Damadam.pk
آقا-کے-سپاہی-علی-معاویه-بهائی's posts | Damadam

آقا-کے-سپاہی-علی-معاویه-بهائی's posts:

نظم
جو ہمسفر بنے
تو راہ میں چهوڑ دے
جو وعدے منزلوں
کے راہ میں توڑ دے
جو جهوٹے لفظوں سے
وفا کو موڑ دے
اسے کہنا ہی بشر
بشر کی توہین ہے
مری نظر میں تو
وہ سانپ_ آستین ہے
نجم معاویہ

بهائی عمر کہتے ہیں، کہ
سن..! بات مختصر ہے
عمرِ عمر... عمرؓ ہے
✏نجم معاویہ

ماہر ہو بہت ماہر ہو اپنے فن میں
قبرستان بنا گئے ہو میرے من میں

تازہ لکهی
مناجات
روح کو سکون دل کو قرار چاہیے
یا رب مجهے بهی آپ کا پیار چاہیے
مرے قلب سے نفاق کو دور کر دے تو
مری سوچ کو ہوس سے فرار چاہیے
شب دو بجے مجهے اٹهنا نصیب کر
سجدے میں رونا زارو قطار چاہیے
دن گزرے روزے میں تو شب قیام میں
مرے لب پہ آپ کے اذکار چاہیے
ہر سمت چل پڑی ہے خزاں حب دنیا
مجهے فکر آخرت کی بہار چاہیے
محشر میں میں کهڑا ہوں گناہگاروں میں
مجه کو شفاعت سرکار چاہیے
مجهے دور دور تک اپنا نظر نہ آیا
مرے ٹوٹے قلب کو معمار چاہیے
بے حس زمانے میں تری شان کن کے صدقے
میں سوالی نجم ہوں غمخوار چاہیے
نجم معاویہ

اپنوں میں چهپے بیگانے بهی ہوتے ہیں کئی بار
جیسے چهپے ہوئے ہوتے ہیں پهول کے پیچهے خار
نجم معاویہ

حال دل اپنا بتائیں تو بتائیں کیسے
دل میں جو آگ لگی ہے وہ بجهائیں کیسے
وہ جو اوروں کو جگانے کے لیے آیا تها، وہی
خواب غفلت میں پڑا ہو تو جگائیں کیسے
جام دینے کو جو آیا ہو خودی کا سب کو
وہی طالب ہو اگر اس کو پلائیں کیسے
آئینے بیچتا پھرتا ہے جو بچپن سے یہاں
اس کو چہرے پہ لگی دهول دکهائیں کیسے
خواب میں عید کا جو چاند ہے دیکها ہم نے
جاگ کر عید کا تہوار منائیں کیسے
جو یہ کہتا تها تیرے ساتھ ہوں سائے کی طرح
وہ کڑی دهوپ میں گم ہو تو بلائیں کیسے
نجم اشعار ترے قلب کے ان بہروں کو
ہم سنانا بھی جو چاہیں تو سنائیں کیسے
نجم معاویہ

کون کرے گا پیار کچه نئی کہ سکتے
کون کرے گا وار کچه نئی کہ سکتے
لوٹنے والوں میں شامل ہوں گے کون
اپنے یا اغیار کچه نئی کہ سکتے
بعد محبت کون کرے گا پہلے ہی
الفت کا اظہار کچه نئی کہ سکتے
کون رہے گا کل کو زندہ کون مرے گا
خادم یا سردار کچه نئی کہ سکتے
راہ الفت پہ چلنے والوں کو
پهول ملیں یا خار کچه نئی کہ سکتے
رات کو جاگتے تیرے لیے ہیں پر وہ
عشاق ہیں یا فنکار کچه نئی کہ سکتے
نجم ترے اشعار سمجهنے کیلئے
آسان ہیں یا دشوار کچه نئی کہ سکتے
نجم معاویہ

آنسوں مظلوموں کے رنگ لائیں گے..ایک دن
آندهی بن کے وہ چها جائیں گے...ایک دن
لوگو رہنا گواہ...

قریب جو یہ عید آئی ہے.
پہلے کونسی منائی ہے
پہلے کونسی منائی ہے
تیری یاد میں رہے.........
آنسوں آنکهوں سے بہے..
تیری کها گئی قسم جدائی ہے
.
میری یاد تمہیں نہ آئی
تیرے نام پہ زندگی لٹائی
خود منصف بن یا ورنہ
ہل جائے گا عرش الہی
.
میرا دیکه نہ ہنستا چہرہ
میرا جان جو درد ہے گہرا
میں نجم قلم سے اپنے
زندگی کا دکها دوں اندهیرا
نجم معاویہ

نیو نظم..!
قریب جو یہ عید آئی ہے
پہلے کونسی منائی ہے
پہلے کونسی منائی ہے
تیری یاد میں رہے.........
آنسوں آنکهوں سے بہے...
تیری کها گئی قسم جدائی ہے
تیرے بعد جو آئی عید
جب پہنچی صبح نوید
ہو شادی یا ہو میلے
تجهے تکتی رہی مری دید
تیرے بعد خدا ہے گواہ
میرا سب کچه لٹ بهی گیا
میری سانسیں جب تک باقی
نہ ہوں گا تجه سے خفا

تم بهول جاو گے پر...مجهے یاد دلاتا رہے گا.......
23
مارچ
.j1

جب سے ہم عشق و محبت میں گرفتار ہوئے
محفلیں چهوٹ گئی گوشئہ دیوار ہوئے
پوچها اتنا ہی گیا، کیسے ترا حال ہوا
حال اپنا بهی بتانے سے ہی بے زار ہوئے
واہ واہ کرنا تو آسان ہے یہ مجه سے پوچهو
کیسے جاری ہی مری لب سے یہ اشعار ہوئے
خون تعمیر میں جس کی ہی لگایا برسوں
دیکهتے دیکهتے مینار وہ مسمار ہوئے
نجم سب چهین کے وہ کہتے مسلسل یہ ہیں
نیند کرتے ہی رہو کس لیے بیدار ہوئے
نجم معاویہ
ڈیرہ غازی خان

میری تمام بہنوں کو ایسی شان دے خدایا
اسلام سے ملے رتبے کی پہچان دے خدایا
شیطان سے بهی ہو اور پناہ ہو اپنے نفس سے
تقوی کی چادر ان پہ ایسی تان دے خدای
ا
اس دور بے حیائی فضائے فحاشی میں
ماں فاطمہ سا شرم و حیاء ہر آن دے خدایا
اپنے حقوق بارے وہ کیوں مایوس ہوئی ہیں
سورة نسا پڑهیں وه حب قرآن دے خدایا
ہے نجؔم کی طرف سے دعا دربار پاک میں
کامل تمام بہنوں کو تو ایمان دے خدایا
نجم معاویہ

مرا دکه فقط کیوں میرا کچه بولو نا خدارا
ترا واسطہ تها گہرا کچه بولو نا خدارا
وہ رات ہجر کی تو کب سے گزر گئی
پهر کیوں ہے یہ اندهیرا کچه بولو نا خدارا
تکلیف سے بهی بڑه کے تکلیف دے گا مجه کو
خاموش تیرا چہرا کچه بولو نا خدارا
اپنے لہو سے روشن شمع جہاں کروں
ہوئے گا کیا سویرا کچه بولو نا خدارا
مرا ٹوٹا نجؔم پهر سے کیا بن سکے گا دل
ترا خوشنما بسیرا کچه بولو نا خدارا
نجم معاویہ

عورت دیکهی ہے مرد دیکها ہے
دو چہروں میں ہر فرد دیکها ہے
فقط دسمبر کو سرد کہنے والو
میں نے مارچ بهی سرد دیکها ہے
نجم معاویہ

گر صدموں میں نہیں گرتا
کیسے شان صحابہ لکهتا
ہاں
کیسے شان صحابہ لکهتا
زرخرید قلم دیکهے
تونے جهکتے علم دیکهے
مرا پرچم فلک جیسا
مرا قلم بهی نہیں بکتا
گر صدموں میں نہیں گرتا
کیسے شان صحابہ لکهتا
قرآن کے پاروں میں
مدنی کے اشاروں میں
تعریف صحابہ ہے
تکریم صحابہ ہے
سن رب جو نبی لکهے
وہ ہرگز نہیں مٹتا
گر صدموں میں نہیں گرتا
کیسے شان صحابہ لکهتا
نجم معاویہ

سکوں بهلا دیا تها سرد راتوں میں جاگے
تری نظر میں ہیں جو آج اس قدر بیگانے
نجم معاویہ

آہ مرا ضبط آزماتے ہیں
جب بهی وہ لمحے یاد آتے ہیں
تیری صورت وہ تیری پیاری باتیں
مسکرا کے مجهے رلاتے ہیں
نجم معاویہ

ستا کے چهوڑنا، رخ موڑ تو گئے ہو، پر
چهپاو گے کہاں انجام اس کہانی کا
نجم معاویہ

تو بحر بیکراں، تو مان ہے روانی کا
تجهے کہاں میں ہوں مطلوب گهونٹ پانی کا
نجم معاویہ