر دیتے تھے ۔ نتیجہ میں ان کا دین پرانا (بے روح) ہو گیا اور ان لوگوں کو جہاں جانا چاہیے تھا چلے گئے۔ خدا وند عالم نے ارادہ کیا کہ یہ امت دین کو فراموش نہ کرے لہذا اس امت مسلمہ کے اوپر نماز کو واجب قرار دیا تاکہ ہر روز پانچ بار آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یاد کریں اور ان کا اسم گرامی زبان پر لائیں اور اس نماز کے ذریعہ خدا کو یاد کریں تاکہ اس سے غافل نہ ہوں اور اس خدا کو ترک نہ کر دیا جائے۔
ایک اور مقام پر ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں:
” میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم میں آپ پر کثرت سے درود شریف پڑھتا ہوں۔ میں کس قدر درود شریف پڑھا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جتنا چاہو اگر زیادہ کرو تو بہتر ہے میں نے عرض کیا ’’نصف‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جتنا چاہو البتہ زیادہ کرو تو بہتر ہے میں نے عرض کیا دو تہائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جتنا زیادہ کرو تو بہتر ہے میں نے عرض کیا۔ میں سارے کا سارا وظیفہ آپ کے لیے کیوں نہ کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اب تیرے غموں کی کفایت ہوگی اور گناہ بخش دیئے جائیں گے۔( ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الزهد، باب ماجاء فی صفة أوانی الحوض، 4 : 245، رقم : 2457)
میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا آیا اور عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی مجھ پر ایک بار درود شریف پڑھے اللہ تعالٰیٰ اس کے بدلے اس امتی پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے دس درجے بلند کرتا ہے اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے۔(نسائی، السنن الکبریٰ، 6 : 21، رقم : 9892)
ذکرشیطان کو دفع کرتا ہے اور اس کی قوت کو توڑتا ہے۔
اللہ تعالی کی خوشنودی کا سبب ہے
دل سے فکروغم کو دور کرتاہے
دل میں فرحت سردر اور انبساط پیدا کرتا ہے۔
بدن کو اور خاص طور پر دل کو قوت بخشتا ہے۔
چہرے اور دل کو منور کرتا ہے۔
رزق کو بڑھاتا ہے۔
ذکر کرنے والے کو ہیبت اور حلاوت کالباس پہناتاہے۔
اللہ تعالی کی محبت پیدا کرتا ہے۔
ذکر سے مراقبہ نصیب ہوتاہے۔
قرآن مجید میں آتا ہے اے ایمان والو ! اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح کیا کرو(احزاب : 41-42)
حضرت ابی ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حق تعالی کا فرمان ہے کہ میں بندے کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جیسا کہ وہ میرے ساتھ گمان کرتا ہے اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگروہ میرا مجمع میں ذکر کرتا ہے تو میں اس مجمع سے بہتریعنی فرشتوں کے مجمع میں تذکرہ کرتا ہوں اور اگر بندہ میری طرف ایک بالشت متوجہ ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ بڑھاتا ہے تو میں دو ہاتھ بڑھتا ہوں۔ اگروہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔(بخاری، مسلم، ترمذی)
نبی اکرم کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جونہیں کرتا،ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے کہ ذکر کرنے والا زندہ ہے اور ذکر نہ کرنے والا مردہ۔(مسلم، بخاری، مشکوۃ)
رسول اکرم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے پاس فرشتوں کی ایک جماعت ایسی ہے جو مجالس فکر کی تلاش میں گھومتی پھرتی رہتی ہے۔ اور جب کبھی وہ فرشتے مجلس فکر کو پاتے ہیں تو اصحاب مجلس کے اندر بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے پیروں سے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ زمین اور پہلے انسان کے درمیان میں کی تمام کائنات ان سے بھر جاتی ہے اور جب وہ منتشر ہوتے ہیں تو فرشتے آسمان کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اللہ عزوجل اپنے علم کے باوجود ان سے پوچھتا ہے تم کہاں سے آئے ہو تو وہ کہتے ہیں ہم روئے زمین میں تیرے ایسے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح تکبیر، تہلیل اور حمد بیان کر رہے تھے۔(مسلم)