گردش میں ہیں جب تک تری مخمور نگاہیں
ساغر کی طرح دل بھی چھلکتا ہی رہے گا
اس آئینہ خانے میں سبھی عکس ہیں تیرے
اس آئینہ خانے میں تو یکتا ہی رہے گا
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب سرِ رہ گزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے شب انتظار چلی گئی
مرے ضبطِ حال سے روٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل نہ عرضِ غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے
وہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے
ہر بار محبت میں خسارا نہیں ہوگا
یہ وہم تھا تیرا کہ گزارا نہیں ہوگا
تقدیر کے ہاتھوں کا لکھا مان لیا ہے
اب تیری طرف میرا اشارا نہیں ہوگا
ہم دل کی لکیروں سے مٹا دیں گے ترا نقش
پھر تجھ سے کوئی ربط ہمارا نہیں ہوگا
تم دیکھنا اک دن یہ بہاریں نہیں رہنی
صحرا میں کوئی پھول دوبارہ نہیں ہوگا
جب ترک کیا ہم نے تعلق تو یہ دیکھا
اب دل پہ ترا قبضہ گوارا نہیں ہوگا
ہم ہیں تو تجھے اور بھی مل جاتے ہیں آ کر
جب ہم نہ رہے کوٸی تمھارا نہیں ہوگا
اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے
عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے
درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے
لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے
روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا
وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے
ایک بے پردہ محبت کو سمجھ کر سچ ہے
جبر کو صبر کا ہم راز بنایا ہم نے
راہ کی دھول کو راہبر ہی سمجھ بیٹھے تھے
آبلہ پا تھے مگر نام کمایا ہم نے
تیرے ہونٹوں کے لئے باغ کی شرطیں مانیں
پھول کے جسم سے رنگوں کو چرایا ہم نے
دل کی کشتی کو کنارے سے لگایا کشورؔ
اور پھر اس میں محبت کو بٹھایا ہم نے
ایسے خَادم جُو میسر تُجھے بے دَام کہ تھے
ہم جو بیکار بھی تھے پھر بھی تیرے کام کے تھے
اُلجھنیں جتنی بھی تھی ساری ہی تیری یاد کی تھیں
اَشک آنکھوں میں تھے جتنے بھی تیرے نام کہ تھے
ہم نے واری ہے بصد شوقِ جَوانی تُجھ پر
تُجھ پہ قربان ہوئے دن کہ جو آرام کے تھے...!!
مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دے
مگر دیئے کی طرح مجھ کو معتبر کر دے
بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کی عمر ہی کتنی
میں تیری شام ہوں آ جا مری سحر کر دے
جدائیوں کی یہ راتیں تو کاٹنی ہوں گی
کہانیوں کو کوئی کیسے مختصر کر دے
ترے خیال کے ہاتھوں کچھ ایسا بکھرا ہوں
کہ جیسا بچہ کتابیں ادھر ادھر کر دے
وسیمؔ کس نے کہا تھا کہ یوں غزل کہہ کر
یہ پھول جیسی زمیں آنسوؤں سے تر کر دے
پامال ہوئے پھول ہیں گلدان پڑا ہے
ارمان کا ملبہ کہیں بہتان پڑا ہے
بے رنگ لفافے میں دبے آخری خط میں
اک زود فراموش کا پیمان پڑا ہے
وہ پنکھ جلا راکھ لپیٹے ہوئے بھنورا
اُس رات کی روداد سے انجان پڑا ہے
متروک سرائے کی طرح آج بھی دل میں
اک شخص کا چھوڑا ہوا سامان پڑا ہے
۔تم نے سمجھا ہی نہیں کوئی اشارا۔ ۔ سچ میں
لفظ میرے تھے مگر ذکر تھا تمھارا ۔۔ ۔۔۔ سچ میں
بس یہی بات نہیں دل کو گوارہ ۔۔۔سچ میں
تو کسی اور کو ہو جان سے پیارا سچ میں
تیری چاھت کا لبادہ نہ اتارا۔ ۔۔ سچ میں
پھر ترے بعد کہاں خود کو سنوارا سچ میں
کیا سمجھتے ہیں بتا لوگ تمھارے مجھ کو
بے سہارا ہوں جو دیتے ہیں سہارا سچ میں
شاعری درد کی نعمت نے اجالی میری
میرا احساس تغافل نے ابھارا سچ میں
ایک مانوس صدا مجھ کو سنائی دی ہے
نام سے مجھ کو یہاں کس نے پکارا سچ میں
تم کو کھو کر ہی تو احساس ہوا ہے مجھ کو
کس کو کہتے ہیں محبت کا خسارا سچ میں
بات چھڑتی ہے جو الفت کے سزاواروں کی
لوگ کرتے ہیں وہاں ذکر ہمارا سچ میں
پھر ترے بعد کہاں کوئی بسایا دل میں
میں تمھارا ہوں پیا آج بھی سارا سچ میں
اشعار میرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گے
یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں
دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ھے ترے ہاتھ
منڈیروں پہ فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم
اک لمحہ آ کے ہنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ
ہر سو شرر برس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں
دن دلدلوں میں دھنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
راہیں دھوئیں سے بھر گئیں میں منتظر رہا
قرنوں کے رخ جھلس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے
تم دور جا کے بس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مذمت کی ہو
تم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے ہجرت کی ہو
جھولتی شاخ سے چپ چاپ جدا ہونے پر
زرد پتوں نے ہواؤں سے شکایت کی ہو
اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار
دل نے کچھ ٹُوٹ کے چاہا کوئی حسرت کی ہو
عمر چھوٹی سی مگر شکل پہ جُھریاں اتنی
عین ممکن ہے کبھی ہم نے محبت کی ہو
ایسا ہمدرد تِرے بعد کہاں تھا، جس نے
لغزشوں پر بھی مِری کُھل کے حمایت کی ہو
دل شکستہ ہے، کوئی ایسا ہنر مند بتا
جس نے ٹوٹے ہوئے شیشوں کی مرمت کی ہو
شب کے دامن میں وہی نور بھریں گے احمد
جن چراغوں نے اندھیرے سے بغاوت کی ہو
ہجر کے لمبے دن، جیسے ریت کا صحرا
جہاں راستہ بھی خواب بن کر
قدموں کے نیچے ٹوٹتا رہتا ہے۔
ادھورے لمحوں کے سائے
دھوپ میں بھی سیاہی لے آتے ہیں،
اور سخن کی نمی
دل کے کاغذ پر پھیل کر
موسم کا رنگ بدل دیتی ہے۔
دریچے کے اس پار
دو آنکھیں کھلی رہتی ہیں،
جن میں بارش رکی ہوئی ہے،
جیسے کوئی وعدہ،
جو پورا ہونے سے پہلے سو گیا ہو۔
میں خوابوں کی وسعت بڑھانا چاہتا ہوں،
مگر ہجر کے اندر
ایک خاموش زوال ہے،
جو ہر دن،
میرے اندر سے میرا ہی سایہ مٹا دیتا ہے۔
میں نے ماحول کی آنکھوں کی عبارت پڑھ کر
دل کے مفہوم سمجھنے کا ہنر سیکھا ہے
میں نے مصنوعی رواداری کی ضربیں کھا کر
اپنی ہی ذات کے اندر کا سفر سیکھا ہے
أَنْتَ آخِرُ رَغْبَةٍ فِي قَلْبِي
تم میرے دل کی آخری چاہت ہو ❤✨
تیرے روبرو ہوتا ہوں تو فرط جذبات سے
الفاظ الگ، معانی الگ، بیان الگ، اوسان الگ
وعدہ یار پہ اعتبار بھی ہے کس قدر مشکل
اظہار الگ، انتظار الگ، عہد الگ، زبان الگ
چہار عناصر سے ہے اشکال کی وضاحت
معلوم الگ، مطلوب الگ، مقصود الگ، میزان الگ
