گردِ گلِ ملال کسی شعر پر نہ ہو
یہ کیا کہ دل کے خون سے بھی لفظ تر نہ ہو❤️🔥
تُو آئے باغ میں تو تیرے احترام میں
واجب ہے کوئی پھول کسی شاخ پر نہ ہو❤️🔥
یہ کیا کہ سانس سانس اذیت بنی رہے
یہ کیا کہ ایک عمر ہو، وہ بھی بسر نہ ہو❤️🔥
یہ کیا کہ بے ثمر ہی رہے درد کا شجر
یہ کیا کہ خون تھوکیے، لیکن اثر نہ ہو❤️🔥
اک زہر مستقل جو رگوں میں رواں رہے
اک شخص جس کے چھوڑ کے جانے کا ڈر نہ ہو❤️🔥
اک ہجر جس میں مہکا رہے لمس کا کنول
اک وصل جس میں قرب کا کوئی گزر نہ ہو❤️🔥
جانا ٹھہرا ھے، تو آداب و سلیقے سے نکل
سانس کی گٹھڑی اٹھا، عمر کے میلے سے نکل
تُو ہتھیلی پہ دھری خاک سے بڑھ کر کیا ھے
یہ جو ہونے کا تجھے وہم ھے، ہونے سے نکل
عصر ہو جائے تو پھر دھوپ ٹھہرتی کب ھے
اب فقط لمحوں کو گن، سال مہینے سے نکل
اُس کے چہرے کی تمـازت سے پگھلتے تھے حروف
جیسے کُہســـــار پہ کِرنوں کے قبیلـــــے اُترے
جیسے گُھـــــل جائے خیالوں میں حنا کا موسم
جیسے خوشبو کی طرح رنگ نشیلــــے اُترے🥀🖤
یہ رونق، بےفکری، لـــــزتوں کاســـــــرور ؛
ومـا الـحیاۃ الدنیـا الا متـاع الـغرور ؛
ہرشخص چاہتا ہــــے کـــہ ہو جائے وہ تیرا
تُـم دورِ پُــر سکون کا واحــد فســـــــاد ہو
وحـشتـوں کا بسیـــرا ہے مجھ میں
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥️🔥️🔥️🔥🔥
آج کل مجھ سے اِجتناب کیجئـــے
🔥 🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥️🔥️🔥
کچھ ذکر کرو اُس موسم کا
جب رم جھم رات رسیلی تھی
جب صُبح کا رُوپ رُو پہلا تھا
جب شام بہت شرمیلی تھی
جب پھول مہکتی راہوں پر
قدموں سے گجر بج اُٹھتے تھے
جب تن میں سانس کے سرگم کی
ہر دیپک تان سُریلی تھی
جب خواب سراب جزیروں میں
خوش فہم نظر گھُل جاتی تھی
جب پیار پوَن کے جھونکوں سے
ہر یاد کی موج تشیلی تھی
اَمرت کی مہک تھی باتوں میں
نفرت کے شرر تھے پلکوں پر
وہ ہونٹ نہایت میٹھے تھے
وہ آنکھ بہت زہریلی تھی
محسن اُس شہر میں کرنے کو اَب
اس کے سوا کچھ یاد نہیں
کچھ زہر تھا شہر کے پانی میں
کچھ خاک کی رنگت نیلی تھی
اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا
اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا
یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کی
وہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا
اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا
وہ اپنے گاؤں کی گلیاں تھیں دل جن میں ناچتا گاتا تھا
اب اس سے فرق نہیں پڑتا ناشاد ہوا یا شاد ہوا
بے نام ستائش رہتی تھی ان گہری سانولی آنکھوں میں
ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا دل اب جتنا بیداد ہوا
جان و دل آپ سے واللہ نہیں ہم کو عزیز
جان و دل آپ کے صدقے میں اتارے ہم نے
کچھ تو پایا ہے محبت کی مصیبت میں مزا
عیش و عشرت کئے ترک جو سارے ہم نے
ایک دیوانے سے بھرے شہر کو جا لگتی ہے
یہ مـحبت تـو مـجھے کـوئی وبـــا لگتی ہے
روز آتی ہـے میــــــــــــرے پاس تسلی دینے
شب تنہائی ! بتـــــا ، تو میری کیا لگتی ہے
ایک فقط تو ہے جو بدلا ہے دنوں میں ورنہ
لگتـے لگتـے ہی زمـــــــانـے کی ہوا لگتی ہے
آنکھ سے اشک گرا ہے سو میاں ! ہاتھ اٹھا
تارہ ٹوٹـے پہ جو کی جـــائے دعا ، لگتی ہے
تیری آنکھوں کے ستاروں کے طفیل اے میرے دوست
دشت پر ہول کی ظلمت بھی ضیا لگتی ہے
وہ جو ملتی ہی نہیں عـــــالم بیداری میں
آنکھ لگتے ہی میـــرے سینے سے آ لگتی ہے
بات جتنی بھی ہو بے جا مگر اے شیریں سخن !
جب تیرے لب سے ادا ہو تو بجـــا لگتی ہے
خوش گمانی کا یہ عالم ہے کہ فارس اکثر
یار کرتے ہیں جفا ، ہم کو وفـــــا لگتی ہے !!
تم کو مری دھڑکن کے توازن کی قسم ھے
اس دل سے اترنا بھی سلیقے سے پڑے گا
اس بار تو چرچے بھی تعلق کے بہت ہیں
اس بار بچھڑنا بھی سلیقے سے پڑے گا
بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی
میں نے غم ہجراں کی کہانی نہیں لکھی
جس دن سے ترے ہاتھ سے چھوٹا ہے مرا ہاتھ
اس دن سے کوئی شام سہانی نہیں لکھی
کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل
میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی
الفاظ سے کاغذ پہ سجائی ہے جو دنیا
جز اپنے کوئی چیز بھی فانی نہیں لکھی
تشہیر تو مقصود نہیں قصۂ دل کی
سو تجھ کو لکھا تیری نشانی نہیں لکھی
یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو
سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو
مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں
پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو
تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں
میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو
کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں
تو لے جانا مجھ سے تم، جو ہوں مطلوب یہ آنسو
نہیں یہ راٸیگاں جاتے، اگر دل سے بہاٸے ہوں
سکھاتے ہیں عشاقوں کو بہت اسلوب یہ آنسو
حاوی اب یہ سوچا ہے،کہ بہنے دوں نہ آنکھوں سے
ڈھال کر شعروں میں انکو، کروں مکتوب یہ آنسو
جو اُتر کے زینئہ شام سے، تری چشمِ تر میں سما گئے
وُہی جَلتے بجھتے چراغ سے، مرے بام و دَر کو سجا گئے
یہ جو عاشقی کا ہے سلسلہ، ہے یہ اصل میں کوئی معجزہ
کہ جو لفظ میرے گُماں میں تھے، وہ تری زبان پہ آگئے
وہ جو گیت تم نے سُنا نہیں، مِری عُمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں، جِسے تم ہنسی میں اُڑاگئے
وہ تھا چاند شامِ وصال کا، کہ تھا رُوپ تیرے جمال کا
مری روح سے مِری آنکھ تک، کِسی روشنی میں نہا گئے
وہ عجیب پُھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اُٹھے
مِرے دشتِ خواب میں دُور تک، کوئی باغ جیسے لگا گئے
اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیں
ہے جن سے گہرا تعلق وہ سارے آجائیں
تم اپنے اشک گراؤ مری ہتھیلی پر
مبادا پاؤں کے نیچے یہ تارے آجائیں
کسی طرح تو یہ سکراتِ ہجر ٹوٹے بھی
اٹھا کے رحل ، وظیفے ، سپارے آ جائیں
میں عشق کر کے بھی زندہ ہوں ، دیکھنے کے لیے
یہ ششدران ، یہ حیرت کے مارے ، آ جائیں
پناہ چاہئیے ؟ دی جان کی امان ، سو آپ
بلا جھجھک یہاں ، دل میں ہمارے آ جائیں
میں ایک پیڑ ہوں ، کہنے کی دیر ہے کومل
سبھی کے ہاتھوں میں کلہاڑے ، آرے آجائیں
دل کے قرطاس پہ اک لفظ ‘محبت’ لکھنا
🌹جو کبھی عشق میں کی تھی، وہ ریاضت لکھنا
لکھنے بیٹھو جو کبھی دل کی حکایت کوئی
🌹نام اس میں مرا تم حسب روایت لکھنا
پنکھڑی پھول کی لب، آنکھ ہے گہرا ساگر
🌹ابرو ہیں تیغ سے اور __ چال قیامت لکھنا
بھولنے والے ___ اگر یاد کبھی آ جاؤں
🌹بھیگی پلکوں سے فقط اشک ندامت لکھنا
اے غم عشق، مرے پاؤں کے چھالے گن کر
🌹دشت الفت کییہ مجبور مسافت لکھنا
🌹یاد ہے پہلی محبت کی خماری اب تک
وہ درختوں پہ ترا نام مسرتؔ __ لکھنا
"صدیاں گزر گئیں تیرے انتظار میں
ꪶ✍️اے مرگِ ناگہاں میری طاقت تمام شد"
مُجھے آرزوۓ سحــــــر رہی یونہی رات بھـــــــــر بڑی دیر تک
نہ بِکھر سکے نا سِمٹ سکے، یونہی رات بھر بڑی دیر تک !!!...
ہے بہت عذاب اور اکیلے ہم ، شِب غم بھی میری طویل تر ۔۔۔۔
رہی زندگی بھی ســــــراب اور، رہی آنکھ تر بـــــڑی دیر تک !!!
یہاں ہر طرف ہے عجب سماں، سبھی خُود پسند، سبھی خود نما
دلِ بے قــــــــرار کو نہ مِلا، کوئی چارہ گــــــــر بڑی دیر تک !!!
مُجھے زندگی ہے عزیز تر اِسی واسطے میرے ہمسفر ۔۔۔۔ !
مُجھے قطـــــرہ قطـــــرہ پِلا زہر ، جو کرے اثر بڑی دیر تک !!!
نہ سکونِ جاں نہ شریکِ غم، مِلا اس جہاں میں چار سُو ۔۔۔۔
تیری یاد تھی میــــــرے ساتھ جو رہی، در بدر بڑی دیر تک !!!
یہاں شہرِ دل بھی اُداس ہے اور اجاڑ اجاڑ سی راہ گزر ۔۔۔۔۔۔
رہے تیرے بعد دُھواں دُھواں، میرے بام و در بڑی دیر تک !!!
غزل
کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں
شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں
نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے
ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں
یہی ناصح جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں
تجھ کو دیکھیں تو تجھے دیکھنے آنے لگ جائیں
ہم کہ ہیں لذت آزار کے مارے ہوئے لوگ
چارہ گر آئیں تو زخموں کو چھپانے لگ جائیں
ربط کے سینکڑوں حیلے ہیں محبت نہ سہی
ہم ترے ساتھ کسی اور بہانے لگ جائیں
ساقیا مسجد و مکتب تو نہیں مے خانہ
دیکھنا پھر بھی غلط لوگ نہ آنے لگ جائیں
قرب اچھا ہے مگر اتنی بھی شدت سے نہ مل
یہ نہ ہو تجھ کو مرے روگ پرانے لگ جائیں
اب فراز آؤ چلیں اپنے قبیلے کی طرف
شاعری ترک کریں بوجھ اٹھانے لگ جائیں
وفا کے قیدخانوں میں سزائیں کب بدلتی ھیں
بدلتا دل کا موسم ھے ھوائیں کب بدلتی ھیں
لباد٥ اوڑھ کر غم کا نکل جاتے ھیں صحرا کو
جواب آئے کہ نہ آئے ، صدائیں کب بدلتی ھیں
سروں پر دھوپ ھے غم کی، دلوں میں وحشتیں کتنی
ھمارے دل کے صحرا کی فضائیں کب بدلتی ھیں
کوئی پاکر نبھاتا ھے ، کوئی کھو کر نبھاتا ھے
نئے انداز ھوتے ھیں ، وفائیں کب بدلتی ھیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain