خدا سے مانگا ہوا تھا جسے اٹھا کے ہاتھ
گیا ہے آج بڑے زعم میں چھڑا کے ہاتھ
تمہیں کہا بھی تھا رنجش طویل مت کرنا
چلے گئے ہیں نا اب فیصلے انا کے ہاتھ
جدید عشق کریں گے قدیم طرز سے ہم
پیام بھیجا کریں گے اسے ہوا کے ہاتھ
تلافی ہوتی نہیں بعد میں خساروں کی
کسی کے ہاتھ میں دیتے ہیں آزما کے ہاتھ
بتا دیا تھا مجھے چھوڑنے سے قبل اس نے
ہٹایا پشت سے اس نے مری بتا کے ہاتھ
حواس باختہ یوں ہی تو پھر نہیں رہے ہیں
لگے ہوئے ہیں ہمیں ایک بے وفا کے ہاتھ
کسی کے واسطے دل میں ہو احترام تو پھر
سلام لیجیے اس سے بھلے ملا کے ہاتھ
کہاں اٹھانا ہے کس کو کہاں گرانا ہے
یہ فیصلے ہیں سبھی کے سبھی خدا کے ہاتھ
اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا
ابھی نئی وادیوں، نئے منظروں میں رہ لو مگر میری جاں
یہ سارے اک ایک کر کے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا
جو شام ڈھلتے ہی اپنی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹتے ہیں
اگر وہ پنچھی کبھی کوئی داستاں سنائیں تو لوٹ آنا
نئے زمانوں کا کرب اوڑھے ضعیف لمحے نڈھال یادیں
تمھارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا
میں روز یونہی ہوا پہ لکھ لکھ کے اس کی جانب یہ بھیجتا ہوں
کہ اچھے موسم اگر پہاڑوں پہ مسکرائیں تو لوٹ آنا
اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمھارے ساتھی
اور اپنی خاطر ہی اپنے اپنے دیے جلائیں تو لوٹ آنا
مری وہ باتیں تو جن پہ بے اختیار پنستا تھا کھلکھلا کر
بچھڑنے والے مری وہ باتیں کبھی رلائیں تو لوٹ آنا۔ ۔
ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا !
ہمارا چہرہ بَھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
سُنا ہے' آدمی مر سکتا ہے' بچھڑتے ہوئے
ہمارا ہاتھ چُھوؤ ' سرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے
ہمارے رخ پہ کہِیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا !
مضمون محبت کے ، شمارے میں پڑھا ھے
اک وردِ مسلسل جو خسارے میں پڑھا ھے
کنکر سے ابابیل ، گِرا دیتے ہیں ہاتھی
میں نےیہ ابھی تیسویں پارے میں پڑھا ھے
یہ رسمی تعارف بھی ضروری تھا مگر دوست
پہلے بھی کہیں آپ کے بارے میں پڑھا ھے
حیرت هے کہ ہم چار برس مل نہیں پائے
دونوں نے اگر ، ایک ادارے میں پڑھا ھے
آواز اٹھانے سے بھی ، سُنتا نہیں کوئی
میں نے یہ سبق آج اِشارے میں پڑھا ھے
دن پھر سے گزرنا نہیں اچھا تیرا کومل
اخبار کے اِک بُرج ستارے میں پڑھا ھے
تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا
ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا
دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا
چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے
کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا
تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا
مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے
مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا
دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے
ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا
نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے
کھلے نہ آنکھ میری عمر بھی دعا کرنا
میرے لکھے ہوئے ہر لفظ کی تفسیر میں آ
میرے جملوں میں بکھر، آ میری تحریر میں آ
میں آنکھیں موند کر بھی جلوے تیرے دیکھا کروں
میری نیندوں کے نگر، خوابوں کی تعبیر میں آ
میرے چہرے میں نظر آئیں مجھے تیرے نقوش
میرے رنگوں میں ابھر، آ میری تصویر میں آ
میں ٹوٹ ٹوٹ کر بنتا رہوں کہیں تجھ میں
میری تخریب کے سفر، میری تعمیر میں آ
اپنے ہاتھوں کی لکیریں سبھی بدل ڈالوں
میری قسمت میں اتر، آ میری تقدیر میں آ
میں کہوں "کن"، تو "فیکون" سا وہ ہو جائے
میری باتوں کے اثر، لہجوں کی تاثیر میں آ
ہو کوئی نظم کہ غزل، تیرے ہی نام سے ہو
کبھی غالب، کبھی ظفر، تو کبھی میر میں آ
اے بادِ خُوش خَرام ، تُمہاری وجہ سے ھے
پُھولوں کا اَحترام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
پِھرتے ھیں اَپنے کام سے ٫ بَستی میں بادہ خُوار
ھَم کو بھی ایک کام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
ھَر طَاق میں چَراغ ھے ، ھَر شاخ پر گُلاب
کس دَرجہ اھتمام ، تمہاری وجہ سے ھے۔
تَکریمِ رَھگزار ٫ تُمہارے ھی دَم سے تهى
تزئينِ فَرش و بام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
تم خُوش ھُوئے تو ھو گے ٫ کہ اَب سارے شہر میں
رُسوا کِسی کا نام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
چاھو تو نبض روک لو ، اے لَمسِ خُوشگوار
گردش میں یہ نظام ، تُمہاری وجہ سے ھے۔
ورنہ چَمن میں کیا ھے ٫ کہ ھم تَبصرہ کریں
یہ کاوشِ کَلام ، تُمہاری وجہ سے ھے
ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتا
میں پیشہ ور فریبی ہوں، محبت کر نہیں سکتا
میں تم سے صاف کہتا ہوں، مجھے تم سے نہیں الفت
فقط لفظی محبت ہے، میں تم پہ مر نہیں سکتا
محبت کی مسافت نے بہت زخمی کیا مجھ کو
ابھی یہ زخم بھرنے ہیں، میں آہیں بھر نہیں سکتا
یہاں ہر ایک چہرے پر الگ تحریر لکھی ہے
میری آنکھوں میں آنسو ہیں، ابھی کچھ پڑھ نہیں سکتا
میں اپنی رات کی زلفوں میں خود چاندی سجاتا ہوں
میں اس کی مانگ میں وعدوں کے ہیرے جَڑ نہیں سکتا
" بھلے جھوٹا منافق ہوں، بہت دھوکے دئیے، لیکن
محبت کی صدا ہوں میں، میں دھوکا کر نہیں سکتا "
میں اس گھر کا مقیمی ہوں، جسے اوقات کہتے ہیں
میں اپنی حد میں رہتا ہوں، سو آگے بڑھ نہیں سکتا
ابھی کچھ شعر رہتے ہیں، مگر لکھنے نہیں ہرگز
کسی کی لاج رکھنی ہے، سو ظاہر کر نہیں سکتا.
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا
پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملا
اس کا انداز تغافل تھا خداؤں جیسا
کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساس مآل
پھول کھل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا
پھر تری یاد کے موسم نے جگائے محشر
پھر مرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا
بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسنؔ
اس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا
دُشمن ہے‘ اور ساتھ رہے جان کی طرح
مُجھ میں اُتر گیا ہے وُہ سرطان کی طرح
جکڑے ہُوئے ہے تن کو مِرے‘ اُس کی آرزو
پھیلا ہُوا ہے جال سا ، شریان کی طرح
دِیوار و دَر نے جس کے لیے ہجر کاٹے تھے
آیا تھا چند روز کو مہمان کی طرح
دُکھ کی رُتوں میں پیڑ نے تنہا سفر کِیا
پتّوں کو پہلے بھیج کے سامان کی طرح
گہرے خنک اندھیرے میں اُجلے تکلّفات
گھر کی فضا بھی ہوگئی شیزان کی طرح
ڈوبا ہُوا ہے حُسنِ سُخن میں سکوتِ شب
تارِ ربابِ رُوح میں کلیان کی طرح
آہنگ کے جمال میں انجیل کی دُعا
نرمی میں اپنی ”سورۂ رحمان“ کی طرح
🌹اَے عِشق نہیں ممکن اَب لَوٹ کَے گھر جانا
یا دِل میں اُتَر جانا یا دِل سے اُتَر جانا🌹
ہَنستا گُلِ تَر کوئی جَب دیکھا تَو یاد آیا
تاریخ میں صَدیوں کا لَمحوں میں گُذَر جانا
🌹ہَر ذَرَّہِ خاکی میں اِک عِشق کی دُنیا تھی
تُم نے تَو ہَمیَں جاناں ! بَس خاک بَسَر جانا🌹
ہو جَذب کی جَب مَنزِل ہَستی و عَدَم کیسے؟
کیا پار اُتَرنا اُور کیا ڈُوب کَے مَر جانا
ہے آتشِ اُلفَت سے یہ طُرفہ سُلوک اُن کا
آنکھوں سے ہَوا دینا ہونٹوں سے مُکَر جانا
🌹ہَر سانس کے آنے سے ہَر سانس کے جانے تَک
ہَستی کو سَدا ضامنؔ مُہلَت کا سَفَر جانا🌹
درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا
آئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھا
راہ میں ایسے نقوش کف پا بھی آئے
میں نے دانستہ جنہیں گرد سفر جانا تھا
وہم و ادراک کے ہر موڑ پہ سوچا میں نے
تو کہاں ہے مرے ہم راہ اگر جانا تھا
آگہی زخم نظارہ نہ بنی تھی جب تک
میں نے ہر شخص کو محبوب نظر جانا تھا
قربتیں ریت کی دیوار ہیں گر سکتی ہیں
مجھ کو خود اپنے ہی سائے میں ٹھہر جانا تھا
تو کہ وہ تیز ہوا جس کی تمنا بے سود
میں کہ وہ خاک جسے خود ہی بکھر جانا تھا
آنکھ ویران سہی پھر بھی اندھیروں کو نصیرؔ
روشنی بن کے مرے دل میں اتر جانا تھا
مرے ہمسفر! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں
مرے شعر، میری صداقتیں، مری دھڑکنیں، مری چاہتیں
تجھے جذب کرلوں لہو میں میں کہ فراق کا نہ رہے خطر
تری دھڑکنوں میں اتار دوں میں یہ خواب خواب رفاقتیں
یہ ردائے جاں تجھے سونپ دوں کہ نہ دھوپ تجھ کو کڑی لگے
تجھے دکھ نہ دیں مرے جیتے جی سرِ دشت غم کی تمازتیں
مری صبح تیری صدا سے ہو، مری شام تیری ضیا سے ہو
یہی طرز پرسشِ دل رکھیں تری خوشبوں کی سفارتیں
کوئی ایسی بزم بہار ہو میں جہاں یقین دلا سکوں
کہ ترا ہی نام ہے فصلِ گل، کہ تجھی سے ہیں یہ کرامتیں
ترا قرض ہیں مرے روز و شب، مرے پاس اپنا تو کچھ نہیں
مری روح ، میری متاعِ فن ، مرے سانس تیری امانتیں
خواب کدھر چلا کیا' یاد کہاں سما گئی ؟؟
چشم و چراغِ عشق کو ' کون ہَوا بُجھا گئی ؟
ہجر تو جاگتا رہا ' روح کے درد زار میں
جسم کی خواب گاہ میں' وصل کو نیند آ گئی
وقت نے ختم دیئے ' سارے وسیلے شوق کے
دل تھا ' اُلٹ پُلٹ گیا ' آنکھ تھی ' بُجھ بُجھا گئی
ایک تمہارے دل میں تھا' ایک تھا میری آنکھ میں
آندھی چلی فراق کی ' دونوں گھروندے ڈھا گئی
رنگ بَہ رنگ تِتلیو !! اب کِسے ڈھونڈتی ہو تم؟
خوش بُو کو لے گئی ہَوا ' پھول کو خاک کھا گئی
نرم لبوں سے سخت بات' ایسے ادا ہُوئی کہ بَس
شہد میں مِل گیا نمک ' دن میں ہی رات چھا گئی
صبر کی رہ گذار پر ' ایسے مِلی شبِ طرَب
مجھ کو بھی ڈَگمگا دیا ' آپ بھی لڑکھڑا گئی
جسم تو خیر جسم تھا ' جسم کا تذکِرہ ہی کیا
ایک نگاہ میں وہ آنکھ ' رُوح کے بھید پا گئی
جس حال میں تُم رکھو وہی حال مُبارک
ہم اہلِ محبت کو نیا سال مُبارک
ہر دل کو ہو مُنہ مانگی مُرادوں کی بشارت
ہر آنکھ کو من چاہے خدوخال مبارک
ہر پَھیلی ہتھیلی کی دُعاؤں کو دُعائیں
ہر پاؤں کو منزل کی طرف چال مُبارک
یخ بستہ شبِ ہجر کی برفیلی ہَوا میں
مُجھ کو ترا غم، تجھ کو تری شال مُبارک
ہرچند تُجھے اُس نے فقط درد دیے ہیں
فارس ! تُجھے یہ عشق بہَرحال مُبارک !
ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا
اُسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا
نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جُدا ہوئے
نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ غزل کی ایک کتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا
ذرا دیر کا کوئی خواب تھا ، جو گزر گیا سو گزر گیا
مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں ،نہ سنا سنا کر اداس کر
تُو خزاں کا پھول ہے مُسکرا ، جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چکا
اُسے اب نہ دے میرے دل صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا
یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے
کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا
وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں
وہ تیرا ہے اُس کو گلے لگا ، جو گزر گیا سو گزر گیا
میرا جنُونِ شوق، وہ عرضِ وفا کے بعد
وہ شانِ احتیاط تِری ہر ادا کے بعد
تیری خبر نہیں، مگر اتنی تو ہے خبر
تُو اِبتدا سے پہلے ہے، تُو اِنتہا کے بعد
ہوتے کہیں ہو، اور بتاتے کہیں ہو تم
اس درجہ احتیاط سے، تھکتے نہیں ہو تم
جیسا دکھائی دینے کی، کرتے ہو کوششیں
میں خوب جانتا ہوں، ایسے نہیں ہو تم
ہاں، ہاں، تم پہ ناز کرتی ہیں، وعدہ خلافیاں
ہاں میرے انتظار کے، لائق نہیں ہو تم
اتنا آساں تو نہیں عمر کا کٹنا، تنہا
جانا ہمراہ ترے اور پلٹنا، تنہا
دکھ بچھڑنے کا نہیں اسکی اِسی بات کا ہے
"اب مسائل سے مری جان نمٹنا، تنہا"
اچھا لگتا ہے بھرے شہر سے کٹ کر کومل
اس کے خوش رنگ خدو خال کو رٹنا، تنہا
سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
اے میں سو جان سے اس طرز تکلم کے نثار
پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا
اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا
اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا
میری ہر سانس ہے اس بات کی شاہد اے موت
میں نے ہر لطف کے موقع پہ تجھے یاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
کچھ نہیں اس کے سوا جوشؔ حریفوں کا کلام
وصل نے شاد کیا ہجر نے ناشاد کیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain