Damadam.pk
asghar-khan's profile | Damadam

asghar-khan's profile:

Profile photo:
pic loading ...
About asghar-khan:
Intro: ایک بار جبرايیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس اے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے اپ نے فرمایا جبرايیل کیا معاملہ ہے کہ اج میں اپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرايیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ ایا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے اثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرايیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرايیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے چوتھے درجے میں اللہ پاک اتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسايیوں کو ڈالیں گي یہ کہہ کر جبرايیل علیہ سلام خاموش ہوگيے تو نبی کریم نے پوچھا جبرايیل اپ خاموش کیوں ہوگيے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا جبرايیل علیہ سلام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک اپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو اپ بے حد غمگین ہوے اور اپ نے اللہ کے حضور دعايیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہويی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ اے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں ایا ۔ اپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس اے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا اپ جايیں اپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے اپ گيے تو اپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ ایا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ ایا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیيے بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیيے۔ لہذا اپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا اپ حجرے کے دروازے پہ ايی " ابا جان اسلام وعلیکم" بیٹی کی اواز سن کر محبوب کايینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا ابا جان اپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے اپ یہاں تشریف فرما ہے نبی کریم نے فرمایا کہ جبرايیل نے مجھے اگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعايیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر اپ پھر سجدے میں چلے گيے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے ازاد کر کہ اتنے میں حکم اگیا "ولسوف يعطيك ربك فترضى اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ اپ راضی ہو جايیں گے.. اپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا اخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے لکھتے ہوے انکھوں سے انسو اگيے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا..؟؟ اپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری اپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیير کرتے ہیں . اج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیير کریں. ايیں ایک ایک شیير کرکہ اپنا حصہ ڈالیں . کیا پتہ کون گنہگار پڑه کہ راہ راست پہ اجاے. سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہما کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک یتیم جوان شکایت لیيے حاضر خدمت ہوا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ؛ میں اپنی کھجوروں کے باغ کے ارد گرد دیوار تعمیر کرا رہا تھا کہ میرے ہمسايے کی کھجور کا ایک درخت دیوار کے درمیان میں ا گیا۔ میں نے اپنے ہمسايے سے درخواست کی کہ وہ اپنی کھجور کا درخت میرے لیيے چھوڑ دے تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی بنوا سکوں، اس نے دینے سے انکار کیا تو میں نے اس کھجور کے درخت کو خریدنے کی پیشکس کر ڈالی، میرے ہمسايے نے مجھے کھجور کا درخت بیچنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کے ہمسايے کو بلا بھیجا۔ ہمسایہ حاضر ہوا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوجوان کی شکایت سنايی جسے اس نے تسلیم کیا کہ واقعتا ایسا ہی ہوا ہے۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ تم اپنی کھجور کا درخت اس نوجوان کیليے چھوڑ دو یا اس درخت کو نوجوان کے ہاتھوں فروخت کر دو اور قیمت لے لو۔ اس ادمی نے دونوں حالتوں میں انکار کیا۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو ایک بار پھر دہرایا؛ کھجور کا درخت اس نوجوان کو فروخت کر کے پیسے بھی وصول کر لو اور تمہیں جنت میں بھی ایک عظیم الشان کھجور کا درخت ملے گا جس کے سايے کی طوالت میں سوار سو سال تک چلتا رہے گا۔ دنیا کےایک درخت کے بدلے میں جنت میں ایک درخت کی پیشکش ایسی عظیم تھی جسکو سن کر مجلس میں موجود سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما دنگ رہ گيے۔ سب یہی سوچ رہے تھے کہ ایسا شخص جو جنت میں ایسے عظیم الشان درخت کا مالک ہو کیسے جنت سے محروم ہو کر دوزخ میں جايے گا۔ مگر وايے قسمت کہ دنیاوی مال و متاع کی لالچ اور طمع اڑے ا گيی اور اس شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچنے سے انکار کردیا۔ مجلس میں موجود ایک صحابی (ابا الدحداح) اگے بڑھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اگر میں کسی طرح وہ درخت خرید کر اس نوجوان کو دیدوں تو کیا مجھے جنت کا وہ درخ

City: Abbottabad
Star sign: Not set
Gender: Male
Married: No
Age: 22
Joined: 10 years, 1 month ago
Popularity:
Followers: 1 verified followers
0 unverified followers