جو لوگ مفادات کے تابع ہیں ازل سے ,
نسلوں سے منافق ہیں منافق ہی رہیں گے ,
چند لوگ ہی باغی ہیں زمانے کی ڈگر سے,
باقی تو زمانے کے مطابق ہی رہیں گے
چلو بدکردار سہی جھوٹے تو نہیں ہیں،
نصیب کسی کے ہم سے پھوٹے تو نہیں ہیں،
حسرتوں کے بوجھ تلے ٹوٹے تو نہیں ہیں،
سنوارے ہیں فقط دل لوٹے تو نہیں ہیں_!!
۔
آج میں بہت خوش ہوں الحمداللہ
المیہ یہ ہے۔۔۔۔ خود غرض مفاد پرست دور میں۔۔۔مجھ جیسے نیک دل انسان سے کوئی بھی بات کرنے آتا ہے۔۔۔ہم بے حد خلوص سے ان کو اپناتے ہیں۔۔ اپنا سمجھتے ہیں۔۔ ان کے خوشیاں و غموں کی فکر کرتے ہیں۔۔۔ ہوتا کیا ہے۔۔۔۔ کچھ لوگ کہنے لگتے ہیں۔۔ کہ ٹھرکی ہو۔۔۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں۔۔ کہ ہمیں پھنسا رہے ہو۔۔۔نادان لوگو اس دور ظلمت میں۔۔دو چار ہی اہل دل انسانیت پرست لوگ ہیں۔۔۔ کہ جن کی یاد آئی گی۔۔ان کے جانے کے بعد

مجھ سے نفرت کی روش تونے جو اپنائی ہے
عقل سے سوچ ذرا تری میری کیا لڑائی ہے
آج بھی دیکھ مرے دل کے عقیدت خانوں میں
گونجتی نجم ترے نام کی مدح سرائی ہے
"نجم معاویہ"
انتہا نہ سہی۔۔۔۔ ابتدا پہ تو ہوں
ہوں اکیلا مگر حق کے راہ پہ تو ہوں
نجم معاویہ
4 march 2021
میں یہ نظم لکھی تھی۔۔ جب عائشہ نامی ایک بہن نے خودکشی کی تھی اس وجہ سے کہ اس کے والدین نے امیر لڑکا دیکھ کر اس سے اس کی شادی کردی تھی۔۔ مگر غریب ہونے وجہ سے وہ طعنے ہر روز نئی ڈیمانڈ سنتی سنتی تھک گئی۔۔۔۔
""عائشہ کی موت پر""
عائشہ کی طرح اور کئی بیٹیاں
چهوڑ کے دار فانی یہ ہیں کہتیاں
میرے بهائی سنو میری بہنا سنو
مجه کو کہنا ہے کیا میرا کہنا سنو
عالم بے سکونی میں آرام چین
میری یہ عرض تم سے بهی ہے والدین
آنکه کهولو ذرا کتنی وہ شاد ہے
دیکه کر مال تم دی جو اولاد ہے
درمیاں ان کے کتنی ہے ملتی خوشی
اور محبت سکوں کتنی ہے دوستی
اہل دل سمجهیں گے میرا درد و بیاں
میں نے دیکها ہے جو کر رہی ہوں عیاں
اہل زر میں خوشی شان دیکهی نہیں
قیمتی مال سے جان دیکهی نہیں
اہل زر تو یہی کرتے رہتے ہیں سب
مال کے حرص میں آگے بڑهتے ہیں سب
دیکهتے یہ نہیں کس پہ آیا قدم
کون سے رشتے ہیں، ان کا کیا ہے بهرم
کس کے ہیں امتی، کس کی مخلوق ہے
مال و زر کی انہیں ہوتی بس بهوک ہے
اہل خانہ سنو آج اپنا مزاج
استخارہ نہیں، دیکهتے ہو رواج
دیکه کر مال تم بیٹیاں دیتے ہو
جب اجڑتے ہیں گهر کیوں بهلا روتے ہو
جو ہوا سو ہوا خیر خواہی سنو
یہ نصیحت وصیت دہائی سنو
بیٹیوں کیلئے، واسطے بیٹوں کے
دیکهنا اہل دیں نہ کے گهر سیٹوں کے
جس کے بهی پاس دین محمد ملا
مفلسی میں بهی گهر وہ چمکتا ملا
اے معلم خطیب و ادیبو سنو
حق پرستو سنو اہل دیدو سنو
کیوں ہیں خاموش اب یہ تمہارے قلم
لب پہ کیوں سکتہ ہے رک گئے کیوں قدم
کل تمہارے عمل سے بسے کتنے گهر
اب تمہیں دیکه کر کتنے اجڑیں گے گهر
وہ پرانی مثالیں خدارا بنو
تم غلام نبی رہنما اب بنو
درس کردار سے دو گے گر فاطمی
لوٹ آئے گی پهر نجم ہر گهر خوشی
نجم معاویہ
اگر یہ نم رہیں آنکھیں خدا نزدیک ہوتا ہے
نہ سمجھے غم جو دوجے کا کہاں وہ ٹھیک ہوتا ہے
حقیقت میں مسلمانی کسی کا غم چرانا ہے
ریا کاری کرے جو بھی بڑا زندیق ہوتا ہے
تو جا کہہ دے وڈیرے سے نہیں آتے سلامی کو
کسی غیور کا نظریں جھکانا بھیک ہوتا ہے
جنوں ہمارا سکوں کی تلاش تک ہی رہا
کوئی ہنر تھا تو فکرِ معاش تک ہی رہا
وہ دیکھتا تو مرے دل میں حیرتیں تھیں بہت
پر اُسکا ظرف مری بود و باش تک ہی رہا
تختہ و تخت میں سےکوئی ایک چنا کرتے ہیں ۔۔۔
ہم عجب شان سے دنیا میں جیا ء کرتے ہیں
توپ کیا چیز ہے بندوق کسے کہتے ہیں
ہم تو ٹینکوں کی صفیں چیر دیا کرتے ہیں
ہمیں اس وقت سے ملتا ہے شہادت کا سبق ۔۔۔
ماؤں کی گود میں جب دودھ پیا کرتے ہیں
#منتظر لوگو
۔
منتظر لوگو۔۔! رو کے دکھاوں گا میں
ایک دن جا کے رب کو بتاوں گا میں
ظلم سب کا مجھے یاد ہے اس طرح
بھول کر کوئی بھی نہ بھلاوں گا میں
زخم تازہ چھپائے ہوئے سینے کے
خالق قلب کو تو دکھاوں گا میں
میری میت پہ آکے نہ کر معزرت
عدل میزان پر ہی بلاوں گا میں
نجم خاموش سب تری باتوں پہ
جو شکایت ہے رب کو لگاوں گا میں
نجم معاویہ
ترے دل میں تکبر ہے جائداد کا
مری ہر حلق کاٹا ہے فریاد کا
بددعا ہے تجھے نجم کی بس یہی
رب دکھائے تجھے درد اولاد کا
نجم معاویہ
کیسے بے چین ہیں جو ہم کو بھلا دیتے ہیں
ہم کہاں۔۔۔۔ وہ تو بھلا اپنا بھی خدا دیتے ہیں
وہ تو لکھتے ہیں کہ خوش ہیں پر انہی کے آنسوں
دیکھو تو سہی گر کے انہی کا ہی جھوٹ مٹا دیتے ہیں
چاہے جتنی بھی وفا نجم کرو کم ظرفوں سے
جلدی اقات وہ اپنی ہی دکھا دیتے ہیں
مقدس شب مبارک شب میں بھی تیری یوں شامت ہے
لب مظلوم پہ تیری ارے ظالم شکایت ہے
وطن کی حرمت پہ جان دیتی غزہ کی بیٹی یہ پوچھتی ہے
تم ابن قاسم کے جائے گھوڑوں کی سرد زینوں کا کیا کرو گے
نجم بات مختصر
مریض بغض بوبکر
نہیں پسند جنہیں عمر
غنی پہ جس کی بد نظر
۔
علی سے دور وہ بشر
قرآن کھول کھول کر
بتا گیا نگر نگر
جری جوان ذیقدر
حق نواز حق نواز حق نواز حق نواز تھا
۔
یوم شہادت
22
فروری
یہ نظم میں نے تقریبا تین سال پہلے لکھی تھی۔۔۔ یہ نظم کم ہے۔۔ درد دل زیادہ ہے۔۔۔ جس کا نام میں نے انتخاب کیا تھا۔۔۔بے رحم دنیا
... بے رحم دنیا...
سنو یہ ٹهیک کہتے ہو
تمہیں میں چهوڑ جاوں اب
یہاں تک بات نہ ہو ختم
تمہیں میں بهول بھی جاوں
نئی دنیا بسانے کے
نئے پهر خواب دیکهوں میں
کسی کو زندگی میں اب
ہی لانا ہے نہیں لانا
کسی کا ہاته مانگوں میں
کسی سے شادی بهی کر لوں
سنو یہ تهیک کہتے ہو
میں ایسا بهی اگر کر لوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain