Damadam.pk
A_k_47's posts | Damadam

A_k_47's posts:

A_k_47
 

خدا سے مانگا ہوا تھا جسے اٹھا کے ہاتھ
گیا ہے آج بڑے زعم میں چھڑا کے ہاتھ
تمہیں کہا بھی تھا رنجش طویل مت کرنا
چلے گئے ہیں نا اب فیصلے انا کے ہاتھ
جدید عشق کریں گے قدیم طرز سے ہم
پیام بھیجا کریں گے اسے ہوا کے ہاتھ
تلافی ہوتی نہیں بعد میں خساروں کی
کسی کے ہاتھ میں دیتے ہیں آزما کے ہاتھ
بتا دیا تھا مجھے چھوڑنے سے قبل اس نے
ہٹایا پشت سے اس نے مری بتا کے ہاتھ
حواس باختہ یوں ہی تو پھر نہیں رہے ہیں
لگے ہوئے ہیں ہمیں ایک بے وفا کے ہاتھ
کسی کے واسطے دل میں ہو احترام تو پھر
سلام لیجیے اس سے بھلے ملا کے ہاتھ
کہاں اٹھانا ہے کس کو کہاں گرانا ہے
یہ فیصلے ہیں سبھی کے سبھی خدا کے ہاتھ

A_k_47
 

اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا
ابھی نئی وادیوں، نئے منظروں میں رہ لو مگر میری جاں
یہ سارے اک ایک کر کے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا
جو شام ڈھلتے ہی اپنی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹتے ہیں
اگر وہ پنچھی کبھی کوئی داستاں سنائیں تو لوٹ آنا
نئے زمانوں کا کرب اوڑھے ضعیف لمحے نڈھال یادیں
تمھارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا
میں روز یونہی ہوا پہ لکھ لکھ کے اس کی جانب یہ بھیجتا ہوں
کہ اچھے موسم اگر پہاڑوں پہ مسکرائیں تو لوٹ آنا
اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمھارے ساتھی
اور اپنی خاطر ہی اپنے اپنے دیے جلائیں تو لوٹ آنا
مری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار پنستا تھا کھلکھلا کر
بچھڑنے والے مری وہ باتیں کبھی رلائیں تو لوٹ آنا۔ ۔

A_k_47
 

ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا !
ہمارا چہرہ بَھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
سُنا ہے' آدمی مر سکتا ہے' بچھڑتے ہوئے
ہمارا ہاتھ چُھوؤ ' سرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے
ہمارے رخ پہ کہِیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا !

A_k_47
 

مضمون محبت کے ، شمارے میں پڑھا ھے
اک وردِ مسلسل جو خسارے میں پڑھا ھے
کنکر سے ابابیل ، گِرا دیتے ہیں ہاتھی
میں نےیہ ابھی تیسویں پارے میں پڑھا ھے
یہ رسمی تعارف بھی ضروری تھا مگر دوست
پہلے بھی کہیں آپ کے بارے میں پڑھا ھے
حیرت هے کہ ہم چار برس مل نہیں پائے
دونوں نے اگر ، ایک ادارے میں پڑھا ھے
آواز اٹھانے سے بھی ، سُنتا نہیں کوئی
میں نے یہ سبق آج اِشارے میں پڑھا ھے
دن پھر سے گزرنا نہیں اچھا تیرا کومل
اخبار کے اِک بُرج ستارے میں پڑھا ھے

A_k_47
 

تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا
ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا
دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا
چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے
کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا
تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا
مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے
مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا
دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے
ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا
نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے
کھلے نہ آنکھ میری عمر بھی دعا کرنا

A_k_47
 

میرے لکھے ہوئے ہر لفظ کی تفسیر میں آ
میرے جملوں میں بکھر، آ میری تحریر میں آ
میں آنکھیں موند کر بھی جلوے تیرے دیکھا کروں
میری نیندوں کے نگر، خوابوں کی تعبیر میں آ
میرے چہرے میں نظر آئیں مجھے تیرے نقوش
میرے رنگوں میں ابھر، آ میری تصویر میں آ
میں ٹوٹ ٹوٹ کر بنتا رہوں کہیں تجھ میں
میری تخریب کے سفر، میری تعمیر میں آ
اپنے ہاتھوں کی لکیریں سبھی بدل ڈالوں
میری قسمت میں اتر، آ میری تقدیر میں آ
میں کہوں "کن"، تو "فیکون" سا وہ ہو جائے
میری باتوں کے اثر، لہجوں کی تاثیر میں آ
ہو کوئی نظم کہ غزل، تیرے ہی نام سے ہو
کبھی غالب، کبھی ظفر، تو کبھی میر میں آ

A_k_47
 

اے بادِ خُوش خَرام ، تُمہاری وجہ سے ھے
پُھولوں کا اَحترام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
پِھرتے ھیں اَپنے کام سے ٫ بَستی میں بادہ خُوار
ھَم کو بھی ایک کام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
ھَر طَاق میں چَراغ ھے ، ھَر شاخ پر گُلاب
کس دَرجہ اھتمام ، تمہاری وجہ سے ھے۔
تَکریمِ رَھگزار ٫ تُمہارے ھی دَم سے تهى
تزئينِ فَرش و بام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
تم خُوش ھُوئے تو ھو گے ٫ کہ اَب سارے شہر میں
رُسوا کِسی کا نام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
چاھو تو نبض روک لو ، اے لَمسِ خُوشگوار
گردش میں یہ نظام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
ورنہ چَمن میں کیا ھے ٫ کہ ھم تَبصرہ کریں
یہ کاوشِ کَلام ، تُمہاری وجہ سے ھے

A_k_47
 

ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا
میں پیشہ ور فریبی ہوں، محبت کر نہیں سکتا
میں تم سے صاف کہتا ہوں، مجھے تم سے نہیں الفت
فقط لفظی محبت ہے، میں تم پہ مر نہیں سکتا
محبت کی مسافت نے بہت زخمی کیا مجھ کو
ابھی یہ زخم بھرنے ہیں، میں آہیں بھر نہیں سکتا
یہاں ہر ایک چہرے پر الگ تحریر لکھی ہے
میری آنکھوں میں آنسو ہیں، ابھی کچھ پڑھ نہیں سکتا
میں اپنی رات کی زلفوں میں خود چاندی سجاتا ہوں
میں اس کی مانگ میں وعدوں کے ہیرے جَڑ نہیں سکتا
" بھلے جھوٹا منافق ہوں، بہت دھوکے دئیے، لیکن
محبت کی صدا ہوں میں، میں دھوکا کر نہیں سکتا "
میں اس گھر کا مقیمی ہوں، جسے اوقات کہتے ہیں
میں اپنی حد میں رہتا ہوں، سو آگے بڑھ نہیں سکتا
ابھی کچھ شعر رہتے ہیں، مگر لکھنے نہیں ہرگز
کسی کی لاج رکھنی ہے، سو ظاہر کر نہیں سکتا.

A_k_47
 

اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا
پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملا
اس کا انداز تغافل تھا خداؤں جیسا
کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساس مآل
پھول کھل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا
پھر تری یاد کے موسم نے جگائے محشر
پھر مرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا
بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسنؔ
اس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا

A_k_47
 

دُشمن ہے‘ اور ساتھ رہے جان کی طرح
مُجھ میں اُتر گیا ہے وُہ سرطان کی طرح
جکڑے ہُوئے ہے تن کو مِرے‘ اُس کی آرزو
پھیلا ہُوا ہے جال سا ، شریان کی طرح
دِیوار و دَر نے جس کے لیے ہجر کاٹے تھے
آیا تھا چند روز کو مہمان کی طرح
دُکھ کی رُتوں میں پیڑ نے تنہا سفر کِیا
پتّوں کو پہلے بھیج کے سامان کی طرح
گہرے خنک اندھیرے میں اُجلے تکلّفات
گھر کی فضا بھی ہوگئی شیزان کی طرح
ڈوبا ہُوا ہے حُسنِ سُخن میں سکوتِ شب
تارِ ربابِ رُوح میں کلیان کی طرح
آہنگ کے جمال میں انجیل کی دُعا
نرمی میں اپنی ”سورۂ رحمان“ کی طرح

A_k_47
 

🌹اَے عِشق نہیں ممکن اَب لَوٹ کَے گھر جانا
یا دِل میں اُتَر جانا یا دِل سے اُتَر جانا🌹
ہَنستا گُلِ تَر کوئی جَب دیکھا تَو یاد آیا
تاریخ میں صَدیوں کا لَمحوں میں گُذَر جانا
🌹ہَر ذَرَّہِ خاکی میں اِک عِشق کی دُنیا تھی
تُم نے تَو ہَمیَں جاناں ! بَس خاک بَسَر جانا🌹
ہو جَذب کی جَب مَنزِل ہَستی و عَدَم کیسے؟
کیا پار اُتَرنا اُور کیا ڈُوب کَے مَر جانا
ہے آتشِ اُلفَت سے یہ طُرفہ سُلوک اُن کا
آنکھوں سے ہَوا دینا ہونٹوں سے مُکَر جانا
🌹ہَر سانس کے آنے سے ہَر سانس کے جانے تَک
ہَستی کو سَدا ضامنؔ مُہلَت کا سَفَر جانا🌹

A_k_47
 

درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا
آئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھا
راہ میں ایسے نقوش کف پا بھی آئے
میں نے دانستہ جنہیں گرد سفر جانا تھا
وہم و ادراک کے ہر موڑ پہ سوچا میں نے
تو کہاں ہے مرے ہم راہ اگر جانا تھا
آگہی زخم نظارہ نہ بنی تھی جب تک
میں نے ہر شخص کو محبوب نظر جانا تھا
قربتیں ریت کی دیوار ہیں گر سکتی ہیں
مجھ کو خود اپنے ہی سائے میں ٹھہر جانا تھا
تو کہ وہ تیز ہوا جس کی تمنا بے سود
میں کہ وہ خاک جسے خود ہی بکھر جانا تھا
آنکھ ویران سہی پھر بھی اندھیروں کو نصیرؔ
روشنی بن کے مرے دل میں اتر جانا تھا

A_k_47
 

مرے ہمسفر! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں
مرے شعر، میری صداقتیں، مری دھڑکنیں، مری چاہتیں
تجھے جذب کرلوں لہو میں میں کہ فراق کا نہ رہے خطر
تری دھڑکنوں میں اتار دوں میں یہ خواب خواب رفاقتیں
یہ ردائے جاں تجھے سونپ دوں کہ نہ دھوپ تجھ کو کڑی لگے
تجھے دکھ نہ دیں مرے جیتے جی سرِ دشت غم کی تمازتیں
مری صبح تیری صدا سے ہو، مری شام تیری ضیا سے ہو
یہی طرز پرسشِ دل رکھیں تری خوشبوں کی سفارتیں
کوئی ایسی بزم بہار ہو میں جہاں یقین دلا سکوں
کہ ترا ہی نام ہے فصلِ گل، کہ تجھی سے ہیں یہ کرامتیں
ترا قرض ہیں مرے روز و شب، مرے پاس اپنا تو کچھ نہیں
مری روح ، میری متاعِ فن ، مرے سانس تیری امانتیں

A_k_47
 

خواب کدھر چلا کیا' یاد کہاں سما گئی ؟؟
چشم و چراغِ عشق کو ' کون ہَوا بُجھا گئی ؟
ہجر تو جاگتا رہا ' روح کے درد زار میں
جسم کی خواب گاہ میں' وصل کو نیند آ گئی
وقت نے ختم دیئے ' سارے وسیلے شوق کے
دل تھا ' اُلٹ پُلٹ گیا ' آنکھ تھی ' بُجھ بُجھا گئی
ایک تمہارے دل میں تھا' ایک تھا میری آنکھ میں
آندھی چلی فراق کی ' دونوں گھروندے ڈھا گئی
رنگ بَہ رنگ تِتلیو !! اب کِسے ڈھونڈتی ہو تم؟
خوش بُو کو لے گئی ہَوا ' پھول کو خاک کھا گئی
نرم لبوں سے سخت بات' ایسے ادا ہُوئی کہ بَس
شہد میں مِل گیا نمک ' دن میں ہی رات چھا گئی
صبر کی رہ گذار پر ' ایسے مِلی شبِ طرَب
مجھ کو بھی ڈَگمگا دیا ' آپ بھی لڑکھڑا گئی
جسم تو خیر جسم تھا ' جسم کا تذکِرہ ہی کیا
ایک نگاہ میں وہ آنکھ ' رُوح کے بھید پا گئی

A_k_47
 

جس حال میں تُم رکھو وہی حال مُبارک
ہم اہلِ محبت کو نیا سال مُبارک
ہر دل کو ہو مُنہ مانگی مُرادوں کی بشارت
ہر آنکھ کو من چاہے خدوخال مبارک
ہر پَھیلی ہتھیلی کی دُعاؤں کو دُعائیں
ہر پاؤں کو منزل کی طرف چال مُبارک
یخ بستہ شبِ ہجر کی برفیلی ہَوا میں
مُجھ کو ترا غم، تجھ کو تری شال مُبارک
ہرچند تُجھے اُس نے فقط درد دیے ہیں
فارس ! تُجھے یہ عشق بہَرحال مُبارک !

A_k_47
 

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا
اُسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا
نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جُدا ہوئے
نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ غزل کی ایک کتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا
ذرا دیر کا کوئی خواب تھا ، جو گزر گیا سو گزر گیا
مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں ،نہ سنا سنا کر اداس کر
تُو خزاں کا پھول ہے مُسکرا ، جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چکا
اُسے اب نہ دے میرے دل صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا
یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے
کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں
وہ تیرا ہے اُس کو گلے لگا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

A_k_47
 

میرا جنُونِ شوق، وہ عرضِ وفا کے بعد
وہ شانِ احتیاط تِری ہر ادا کے بعد
تیری خبر نہیں، مگر اتنی تو ہے خبر
تُو اِبتدا سے پہلے ہے، تُو اِنتہا کے بعد

A_k_47
 

ہوتے کہیں ہو، اور بتاتے کہیں ہو تم
اس درجہ احتیاط سے، تھکتے نہیں ہو تم
جیسا دکھائی دینے کی، کرتے ہو کوششیں
میں خوب جانتا ہوں، ایسے نہیں ہو تم
ہاں، ہاں، تم پہ ناز کرتی ہیں، وعدہ خلافیاں
ہاں میرے انتظار کے، لائق نہیں ہو تم

A_k_47
 

اتنا آساں تو نہیں عمر کا کٹنا، تنہا
جانا ہمراہ ترے اور پلٹنا، تنہا
دکھ بچھڑنے کا نہیں اسکی اِسی بات کا ہے
"اب مسائل سے مری جان نمٹنا، تنہا"
اچھا لگتا ہے بھرے شہر سے کٹ کر کومل
اس کے خوش رنگ خدو خال کو رٹنا، تنہا

A_k_47
 

سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
اے میں سو جان سے اس طرز تکلم کے نثار
پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا
اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا
اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا
میری ہر سانس ہے اس بات کی شاہد اے موت
میں نے ہر لطف کے موقع پہ تجھے یاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
کچھ نہیں اس کے سوا جوشؔ حریفوں کا کلام
وصل نے شاد کیا ہجر نے ناشاد کیا