"کبھی کبھی رشتے ختم نہیں ہوتے. بس خاموش ہو جاتے ہیں۔ پہلے والی باتیں، وہ روز کی ضدیں، وہ ہنسی سب آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہیں۔ اب باتیں نہیں ہوتیں، بس یادیں رہ جاتی ہیں۔ وہ اب بھی خیال رکھتا ہے، مگر دُور سے۔ وہ بھی یاد کرتی ، مگر جتانا چھوڑ دیا ۔ دونوں تھک گئے شاید... کسی نے چھوڑا نہیں، بس وقت کے ساتھ ایک دوسرے سے دُور ہوتے گئے۔"" image uploaded on Dec. 15, 2025, 2:28 p.m. | Damadam
Damadam.pk
Digital Art image
P  : کبھی کبھی رشتے ختم نہیں ہوتے. بس خاموش ہو جاتے ہیں۔ پہلے والی باتیں، وہ روز - 
More images by Pangey.baz.bachii: