منتظر آنکھ میں پلکوں پہ اتر آئی تھکن
▪▪▪
سامنے آ نہ سکا ۔۔ خواب سجا دے یا رب
دل ناداں۔۔۔۔ جو اگر ڈھونڈے کہاں پائے گا
▪▪▪
کوئی تو نام و نشاں اس کا بتادے یا رب
دل ویراں میں کوئی پھول کھلا دے یا رب ▪▪▪▪
وہ جو تھا دل میں بسا پھر سے ملا دے یا رب ۔۔۔
نجم تیرے لیے پلکوں پہ ستارے رکھے
چاندنی رات میں تیری ہی نشانی ہوگی
نجم معاویہ
تیری زلفوں میں نکھر سکتی ہے شام غم بھی
پھر ترے قرب میں اک اور جوانی ہوگی==
وقت کی راکھ میں جو خواب چھپائے، ان کی
تیری خاموش نگاہوں میں کہانی ہوگی==
تیری پلکوں پہ کوئی بات پرانی ہوگی ==
پھر تری آنکھوں سے اشکوں کی روانی ہوگی
چاند کی گود میں جب رات کی رانی ہوگی
خواب کی وادی میں پھر چپ کی کہانی ہوگی
ہم جو آئیں گے تری شام سہانی ہوگی
گلشن دل میں وہی خوشبو پرانی ہوگی
تم سمجھتے ہو غم بس تمہارے لیے ===
روز و شب کے ستم بس تمارے لیے===
=
ہم پہ آئی جو نہ مشکلیں وہ بتا===
پھر بھی ثابت قدم بس تمہارے لیے ===
=
شور کر سکتے تھے محفلوں میں بھی ہم===
صرف رکھا بھرم بس تمہارے لیے===
=
راستے سب ہیں سنسان، دل میں ہے غم===
پھر بھی ہنستے ہیں ہم بس تمہارے لیے===
=
وقت نے آزمائے ہیں کتنے ستم===
پھر بھی باقی ہے دم بس تمہارے لیے===
=
نجم معاویہ
وہ جب گیا اپنا ایک نشاں چھوڑ گیا
جیسے سوگ میں سارا جہاں چھوڑ گیا
یوں چھوڑ کے بھلا جاتا ہے کوئی کسی کو
جیسے مجھے میرا اک حسیں مہماں چھوڑ گیا
کوئی تو ترک_تعلق کی صفائی ہوگی
ناپتا تولتا رہتا ہوں بہانہ تیرا
اے شخص تری کھوج میں کھویا ہوا شخص
پوچھے گا کسی روز سزاوں کی وجہ بھی
اے وقت کے بے زار سنو میرے جگنو
شب سر پہ ہے تنہائی میں تم ہی ہو سہارا
تم کیا جانو دنیا والو کتنے پیارے لگتے ہیں
دکھ، غم اور مصیبتوں کے ہم آنکھ کے تارے لگتے ہیں 
miss you "" A ""
ہوا میرے یوسف کو پیغام دے دے
کہ بھائیوں کے دل پھر سیاہ ہو رہے ہیں
ہر دور میں رہیں گے نوکر معاویہ کے ●○•
حق بات ہی کریں گے نوکر معاویہ کے●○•
جس راہ پر چلے ہیں اسلام کے سپاہی ●○•
اس راہ پر چلیں گے نوکر معاویہ کے●○•
گستاخ و تبرائی مخلوق جانتی ہے●○•
ہر حال میں لڑیں گے نوکر معاویہ کے●○•
اِس اُمتِ نبی کے مہدی امام ہونگے●○•
تب مقتدی بنیں گے نوکر معاویہ کے●○•
ظلم و ستم کی چکی میں پِس گئے ہزاروں●○•
لاکھوں نئے بنیں گے نوکر معاویہ کے●○•
جیلیں گواہی دینگی اے ظالموں کبھی نہ●○•
حالات سے دبیں گے نوکر معاویہ کے●○•
ہدہد الہ آبادی
ہمارا خلوص، شہر منافقت کی گلیوں میں
شکستہ پا سہی ، مگر سر اٹھا کے گزرے گا
چراغ دل کا، مقابل ہوا کے رکھتے ہیں ***
ہر ایک حال میں تیور بَلا کے رکھتے ہیں***
**
ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری **
جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain