🦂🦂🦂🦂🦂🦂🦂🦂🦂 صبر 🦂🦂🦂🦂🦂🦂🦂🦂🦂
اچھی اچھی دوستیاں ختم ہوجاتی ہیں ایک ضد کی وجہ سے کہ وہ یاد نہیں کرتا تو میں کیوں کرو
سینے پہ پھونکنے کے لیے دم بتائیں گے
اس دم کے ساتھ دل میں چھپے غم بتائیں گے
صوفی تمہیں خبر ہی نہیں راز عشق کی
آنا ہمارے پاس کبھی ہم بتائیں گے
ہم خود بتائیں گے تمہیں اپنی برائیاں
وہ اس لیے کہ لوگ تمہیں کم بتائیں گے
$
ان کے لب اور پھر وفا کی قسم
ہاۓ۔۔۔۔۔ کیا قسم تھی خدا کی قسم
کوئی تدبیر کرو وقت کو روکو یاروں
صبح دیکھی ہی نہیں شام ہوئی جاتی ہے
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
دوستی وہ نعمت ہے جو نصیب والوں کو ملتی ہے
چلو اچھا ہوا تم بھول گے
good night
مجھے تیری محبت کا سہارا مل گیا ہوتا
اگر طوفاں نہیں آتا کنارہ مل گیا ہوتا
نہ تھا منظور قسمت کو نہ تھی مرضی بہاروں کی
نہ ہی تو اس گلستاں میں کمی تھی کیا نظاروں کی
میری نظروں کو بھی کوئی نظارہ مل گیا ہوتا
اگر طوفاں نہیں آتا کنارہ مل گیا ہوتا
دل ہی نہیں لگ رہا تیرے بغیر
بہت خود کو الجھایا ادھر اُدھر
خوبصورت لہجے میں بات کریں ورنہ
خاموش رہے کر اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھے
اپنی آنکھیں بھی میں چھوڑ آیا تیری دہلیز پر
مجھ کو اس دیدار کی خواہش نے اندھا کر دیا
دوستی وہ نعمت ہے جو نصیب والوں کو ملتی ہے
ابھی نہ جانا یوں ہمیں چھوڑ کر
کہ ابھی تو گلہ بھی پورا نہیں ہوا
اول رکھا ہے تم کو ہر لحاظ سے
تم تو ہم میں بھی ہم سے پہلے آتے ہو
میں تجھ کو بھول جانے کے
مسلسل مرحلوں میں ہوں
مگر رفتار مدھم ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
مجھے کسی کے بدل جانے کا کوئی دکھ نہیں
بس کوئی ایسا تھا جس سے یہ امید نہیں تھی
دوستی وہ نعمت ہے جو نصیب والوں کو ملتی ہے ۔
ذرا سی زندگی ہے مگر ارمان بہت ہیں
ہمدرد نہیں کوئی مگر انسان بہت ہیں
دل کے درد سنائیں تو سنائیں کس کو
جو دل کے قریب ہیں وہ انجان بہت ہیں
دل سے کچھ دیر تُجھ کو جدا رکھوں
میرے بس میں نہیں میں تُجھ کو خفا رکھوں
نہیں کچھ بھی میرے دل میں سوا تیرے
میں تُجھ کو بُھلا دوں تو یاد کیا رکھوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain