وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں
اس کو ہم کیا کھوئیں گے جس کو کبھی پایا نہیں
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ
آئینہ تھا تو مگر قابل دیدار نہ تھا
میں رات ٹوٹ کے رویی تو چین سے سوئی
کہ دل کا زہرمری چشم ترسے نکلاتھا۔
بندگی ہم نے چھوڑدی ہے فرازؔ
کیا کریں لوگ جب خداہوجائیں۔
پھر یوں ہوا کہ ہم صبر کی انگلی پکڑ کر
اتنا چلے کہ راستے حیران رہ گئے۔
کبھی کبھی اپنوں سے ایسا درد ملتا ہے
کہ آ نسو تو پاس ہو تے ہیں مگر رویا نہیں جاتا۔
دل بہلانے کے لیے گفتگو کرتے ہیں لوگ ہم سے
معلوم تو مجھے بھی ہے کہ ہم کسی کو اچھے نہیں لگتے
زہر جب کارگر نہیں ہوتا
لوگ تہمت سے مار دیتے ہیں
وہ جو کہتے تھے کہ مرے گے ساتھ
آج ساتھ چھوڑ گئے وہ سارے
کتنی ظالم ہوتی ہے یہ پل دو پل کی محبت
نہ چاہتے ہوئے بھی دل کو کسی کا انتظار رہتا ہے
سنا ہے محبت کر لی ہے تم نے
اب کہاں ملو گے پاگل خانے یا مہ خانے
حیات کیا ہے ، وفات کیا ہے ؟
تمہار ا آنا ، تمہارا جانا
کسی کے مر جانے سے شروع ہوتی ہے محبت
گویا کہ عشق زندہ دلوں کا کام نہیں
وہ بڑے تجسس سے پوچھ بیٹھا میرے غم کی داستان
میں ہلکا سا مسکرائی اور کہا محبت کی تھی
Es dafa ye mosam ketna achaa hain☕☕