جو وہ دے گیا کیا وہ درد تھا
اگر درد تھا تو کمال تھا
نہ میں جی سکی نہ میں مر سکی
یہ کمال کیسا محال تھا
بقائے ذات کے اک دور لازوال میں ہوں
مجھے نہ چھیڑو کہ میں لمحہ وصال میں ہوں
جو سجائے رکھتے ہیں ہونٹوں پہ ہنسی کی کرن
نہ جانے روح میں کتنے شگاف رکھتے ہیں
اسے کہنا کہ یہ تم ہی تھے
جس سے ہم کو محبت ہو گئی تھی
ورنہ ہم خود ہی گلاب ہیں
کسی سے خوشبو کی تمنا نہیں رکھتے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain