جب وہ چھوڑ گیا تب دیکھا اپنی آنکھوں کا رنگ
حیران الگ پریشان الگ سنسان الگ بیان الگ
وہ بچھڑا تو کبھی صبح نہ ہوئی
رات ہی ہوتی گئی ہر رات کے بعد
جس کی ہی تھی طلب
ان سے ہی رہی دوریاں بہت
راتوں کا جاگنا ہی ٹھہرا نصیب اپنا
دے کر غمِ جدائی جانے کہاں گئے وہ
کاٹی نہ گئی مجھ سے ہجر کی یہ رات
پھر یوں ہوا کہ زہر پینا پڑا مجھے
بچھڑنے کی اذیت کم ہے تیرے قہقہے سے
میرے کانوں میں ساری عمر یہ ہاہا رہے گا
ہمیشہ کے لیے بچھڑا هے کوئی
جدائی گونجتی هے جسم و جاں میں
کون کہتا گهر گیا تها میں
اس کے جاتے ہی مر گیا تها میں
وہ جارہا ھے چھوڑ کر صاحب
بتاو راستہ دوں یا واسطہ دوں
نہ ہاتھ تھام سکے نہ پا سکے دامن
بہت قریب سے اٹھ کر بچھڑ گیا کوئی
یہ بچھڑنا نہیں اجڑنا تھا
جس طرح سے جدا ہوئے ہم تم
ہوئی تیز دل کی دھڑکن جب کہا اس نے رو کر
مجھے یاد بھی نہ کرنا مجھے یاد بھی نہ آنا
وہ سب الزام میرےنام کرکے
بچھڑنےکابہانہ چاہتےتھے
انہوں نے پوچھا جدا ہو کر خوش ہو
ہم ٹھہرے انا پرست کہا جی الحمدللہ
تمھیں سہنا پڑھے گا دور جدائی کا
میرا کیا میں تو مر جاونگا