نگاہ یار میں بھی چھپے ہیں التفات ہزار
نزاکت الگ، دید الگ، شکوہ الگ، مسکان الگ
چھنے ہیں صحرانوردی میں گوہر کیا کیا
ہے شعور الگ، ادراک الگ، وہم الگ ، گمان الگ
دیکھ ہم نے نثار کوئے یار کیا کیا کیا
سر الگ، دھڑ الگ، دل الگ، جان الگ
اہل مروت کو درپیش ہیں عجیب قباحتیں
قول الگ، فعل الگ، عقائد الگ، بیان الگ
سب کچھ باندھ بیٹھے ہیں قصد سفر کے لیے
بستر الگ، برتن الگ، کتب الگ، سامان الگ
نیر شاعری کسی کشتہ مرکب سے کم نہیں
تشبیہ الگ، تقطیع الگ، توجیح الگ، اوزان الگ
پیاس الگ، آبلے الگ، مسافت الگ، ہلکان الگ
دشت الگ، تنہائی الگ، غربت الگ، فقدان الگ
استانہ محبوب کے کیا کیا فیض لکھوں
زہد الگ، تقوی الگ ،شفا الگ، فیضان الگ
میرے وجود کو کچھ اس طرح توڑا ہجر نے
انکھیں الگ، بازو الگ، سر الگ، کان الگ
بکا آوارگی و مہ کشی میں سبھی متاع حیات
جاگیر الگ، سامان الگ، دوکان الگ، مکان الگ
عشق کا سودا اب تاعمر نہیں کرنا دوبارہ
ذلت الگ ،قرضہ الگ، بیاج الگ، نقصان الگ
زندگی کو ہم نے یونہں اجاڑ ڈالا
غم الگ، درد الگ، وسوسے الگ، ویران الگ
استقبال یار میں کیا کیا تیاریاں تھیں درکار
خاص الگ، عام الگ ، مہمان الگ، میزبان الگ
عجلہ عروسی میں وہ یوں جلوہ افروز تھے
حسن الگ، شرم الگ، اقرار الگ، شان الگ
تیرے روب
وجودِ عشق کا کوئی سرا ملا ، نہیں ملا
خودی ملی ؟ نہیں ملی، خدا ملا ؟ نہیں ملا
تمام شہر میں ملے گِلے ہزار رات سے
مگر کہیں کسی جگہ دیا ملا، نہیں ملا
تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے نہیں ملے
ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا، نہیں ملا
یہ عہد رد کا عہد تھا سو رسم مسترد ہوئی
مسیحِ وقت دار پر کھڑا ملا، نہیں ملا
زمینِ دشت یاد بھی ہوائے سنگ دل کی ہے
کوئی نشان دیر تک پڑا ملا نہیں ملا
وہ محبت بھی کیا عجب ہوگی
جو حقیقت میں بے طلب ہوگی
ہم نے خود کو ہی راکھ کر ڈالا
آگ شاید تری غضب ہوگی
دل نے جو خواب سچ سمجھ رکھا
وہ حقیقت میں ایک شب ہوگی
خود سے بیزار، دنیا سے خفا
زندگی بھی کوئی سبب ہوگی
وہ سکوتِ نظر بھی بول اٹھے
جو نظر تجھ پہ مستحب ہوگی
غم کی دہلیز پار کر کے بھی
آرزو پھر بھی بے سبب ہوگی
ہم نے ہر زخم کو ہنسی دی ہے
یہ ہنسی بھی کوئی طلب ہوگی
میں بھی کاشف اپنے حال میں گم
زندگی میری بے ڈ ھب ہوگی
از کاشف
ہر مرحلۂ شوق سے لہرا کے گُزر جا
آثارِ تلاطم ہوں تو بَل کھا کے گُزر جا
بہکی ہُوئی مخمور گھٹاؤں کی صَدا سُن
فردوس کی تدبیر کو بہلا کے گُزر جا
مایوس ہیں احساس سے اُلجھی ہُوئی راہیں
پائل دلِ مجبور کی چھنکا کے گُزر جا
یزدان و اہر من کی حکایات کے بدلے
اِنساں کی روایات کو دُہرا کے گُزر جا
کہتی ہیں تجھے مَیکدۂ وقت کی راہیں
بِگڑی ہُوئی تقدیر کو سُلجھا کے گُزر جا
بُجھتی ہی نہِیں تِشنگیٔ دِل کِسی صُورت
اے ابرِ کرم آگ ہی برسا کے گُزر جا
کانٹے جو لگیں ہاتھ تو کچھ غم نہیں ساغرؔ
کلیوں کو ہر اِک گام پہ بِکھرا کے گُزر جا
سُہانے موسَموں کو کیسے قلمبند کروں ۔۔۔
شَــاعرــےغم ہوں، میں اشک لکھتـا ہوں۔۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain