#2 ارادہ بهی اگر باندهوں
نئی دنیا بسانے کا-----
مگر اک بات کہنی ہے
زرا انصاف تو کر دو
جو میں نے اس محبت میں
لٹایا ہے بدن اپنا
یہ تن اپنا یہ من اپنا
وہ راتوں کی بهی ہیں نیندیں
وہ آنسوں بهی وہ آہیں بهی
وہ گزرے بهوک میں جو دن
وہ گزری پیاسی جو گهڑیاں
مری حالت بگڑنے تک
مرا جیون اجڑنے تک
بتائیں وہ سزا جو بهی
نہ میں نے کاٹی ہو پل پل
جدائی آگ ہے جس میں
میں جلتا ہی رہا برسوں
تڑپتا ہی رہا برسوں
مچلتا ہی رہا برسوں
بچا کچه نہ سوا تیرے----
#3
بڑی آسانی سے خود کو
جدا مجه سے اگر کرنا
تو سن رب سے زرا ڈرنا
لٹا دینا بدن میرا
وہ تن میرا وہ من میرا
وہ شب کی نیند راحت بهی
وہ آنسوں ہیں گرے جتنے
ہوا محروم کهانے سے
بنا پانی گزارے دن
نہ مردہ جسم میرا دو
سلامت دو مرا دل بهی
بتاو کر سکو گے یہ---
اگر یہ کرسکے تم، تو
اجازت ہے چلے جانا
وگرنہ بات یہ سن لو
تمہیں رب سے ڈراتا ہوں
جزا کے دن سے ڈر جاو
جہاں تاویل کوئی بهی
نہیں کچه کام آ سکتی
#4بہانے کام آئیں گے
نہ اپنوں کی سفارش بهی
مرا رب پوچه لے گا یہ
کہ تم نے جو اجاڑی ہے
ذی جاں روح زندگانی ہے
جسے سمجها تها لاوارث
مرا بندہ پیارہ تها
نہیں تم نے سنا یہ تها
کہ کتے پیاسے کو پانی
پلانے پر ملی بخشش
مری بلی جو بهوکی تهی
جسے عورت نے باندها تها
تو عورت کو سزا دے کر
دکهایا تها بتایا تها
کسی حیوان پر ہرگز
نہ کوئی ظلم تم کرنا
مگر تم نے ازیت دی
بشر تها ابن آدام تها
کسی کا بهائی پیارہ تها
کسی ممتا کا تارہ تها☆☆نجم معاویہ
توں آن لین ہو کے بھی چپ چاپ چلا جائے گا۔۔۔
یعنی متلاشی جرم کو در رب کا دکھا جائے گا
ہم سن لیتے ہیں تری دھڑکن دل کی صدا کو۔۔۔
جہاں مشکل سے کرتے ہیں لوگ یاد خدا کو
شام ہوتے ہی دل ہے ڈھڑکتا بہت
ہے مچلتا بہت... ہے تڑپتا بہت
یاد کر کے تمہیں... راہ ہے تکتا بہت
منتظر سامنے تجھ کو پاتا نہیں
جب ترا کوئی پیغام آتا نہیں
پھر جو اندیشہ اک ہے کھٹکتا بہت
قلب پر جس سے چھاتا ہے سکتہ بہت
منتظر دل کا دم ہے نکلتا بہت
ہے سلگتا بہت... ہے بلکتا بہت
.......
کہ بُھلا نہ دیا ہو
.......
نجم معاویہ
تری خواہش پہ میں اگر جان بھی دے دوں
تو تو پھر بھی یہ کہے گا کہ مرا نہیں، موت آئی ہے
الوداع دمادم
نظر بد جس نظر کا نام ہے
جان جاں تیری اس نظر میں ہوں





نجم معاویہ
میں تو مثل خاک خود کو ہوں سمجھتا نجم، بس یہ
چاہنے والوں سے پوچھو کس لئے انمول ہوں میں
نجم معاویہ
☆☆☆☆غزل☆☆☆☆
دل کی ہر بات بتا سکتے ہو
زخم اپنے بھی دکھا سکتے ہو
کون تھا روپ میں اپنوں کے بگانہ
راز سے پردہ اٹھا سکتے ہو
جس نے بُھولا ہے نہیں، چھوڑا ہے
اس سے اور کتنا نبھا سکتے ہو
وہ ہے اک غم کہ خوشی میں بھی تم
چاہ کر بھی نہ بھلا سکتے ہو
گرزمانہ نہیں سنتا نہ سنے
داد رب کو تو سنا سکتے ہو
کانٹے راہ سے نہ ہٹا پائے اگر
ان سے دامن نہ بچا سکتے ہو
بیٹھے آنکھوں پہ گرے لوگوں کو
نجم قدموں میں گرا سکتے ہو
نجم معاویہ
حسن ظن میں چھپی ہیں کئی برکات
بد ظنی کے ملے ہی برے اثرات
نجم پڑھ کے حدیث آقا دیکھ
انماالاعمال بن النیات
بے وفا کیوں کہوں باوفا ہوں گے وہ
شب کی آہٹ میں اک دن ضیاء ہوں گے وہ
حسن ظن ہے سبھی کیلئے آج بھی
دور ہو کے بھی دیتے دعا ہوں گے وہ
نجم معاویہ
تیری آنکھوں میں یہ جو نمی ہے
اک وجہ حسن ظن کی کمی ہے
نجم معاویہ
ہمارا رستہ ضرور تنگ ہے
کہ خواہشوں سے ہماری جنگ ہے
مگر تبسم ہمارے سنگ ہے
عدو کو دیکھو بڑا ہی دنگ ہے
نجم معاویہ
یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ نے آنا ہے چلے جانا ہے
میں نے دل اپنا تری خاطر ہے سجایا کتنا
۔
نجم معاویہ
۔
ان کی قسمت پے تالے ہی
بدبختی کے حوالے ہیں
مرے پیر معاویہ پے
جو بھونکتے کالے ہیں
نجم معاویہ
سیاست سے نفرت سدا میں کروں گا
نہ ہر گز کبھی یہ گناہ میں کروں گا
نجم معاویہ
ہزاروں رنج و الم کو اپنے میں سامنے لا کر ہمیشہ
لگاتا ہوں مسکرا کے سینے کمال اس سے بڑا کیا ہے
میں خواب و خیالوں میں رہنے والا عجب بشر ہوں کہ بے بسی میں
تمہاری رب کو شکائیتیں گر لگا بھی دوں تو کیا کرو گے
۔
شب بخیر
میں یاد کرتا ہوں روز تم کو ۔۔۔صبح سویرے یا شام، شب ہو
خدا کرے نہ کبھی ہو ایسا، اگر تمہیں بھلا بھی دوں تو کیا کرو گے
اے یار میرے عزیز میرے، ہوں کس قدر میں عزیز تم کو...؟
کبھی جو مشکل گھڑی میں تم کو۔۔۔۔ صدا بھی دوں۔۔۔۔۔ تو کیا کرو گے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain