*اچھے لوگ ہونٹوں پہ"سچ" ، چہرے پہ"مسکراہٹ" ، الفاظ میں"دعا" اور آنکھوں میں"ہمدردی" رکھتے ہیں۔*
💕❣️💞
زندگی میں انمول ہوتا ہے وہ ایک شخص جو پھول بھلے نہ لائے مگر آپ کو پھول سمجھ کر کبھی مرجھانے نہ دے!🌹
تیرے دل کے---- آئینے میں
میرا عکس آیا تو کیا کروگے؟
۔
ھزار کوشش پر بھی دل سے
نکل نہ پایا تو کیا کروگے؟؟
۔
مجھے بھلانے کی کوششیں تو
کر رھے ھو -----بڑی وفا سے
۔
مگر ہر بار ہی تیری زباں پہ
میرا نام آیا تو کیا کرو گے؟؟
۔
محبتوں کے ----نقوش انمٹ
نہ مٹ ہی پائیں گے زندگی بھر
میری محبت سے اپنا دامن
چھڑانہ پایا تو کیا کرو گے؟؟
مجھے یقیں ھے تمہارے دل میں
موجود اب بھی ہم کہیں ہیں
انا کی خاطر جو کھو کے ہم کو
سکوں نہ پایا تو کیا کرو گے؟؟
یوں مسکرائے ۔۔ جان سی کلیوں میں پڑ گئی۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔
یوں لب کشا ہوئے ۔۔ کہ گلستان بنا دیا
معیشت داں بھی رازق کی رضا سے بے خبر نکلے
خدا کو ماننے والے خدا سے ہی نڈر نکلے
میں کیسے دعوتِ ایمان دیتا غیر کو ہدہد
درِ دشمن پہ کلمہ گو مدد کے منتظر نکلے
ہدہد
ہم وہ بربادِ حقائق ہیں کہ جینے کے لئے،
خواب کو خواب کی تعبیر سمجھ لیتے ہیں ♥️
لٹیروں نے لُوٹا نگہبان بن کر
مسلط ہوئے ہیں مہربان بن کر
مِرے مُلک کو لُوٹ کر کھاگئے ہیں
یہ گِدھ صفت حیوان انسان بن کر
کھڑے تھے جو اُمت کے غم میں انہیں یہ
گراتے رہے ہیں قدردان بن کر
سدا اہلِ ایمان کی آستیں میں
یہ رہتے رہے یارِ ایران بن کر
یہوددد و نصااااریٰ سے ڈرتے ہیں لیکن
ڈراتے ہیں ہم کو پہلوان بن کر
نہ ہرگز بھروسہ کرے کوئی اِن پِر
یہ کھیتی اُجاڑیں گے دہقان بن کر
یہ دھرتی سے مخلص نہ اُمت سے مخلص
مسلماں کو ماریں مسلمان بن کر
گِلہ کیا ہو اوروں سے ہم خود ہی اِن کو
مسیحا سمجھتے ہیں نادان بن کر
کلام ہدہد
وفا کا پھول بن موسم
کبھی بنجر زمینوں پر
کبھی نادان کی قسمت
کبھی اک ساتھ تینوں پر
مگر آتا نہیں آتا
کہ بے حس کی جبینوں پر
۔
نجم معاویہ
مولا۔۔
ہے زندگی کی کشتی دکھ درد کے بھنور میں
میں حال دل سنانے آیا ہوں تیرے گھر میں
میں خطاوں کا سمندر ہر عیب میرے اندر
نہ روک پایا خود کو عیبوں کے اس سفر میں
بھائی، برادران یوسف کے بھیس میں ہوں
تو کون ساتھ دے گا خود غرض اس نگر میں
احسان کر کے آیا جس سے ابھی ابھی ہوں
وہ تیر مارے گا بھی مجھ کو ابھی جگر میں
محبوب مصطفی کے محبوب رب بتاو
اب کتنا وقت باقی ہو نے کو ہے سحر میں
خاموش میرے لب ہیں خاموش اب قلم ہے
یہ نجم سارے لایا دکھ درد آنکھ تر میں
نجم معاویہ
جن کے دامن پہ غریبی کے نمایاں رنگ ہو
ان سے ہر شخص کنارہ ہی کیا کرتا ہے
نجم معاویہ
بہت وقت کے بعد آتے ہیں تری خاطر
باتیں پھر بھی ہواوں میں کر کے چلے جاتے ہیں
کبھی سوچو تو سہی۔۔ اسی دور میں
اتنی مشکل، اور کہاں سے کر کے سفر آتے ہیں
۔۔
نجم معاویہ
اسے کہنا کہ کہیں بھول نہ جانا ہم کو.....
