Damadam.pk
آقا-کے-سپاہی-علی-معاویه-بهائی's posts | Damadam

آقا-کے-سپاہی-علی-معاویه-بهائی's posts:

میں نے کھوئے ہوئے اپنوں کو پکارا جس دم
۔
وقت کچھ وقت مجھ دیکھ کے ہنستا ہی رہا
۔
میں نے پوچھا اے بتا وقت تو ہنس کیوں رہا ہے
۔
تو کہا وقت نے۔۔ ''پاگل" توں تو پھنستا ہی رہا
۔
نجم معاویہ

اپنے اصولوں پہ ہی بڑا سخت ہوں میں
۔
رب جانے یہ کہ بد ہوں یا خوش بخت ہوں میں
۔
اک بات یاد رکھنا مجھے چھوڑنے سے پہلے
۔
جو نجم لوٹ پائے نہ، وہ وقت ہوں میں
۔
نجم معاویہ

درویش صفت لوگ جو اخلاص کے خوگر
۔
وہ شاہوں کی دہلیز کے طالب نہ ملیں گے
۔
ہم اہل محبت تو، محبت کے علاوہ
۔
دنیا کی کسی چیز کے طالب نہ ملیں گے
۔
نجم معاویہ

وقت نے جب جگایا••••• رو پڑے ہم●●
خالی ہاتھوں کو پایا••••• رو پڑے ہم ●●
غافلوں جیسی ہم کو زندگی نے ●●
موت کا رخ دکھایا••••• رو پڑے ہم●●
بھول بیٹھے خدا تک، جس کی خاطر●●
پھر بھی وہ مل نہ پایا••••• رو پڑے ہم ●●
لاکھ قربانیاں جس کے لیے دی●●
اس نے اور آزمایا••••• رو پڑے ہم ●●
غم کے ماروں کا کون جہاں میں ہوگا●●
رب نے اپنا بتایا••••• رو پڑے ہم ●●
بعد ہی ساری دنیا چھوٹنے کے ●●
پیارے رب کو منایا••••• رو پڑے ہم ●●
درد دل، ہجر کے لمحات میں نجم●●
کیسے تونے چھپایا••••• رو پڑے ہم ●●
نجم خاموش ہم تھے رب کے آگے●●
درد، دل نے سنایا••••• رو پڑے ہم ●●
نجم معاویہ

لہجے میں عروج کے، زوال آ گیا___
کہ جب مری حیات پہ سوال آ گیا ___
وہ میرے دشمنوں کا نجم دیکھ تو حشر____
کہ ان بچاروں پہ بھی کیسا حال آگیا____
نجم معاویہ

ہوتے تیرے، انہیں پیغام وفا کے جاتے
پھول، خوشبو، تو کبھی تحفے دعا کے جاتے
تیرے دشمن کے نصیبوں میں کہاں چین ہے نجم
ہوتا محشر تو حشر ان کا دکھا کے جاتے
نجم معاویہ

خدا کی زمیں پر بھلے سوچ کے کیا
خدا بن گئے ہیں یہ بندے خدا کے
نجم معاویہ

سبھی کی سبھی چالیں الٹی پڑیں گی
ہیں جو جو بھی اس وقت شاطر بلا کے
نجم معاویہ

یوں ہی۔۔ بے کار سی۔۔ بے فیض سی۔۔ دنیا میں ہمیں
جینا پڑتا ہے کہ ماوں کے کلیجے نہ پھٹیں

یاد بھی۔۔ یاد کے خزینے بھی
اب آ گئے۔۔ ہجر کے مہینے بھی
مجھ پہ تہمت تراشنے والو
یہ خبر جائے گی۔۔۔مدینے بھی

مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا ہے
صیاد نشیمن کا پتا جان گیا ہے
اب بات تری کن پہ ہے کچھ کر مولا
اک شخص ترے در سے پریشان گیا ہے
یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاو
درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا ہے

میں کوئی شاعر یا مصنف نہیں ہوں نہ ہی اتنا کوئی خاص ہوں، میں تو بہت عام سے بھی عام انسان ہوں،اور نہ ہی میں کوئی بہت زیادہ بہادر شخص ہوں ، میں ایسا ہوں جسے روئیے تکلیف دیتے ہیں جسے تلخ باتیں سونے نہیں دیتے، میں اتنا عام ہوں کہ اگر کوئی مجھ سے اچانک کنارہ کر لے تو سوچتا ہوں آخر میں نے کونسی غلطی کی،ساری زندگی کا پچھتاوا رہ جاتا ہے میں خود کو کوستا رہتا ہوں کہ کہاں کوئی کمی رہ گئی میری طرف سے۔ میں دوسروں کو بہت توجہ سے سنتا ہوں پھر ان سے بھی توجہ کی بھیک مانگتا ہوں۔
میں بہت حساس ہوں اور احساس کرتا ہوں ۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پہ بھی سوچتا ہوں۔میں بہت جلد باتوں میں آ جایا کرتا ہوں،بہت جلدی یقین کر لیتا ہوں میں سب کا مان رکھتا ہوں جبکہ میرا مان توڑ دیا جاتا ہے مجھے اب تو اپنی ذات سے ڈھیر ساری شکایتیں ہیں،

جھوٹ کہتے ہیں کہ آواز لگا سکتا ہے
ڈوبنے والا فقط ہاتھ ہلا سکتا ہے
جن کی عظمت کو خدا خود ہی سلامت رکھے
نجم ایسوں کو بھلا کون ہرا سکتا ہے
نجم معاویہ

یہ جو ہم ہیں نا احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے

سر پر سجائے کوئی یہ تاج تھوڑی ہے
یہ نصیب خاک میں معراج تھوڑی ہے
تھوڑی کرو خوشامد کوئی منہ ہی آ لگائے
تجھ بد نصیب کا کوئی علاج تھوڑی ہے
۔
۔
صابر بھی ہوں بڑا اور ہوں راز خوش نصیباں
میں جواب دوں سبھی کو یہ مزاج تھوڑی ہے
جو جی میں آئے کہ دو۔۔ کہا نجم مسکرا کے
مری جیت تالیوں کی محتاج تھوڑی ہے
نجم معاویہ

مہرباں ہم پہ اہل_کرم ہوں نہ ہوں
دل جلاتے یہ کم درد غم ہوں نہ ہوں
دامن نجم کو پاک رکھنا خدا
فانی دنیا میں چاہے کہ ہم ہوں نہ ہوں
نجم معاویہ
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن

""یاد ماضی""
زخم تو ہمارے بھی پرانے بڑے گہرے تھے
یہ صبر یہ ظرف ہمارا تھا کہ چھپائے رکھا
جن کو قدموں میں بھی کوئی نہ بٹھائے اپنے
ایسے کم ظرفوں کو بھی آنکھوں پہ بٹھائے رکھا
۔
نجم معاویہ

ہم سے مایُوس نہ ہو اے شبِ دَوراں ، کہ ابھی
دل میں کچُھ درد چمکتے ھیں اُجالوں کی طرح

دعا
باطل کے اندهیروں میں چهپی راہ صداقت
جو سب کو دکهائےترے لفظوں کی ضیاء ہو
ہرگز نہ سمجهنا کہ اکیلے ہوں جہاں میں
خوشحال رہو نجؔم .... ترے ساته خدا ہو
نجم معاویہ

صحابہؓ میری زندگی ہیں
صحابہؓ میری دل لگی ہیں
صحابہؓ میری عاشقی ہیں
صحابہؓ عکس نبیﷺ ہیں
صحابہؓ لوگو روشنی ہیں
صحابہؓ سارے جنتی ہیں
صحابہؓ حق کے ولی ہیں
صحابہؓ درس خُدی ہیں
صحابہؓ سارے جلی ہیں
فَدَیْتُ اَبِی وَاُمِیّ عَلٰی تَقْدِیْس الْصّحَابَہ💚✌️