ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺳﮑﻮﻥ
ﺟﺐ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍِﻧﺎّ لِلّہ ﻭﺍِﻧﺎّ ﺍلِلّہ ﺭﺍﺟِﻌﻮﻥ.
جیسے بیمار کو آس ہو شفاء کی
ویسے تیرے طلبگار ___ ہیں ہم
محبّت کی بات مت کرو صاحب...
اس لفظ سے__تکلیف ہوتی ہے.
اور کوئی دل میں نہیں آ ئے گا
ختم کر دی ہے محبت تم پر
میں اس شخص کو کیسے مناؤں گا محسن
جو مجھ سے روٹھا ہے میری محبت کے سبب
میری روح کی آواز ہو تم
کہا نا کہ بہت خاص ہو تم
بے لوث وفائیں کوئی ہم سے سیکھے
جسے ٹوٹ کر چاہہ اسے خبر نہ تھی
ہم تو جیتے ہیں اس دنیامیں تیری محبت کے لیے
ورنہ اس دنیا میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں
محبت کا تو پتہ نہیں مگر
انسان نفرت دل سے کرتا ہے
پھر چائے کی ضرورت بھلا کِس کو ہو گی
جب مُیسر تُو ہمیں، صُبح شام ہو گا
اداس راتوں کو دیکھ کر
مجھے محبت پہ ترس آتا ہے
محبت کو عشق اور عشق کو جب جنون ملا
لُٹا کے سب کچھ مجھے تب جا کے سکون ملا
کیا یہی ہے کمال عشق و محبت کرنے کا
عمر جینے کی ہے اور شوق مرنے کا
بڑی بھیانک ہوتی ہیں عشق کی سزائیں
بندہ پل پل مرتا ہے مگر موت نہیں آتی
سمجھ کرمال غنیمت مجھ کو
اس کی یادوں نے بے پناہ لوٹا
میرے سکون کی ابتدا سے لیکر
میری اذیت کی آخری حد ہو تم
اگر تیرا سوال ہوتا کہ سکون کیا ہے
ہم مسکرا کہ تیرے دل پہ سر رکھ دیتے
عشق ہو اور سکون ہو
سنو جناب ہوش میے تو ہو