میں بہت کوشش کرتا ہوں۔۔! کہ سارا دن حد سے زیادہ مصروف رہو۔۔تاکہ رات کو بستر پہ لیٹتے ہی مجھے نیند آ جائے۔میں کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتا۔۔۔ میں نہیں سوچنا چاہتا۔۔! ان لوگوں کے بارے میں جو مجھے بیچ راہ میں چھوڑ کر چلے گئے۔ مگر رات کے جس پہر بھی میری آنکھ کھل جائے۔۔۔تو میری سوچیں بے لگام گھوڑے کی طرح ہو جاتی ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے۔۔! میں چیخ چیخ کے روؤں اپنی ہر تکلیف آنسوؤں میں بہا دوں۔۔۔۔۔مگر میں ایسا بھی نہیں کر پاتا۔۔آنسو بھی اب پلکوں کے بند توڑ کر باہر آنے سے انکاری ہو گئے ہیں۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں کوئی میرا ہمراز بنے مجھے آدھا گھنٹہ گلے سے لگا کر میری ساری باتیں سنے میں کس قدر اذیت میں ہوں میری آنکھیں نم کیوں رہتی ہیں میں کیوں رشتوں سے بھاگتا ہوں کوئی مجھے اس کیفیت سے نکالے ورنہ یہ وحشتیں یہ اذیتیں یہ دکھ یہ روگ مجھے روز ماریں گے پل پل ماریں گے جیسے کچھ سالوں سے مارتے آرہے ہیں.
آزادی یہ ہے کہ رات کو سوتے وقت آخری خیال کسی شخص کا نہ ہو۔ آدھی رات کو آنکھ کھلے تو تمہارا ہاتھ پانی کے گلاس کی طرف بڑھے نہ کہ دھڑکتے دل پر۔ اور صبح اٹھو تو تمہارے دماغ میں ناشتے کا خیال آئے نہ کہ کسی شخص کی یاد کی وجہ سے ناشتے سے دل اچاٹ پڑا ہو۔
ایک عورت کہتـی ھے کـہ شادی کے 17 سال بعد میں اس نتیجـہ پر پہنچـی کـہ مــرد خدا کی خوبصورت ترین مخلوق ھے. وہ اپنـی جوانی کو اپنـی بیوی اور بچـوں کیلئے قــربان کـرتا ھے یہ وہ ھستی ھے جو پوری کوشش کـرتا ھے کہ اس کے بچوں کا آیندہ مستقبل خوبصورت اور اچھا بنے