کہ ملاقات تو اک ہوگی نا محشر میں بھی
نجم معاویہ
.
.
الوداع دمادم
تری یادوں کے جزیرے میں ہی رہنا ہے
کہ اگرچہ وہ ہے دردوں کے سمندر میں بھی
نجم معاویہ
ان سے ناراض ہوا کیا ہوں۔۔۔ وہ منانے کی بجائے ۔۔۔۔
۔
میری سب سے کی برائی ہے۔۔۔۔ وقت بتائے گا ۔۔
۔
نجم معاویہ
شفایاب سانپوں کے کاٹے تو دیکھے ۔۔۔۔۔۔
۔
مگر لا دوا ہیں ڈسے اقربا کے ۔۔۔۔
۔
نجم معاویہ
خوش فہمی میری دیکھیے سمجھا اسے ہی اپنا
۔
جس نے کہیں نہ بات کی اک بار مجھ سے بھی
.
نجم معاویہ
اخلاص کے دئیے کو خوں سے جلایا میں نے
پھر بھی ملا ہے دھوکہ کوئی نہیں کسی کا
ہمدرد و ہمسفر کی جتنی بھی کی ہے کوشش
حالات نے دکھایا۔۔۔ کوئی نہیں کسی کا
اس طلسمی جہاں کے بہروپیوں پہ ہرگز
مت کیجئے بھروسہ کوئی نہیں کسی کا
۔
کہ بھونکے گا وہ دل جس میں صحابہ کی کدورت ہے۔۔۔۔۔
یہ نا جائز سبائی تخم پیدائشی نحوست ہے۔۔۔۔۔۔
مگر اے نجم پھر بھی خوش ہوئے لوگوں کو بولو نا۔۔۔۔۔
ہمیں حافظ کا کیا کرنا محافظ کی ضرورت ہے
۔
نجم معاویہ
ماضی کی سمت اٹُھا کے جو نظَر دیکھو گے
اپنے بوئے ہوئے بیجوں کے شجَر دیکھو گے
جیسے ملتا ہے کبھی صبْر کا پھل، ویسے ہی
اپنے اعمال اِنہی کا بھی اجَر دیکھو گے
آج آنکھیں جو مری تر ہیں بدولت تیری
اپنی آنکھیں بھی کسی اور سے تر دیکھو گے
حُسنِ مغرور تری عُمْر بہت ہی کم ہے
تجھ کو آہیں جو لگی، اُن کا اثَر دیکھو گے
ہجر کی راتِ ازیت میں مجھے ڈھانپنے والے
کیسے تم زندگی میں اپنی سحَر دیکھو گے
چند قطرے جو تجھے لگتے ہیں آنسوں میرے
یہ کبھی زندگی اپنی میں بھنور دیکھو گے
نجؔم کا حال سے بے حال بنانے والے
ہوگا جب یومِ حشَر اپنا حشَر دیکھو گے
نجم معاویہ
تھا عائشہ کا پاک گھر، تو روضہء نبی بنا
۔
وہی کیاری خلد ہے توں بدظنی سے باز آ
۔
نجم معاویہ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain