اداس دل کی۔۔۔ اداس باتیں۔۔۔ بتا بھی دوں۔۔۔ تو کیا کرو گے
ہیں میرے دل پر جو زخم گہرے۔۔۔ دکھا بھی دوں۔۔۔ تو کیا کرو گے
ہیں کون اپنے۔۔۔ ہیں غیر کتنا۔۔۔ یہ راز رہنے دو پاس میرے
اگر میں سب رازوں سے پردہ۔۔۔۔ اٹھا بھی دوں۔۔۔ تو کیا کرو گے
حیا کا سرمہ لگا کے آئے
وفا کی مہندی سجا کے آئے
خدا سے ہردم یہی دعا ہے
اسی سے مجه کو ہی بس ملائے
نجم کیسے ہے گزاری شب ہجراں تونے
لوگ جائیں گے کہاں ایسے زمانے آئے
گامزن میں نے انہیں راہ خدا دیکها ہے
حب دنیا سے جنہیں جتنا جدا دیکها ہے
.
میں نے دیکها ہے غریبوں کو بهی شاہی میں
وقت کے شاہ کو در در پہ گدا دیکها ہے
.
میں نے دیکهی ہے اے حاتم وہ سخاوت تیری
تونے عثماں سا کہاں جود و سخا دیکها ہے
.
تم بنے کوفی ہو کربل بهی سجاو، لیکن
میں نے بهی ابن علی ڈٹ کے کهڑا دیکها ہے
.
کیسے مشفق تهے نبی، وادئ طائف میں نجؔم
کها کے پتهر بهی جنہیں محو دعا دیکها ہے
نجم معاویہ
کتنے ہونٹوں سے تبسم کے جنازے لیکر
وقت , ہر روز , دبے پاؤں گزر جاتا ہے😔
اک عاشق رسول کا روضئہ رسول پر پڑها گیا کلام
.
.
عطا قدموں میں ہو دائم حضوری ، یا رسول اللہ
ہے اب ناقابل برداشت دوری ، یا رسول اللہ
عنایت ہو اگر اک لمحہ ، اپنی خاص خلوت کا
مجھے اک عرض کرنی ہے ضروری ، یا رسول اللہ
اجازت ہو تو کچھ چشمان تر سے بھی بیاں کر لوں
ابھی ہے داستان غم ادھوری ، یا رسول اللہ
میری غایت تمنا ہے ، در اقدس کی دربانی
زہے عزت ، اگر ہوجاۓ پوری ، یا رسول اللہ
مدینے میں ہی آکر راحت و تسکین پاتی ہے
دل فرقت زدہ کی ناصبوری ، یا رسول اللہ
دم رخصت نفیس اشکوں سے تر ہے رحم فرماؤ
خدارا اک جھلک ہلکی سی ، نوری ، یا رسول اللہ
(صلى الله على خير خلقه سيدنا محمد و آله و أصحابه وسلم)
[كتاب:نفائس النبی صلی اللہ علیہ وسلم:۳۲]
جسے موت رعایا پہ غم نہ ہو
وہ دهرتی کا سلطان ہی نئی
تم مانتے جن کو لیڈر ہو
یہ لیڈر کیا...انسان ہی نئی
یہ ظلم و جفا کے عادی ہیں
جو دیکها ہے ..یہ پہچان ہی نئی
یہ بڑه کے اس سے پہلے بهی
بنے آدم خور.. حیوان ہی نئی
.
****** نجم معاویہ*********
فرعون تها ایک .. یہاں کتنے خدا ہیں
دشمن ہی سبهی ان کے تو اہل وفا ہیں
یہ ظلم مقدر میں لکها ان کے سیاہ ہے
آواز نہیں دبتی.. دبا دیتے گلا ہیں
........................
نجم معاویہ
........................
آہ ارشد شریف آہ
مصروف ہیں تو کیا ہوا... خواب و خیال تیرا ہے
مرا دل پابند حکم ہر حال تیرا ہے
نجم معاویہ
اس دور کے اندهیروں کو
کوئی سمجهائے ان بہروں کو
تمہاری ظلمت سے کوئی فرق نہیں پڑتا
صبح کے پرنور چمکتے سویروں کو
ترے ساته جو جو ہوئی بسر رات اچهی تهی
کچه دن کی تهی مختصر ملاقات اچهی تهی
اس نے چهوڑتے وقت نجم گویا یوں کہ دیا
جگنو دن کو کرتے گر سفر بات اچهی تهی
**********نجم معاویہ*********
ہم نے کیا شان آقا بتانی ہے
اس کی کائنات کل دیوانی ہے
پڑه تو الحمد سے والناس تلک
کی خدا نے بهی نعت خوانی ہے
صلی اللہ علیہ والہ وبارک وسلم
...نجم معاویہ....
🌹🌷🌹🌷🌹🌷تازہ نظم🌹🌷🌹🌷🌹🌷
میلاد منائیں گے... آقا کو منائیں گے
اپنی زندگی کو سنت سے سجائیں گے
قلب اپنے میں ضربیں اللہ ہو لگائیں گے
فرض نمازوں کو شیوہ ہم اپنا بنائیں گے
بے کس، و غریبوں کا دل ہم نہ دکهائیں گے
حقداروں کے ہم ہر گز نہ حقوق کهائیں گے
ہم دوده بیچتے وقت نہ پانی ملائیں گے
نہ جهوٹ سے اب کوئی گاہک پهنسائیں گے
بے ہودہ کسی کا ہم نہ مزاق اڑائیں گے
ہر ایک گناہ سے ہم اب باز آئیں گے
یوں نجم معاویہ ہم اللہ کو بهائیں گے
میلاد منائیں گے... آقا کو منائیں گے
**************نجم معاویہ**********
دل میں ہر ایک جو درد چهپایا میں نے
یار کے نام پہ ہی چین لٹایا میں نے
پر مجهے وہ دیکه کے اب پهیرے گا منہ اپنا
یارو جس کیلئے یہ حال بنایا میں نے
منگتے کو شاہ...شاہ کو تو کر گدا دے
مچهر ضعیف سے ہی نمرود کو مرا دے
فرعون کو ہی لشکر کے ساته تو بہا دے
یوسف ہو قید میں تو شاہ مصر بنا دے
تو ذات الصمد ہے..قسمت مری جگا دے
سرکار کا مدینہ تو نجم کو دکها دے
مری مشکل کو...اے مشکل کشا
حل فرما دے... اے میرے خدا
میں ہوں کمزور بندہ ترا
میرا کوئی نہیں مولا تیرے سوا
___________اے رب__________
نہ پوچهے سوا نیک کاروں کے گر توں
_________________________
کہاں جائے بندہ گناہگار تیرا
_________________________
شورش مری نوا سے خفا ہے فقیہ شہر
لیکن جو کر رہا ہوں.. بجا کر رہا ہوں میں
اللہ حافظ
تری چاہت کے جو دیے..جلائے تهے کبهی میں نے
مرا دل آج تک ان سے مسلسل جل رہا ہے اب
..
نجم معاویہ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain