بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ۔وہ گاؤں کی گلیوں میں پیپل پرانا۔وہ باغوں میں پیڑوں پہ ٹائر کے جھولے۔وہ بارش کی بوندوں میں چھت پر نہانا۔وہ املی کے پیڑوں پہ پتھر چلانا۔جو پتھر کسی کو لگے بھاگ جانا۔چھپا کر کے سب کی نظر سے ہمیشہ ۔وہ ماں کے دوپٹے سے سکے چرانا۔وہ سائیکل کے پہیے سے گاڑی بنانا۔بڑے فخر سے دوسروں کو سکھانا۔وہ ماں کی محبت وہ والد کی شفقت ۔وہ ماتھے پہ کاجل کا ٹیکا لگانا۔وہ کاغذ کی چڑیا بنا کر اڑانا ۔وہ پڑھنے کے ڈر سے کتابیں چھپانا وہ نرکل کی قلموں سے تختی پہ لکھنا ۔وہ گھر سےسبق یاد کر کےنہ جانا۔وہ گرمی کی چھٹی مزے سے بتانا۔وہ نانی کا قصہ کہانی سنانا۔وہ گاؤں کے میلے میں گڑ کی جلیبی وہ سرکس میں خوش ہو کے تالی بجانا۔یہ نفرت کی آندھی عداوت کےشعلے یہ سیاست دلوں میں ذہر ہو گئی ہے