کہاں آ کے رُکنے تھے راستے، کہاں موڑ تھا، اُسے بُھول جا
وہ جو مل گیا اُسے یاد رکھ، جو نہیں ملا اُسے بُھول جا
وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر مری بات سُن، اُسے بُھول جا، اُسے بُھول جا
میں تو گُم تھا تیرے ہی دھیان میں، تِری آس، تیرے گمان میں
صبا کہہ گئی مرے کان میں، میرے ساتھ آ، اُسے بُھول جا
کِسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم، ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بُھلا دیا، تُوبھی مُسکرا، اُسے بُھول جا
کہیں چاکِ جاں کا رفو نہیں، کسی آستیں پہ لہو نہیں
کہ شہیدِ راہِ ملال کا نہیں خوں بہا، اُسے بُھول جا
کیوں اَٹا ہوا ہے غبارمیں، غمِ زندگی کے فشار میں
وہ جو درج تھا ترے بخت میں، سو وہ ہو گیا، اُسے بُھول جا
نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کس لیے، ترا جاگنا، اُسے بُھول جا
کتاب آنکھیں، فسانہ چہرہ، غزل نگاہیں، حسین مکھڑا
ردیف رنگت ، قوافی زلفیں، ہنسی سفینہ، نگین مکھڑا
رباب بندش، بدن قصیدہ، گریز جوبن، بہار فتنہ
شباب مصرعہ، جمال مطلع، قتال مقطع، متین مکھڑا
کمال لہجہ، نفیس باتیں، وقار فقرے، بلند آہنگ
سلگتی قربت، پگھلتا نخرہ، ادائیں قاتل، معین مکھڑا
فصیح ابرو، بلیغ پلکیں، سلاسی زلفیں، ثقیل جُوڑا
ذقن لطیفی ،نظر رموزی، حسن رباعی، فطین مکھڑا
بیاں شگفتہ، خیال سادہ، مزاج منطق، سلیس جملے
سراپا سخنی ، لطیف جسمی، وجود نظمی ، سبین مکھڑا
جمیل مکھڑا، نظیر مکھڑا، عقیق مکھڑا، عتیق مکھڑا
نسیم مکھڑا، رفیق مکھڑا، عظیم مکھڑا، مبین مکھڑا
سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام
ہر سر میں ہے رنگ دھنک کا تیرے نام
ہجر کی شب اکیلی رات کے خالی در
صبح فراق کا زرد اجالا تیرے نام
تیرے بنا جو عمر بیتی بیت گئی
اب اس عمر کا باقی حصہ تیرے نام
ان شاعر آنکھوں نے جتنے رنگ چنے
ان کا عکس اور میرا چہرہ تیرے نام
دکھ کے گہرے نیلے سمندر میں خاور
اس کی آنکھیں ایک جزیرہ تیرے نام
پھولوں کو دیکھ دیکھ کے شرما رہے ہیں آپ
کھلتا ہوا گلاب نظر آ رہے ہیں آپ
چہرے سے اپنے ریشمی آنچل ہٹایۓ
اس چاند سے، یہ زلف کا بادل ہٹایۓ
گھونگٹ کی چلمنوں میں چھپے جارہے ہیں آپ
پھولوں کو دیکھ دیکھ کے شرما رہے ہیں آپ
کھلتا ہوا گلاب نظر آ رہے ہیں آپ
ان تھر تھراتے ہونٹوں سے کچھ کام لیجیۓ
میں غیر تو نہیں ہوں میرا نام لیجیۓ
کیسی حیا ہے غیر بنے جا رہے ہیں آپ
پھولوں کو دیکھ دیکھ کے شرما رہے ہیں آپ
کھلتا ہوا گلاب نظر آرہے ہیں آپ
سہرے میں بندھ گئی ہے محبت کی ہر قسم
دنیا نے لاکھ روکا مگر مل گئے ہیں ہم
پھر داستان عشق کو دہرا رے ہیں آپ
پھولوں کو دیکھ دیکھ کے شرما رہے ہیں آپ
کھلتا ہوا گلاب نظر آرہے ہیں آپ
ہجر کے لمبے دن، جیسے ریت کا صحرا
جہاں راستہ بھی خواب بن کر
قدموں کے نیچے ٹوٹتا رہتا ہے۔
ادھورے لمحوں کے سائے
دھوپ میں بھی سیاہی لے آتے ہیں،
اور سخن کی نمی
دل کے کاغذ پر پھیل کر
موسم کا رنگ بدل دیتی ہے۔
دریچے کے اس پار
دو آنکھیں کھلی رہتی ہیں،
جن میں بارش رکی ہوئی ہے،
جیسے کوئی وعدہ،
جو پورا ہونے سے پہلے سو گیا ہو۔
میں خوابوں کی وسعت بڑھانا چاہتا ہوں،
مگر ہجر کے اندر
ایک خاموش زوال ہے،
جو ہر دن،
میرے اندر سے میرا ہی سایہ مٹا دیتا ہے۔
راہ دے وچ ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھلونا اوکھا
اپنا آپ ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکونا اوکھا
اینی ودھ گئی ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا داری
کلیاں بہہ کہ ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رونا اوکھا
داغ محبت والا ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلھیا
لگ جاوے تے ' ۔۔۔۔۔۔۔ دھونا اوکھا
جھلیا ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق کمانا اوکھا
کسے نوں ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یار بنانا اوکھا
پیار پیار تے ' ۔۔۔۔۔ ھر کوئی کوُکے
کر کے پیار ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نبھانا اوکھا
ھر کوئی ' دُکھاں تے ھس لیندا
کسے دا درد ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ونڈانا اوکھا
گلاں نال نہیں ' ۔۔۔۔۔۔۔ رُتبے ملدے
جوگی بھیس ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وٹانا اوکھا
کوئی کسے دی ' گل نئیں سن دا
لوکاں نوں ' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھانا اوکھا
تم کو ہماری چال کی "چ" تک نہیں پتہ
تم پھنس گئے ہو جال میں یہ تک نہیں پتہ
یہ عین شین قاف بھلا کیا کرو گے تم
تم کو تو پیار کی ابھی "پ" تک نہیں پتہ
دکھ درد میں نبھاؤ گے تم ساتھ کس طرح
تم کو ہمارے حال کی "ح" تک نہیں پتہ
رکھوالی اور پہرے میں کچھ فرق ہوتا ہے
اس فرق کی تم ایسوں کو "ف" تک نہیں پتہ
ہم کو ترے مزاج کی پت جھڑ نے کھا لیا
ہم کو کسی بہار کی "ب" تک نہیں پتہ
کیا خاک سمجھو گے مری آنکھوں کا خالی پن
ان رتجگوں کی تم کو تو "ر" تک نہیں پتہ
ہم مبتلائے عشق تھے سو مبتلا رہے
ہم کو کسی فرار کی "ف" تک نہیں پتہ
طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسے
میرے ہم راہ چلے گا مرا سایہ کیسے
میری آنکھوں کی چکا چوند بتا سکتی ہے
جس کو دیکھا ہی نہ جائے اُسے دیکھا کیسے
چاندنی اُس سے لپٹ جائے ہوائیں کھیلیں
کوئی رہ سکتا ہے دنیا میں اچھوتا کیسے
میں تو اُس وقت سے ڈرتا ہوں کہ وہ پوچھ نہ لے
یہ اگر ضبط کا آنسو ہے تو ٹپکا کیسے
یاد کے قصر ہیں امید کی قندیلیں ہیں
میں نے آباد کیے درد کے صحرا کیسے
اسلئیے صرف خدا سے ہے تخاطب میرا
میرے جذبات کو سمجھے گا فرشتہ کیسے
گر سمندر ہی سے دریاؤں کا رزق آتا ہے
اُس کے سینے میں اتر جاتے ہیں دریا کیسے
کیسے ہر سانس میں آ جاتا ہوں فردا کے قریب
پھر بھی فردا مجھے دے جاتا ہے دھوکا کیسے
زلف سے، چشم و لب و رخ سے، کہ تیرے غم سے
بات یہ ہے کہ دل و جاں کو رہا کس سے کریں
ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب بتا کون سے دھاگے کو جُدا کِس سے کریں
تو نہیں ہے تو پھر اے حسن سخن ساز بتا
اس بھرے شہر میں ہم جیسے ملا کس سے کریں
دل تو جگنو ھے، ستارہ نہیں ھونے والا
اب ہمیں عشق دوبارہ نہیں ھونے والا
دل کہیں اور نکل آیا ھے ، پاگل دُنیا
اب یہ درویش تمھارا نہیں ھونے والا
چاہِ عُشّاق پہ زم زم کا گماں ھوتا ھے
اِس کا پانی کبھی کھارا نہیں ھونے والا
شاہِ ہجراں ! تُو سخی ھے تو بڑھا دے مِرے دُکھ
میرا اک غم سے گزارا نہیں ھونے والا
خود نکلنا ھے ہمیں خود کو بچانے کے لئے
غیب سے کوئی اشارہ نہیں ھونے والا
رزق کی طے شدہ تقسیم بہت واضح ھے
جو تمھارا ھے، ھمارا نہیں ھونے والا
کھلا یہ راز کہ وہ رازدان تھا ہی نہیں
زباں تھی ایک مگر ہم زبان تھا ہی نہیں
سفر تمام ہوا.......... تب ہمیں بتایا گیا
زمین تھی ہی نہیں ....آسمان تھا ہی نہیں
🌹جو میرے درد پہ آنکھیں لہو .....لہو کرتا
وہ ربط اس کے مرے درمیان تھا ہی نہیں 🌹
ملادے بچھڑے ہوؤں کو جو اپنی منزل سے
مرے نصیب میں وہ کاروان ......تھا ہی نہیں
ہمارے دل پہ جو چھایا تھا ہجر کا موسم
عذاب تھا وہ کوئ ....امتحان تھا ہی نہیں..
🌹یقین کرتا رہا ہوں میں جس کی چاہت پر
ہمارے عشق کا اس کو گمان تھا ہی نہیں...🌹
میں جس کے شانے پہ سر رکھ کے رو دیا *طاہر*
وہ شخص مجھ پہ کبھی مہربان.....تھا ہی نہیں
اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیں
ہے جن سے گہرا تعلق وہ سارے آجائیں
تم اپنے اشک گراؤ مری ہتھیلی پر
مبادا پاؤں کے نیچے یہ تارے آجائیں
کسی طرح تو یہ سکراتِ ہجر ٹوٹے بھی
اٹھا کے رحل ، وظیفے ، سپارے آ جائیں
میں عشق کر کے بھی زندہ ہوں ، دیکھنے کے لیے
یہ ششدران ، یہ حیرت کے مارے ، آ جائیں
پناہ چاہئیے ؟ دی جان کی امان ، سو آپ
بلا جھجھک یہاں ، دل میں ہمارے آ جائیں
میں ایک پیڑ ہوں ، کہنے کی دیر ہے کومل
سبھی کے ہاتھوں میں کلہاڑے ، آرے آجائیں
تُمہارے لَمسْ کا اِک قَرْض مجھ پہ واجَب ہے
نَزَع سے پہلے مِلو چُھو کے سُرخرُو ٹھہروں!
تُمہارا حُسن جو اِک عارضی حوالہ ہے
میں تُم سے عِشق کروں. اِس کی آبرُو ٹھہروں
مجھے نظر میں سمو لو یہ میری خواہش ہے
تمہارے دل میں رہوں اور رُو برُو ٹھہروں
میں شاعری ہوں مِرے لفظ ڈھونڈتے ہیں تمہیں
مِرا خیال بنو تو میں خُوبرُو ٹھہروں
کتابِ عُمر کا اِک اور باب ختم ھوا
شباب ختم ھوا اِک عذاب ختم ھوا
ھوئی نجات سفر میں فریبِ صحرا سے
سراب ختم ھوا اِضطراب ختم ھوا
بَرس کے کھُل گیا بادل ہَوائے شب کی طرح
فلک پہ برق کا وہ پیچ و تاب ختم ھوا
جوابدہ نہ رھا میں کسی کے آگے مُنیرؔ
وہ اِک سوال اور ، اُس کا جواب ختم ھوا
ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں
صرف آنکھوں پہ کئی ایک زمانے لگ جائیں
میں اگر پھول کی پتی پہ ترا نام لکھوں
تتلیاں اُڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں
تو اگر ایک جھلک اپنی دکھا دے اُن کو
سب مصور تری تصویر بنانے لگ جائیں
ایک لمحے کو اگر تیرا تبسم دیکھیں
ہوش والوں کے سبھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں
ہم اگر وجد میں آئیں تو زمانے
کبھی
غزلیں تو کبھی خواب سنانے لگ جائیں
I published a song on StarMaker, check out my singing now!
#Akele Hain Chale Aao Jahan Ho#StarMakerListen to 'Akele Hain Chale Aao Jahan Ho' I sang! (StarMaker, free online karaoke)
https://m.starmakerstudios.com/d/playrecording?app=sm&from_sid=100044191551&is_convert=true&pg_rf_ca_vn=347&pid=ShareInvitation&recordingId=10414574239867540&share_type=whatsapp
کہیں چاند 🌙 راہوں میں کھو گیا؛ کہیں چاندنی بھٹک گئی________میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا میری آنکھ کیسے چمک گئ
مری داستاں کا عروج تھا؟ تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں_______مرےساتھ تجھ کو تھا جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی
ترے ہاتھ سے مرے ہونٹ تک وہی انتظار کی پیاس تھی؟
مرے نام کی جوشراب تھی کہیں راستے میں چھلک گئی؛
تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہوسکی______تری یاد شاخ گلاب ہےجو ہوا چلی تو لچک گئ
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔۔۔۔۔۔۔۔جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
اب نہ وہ میں ہوں؛ نہ توہے؛ نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں
ہمیشہ ساتھ رہنے کی عادت کچھ نہیں ہوتی
جو لمحے مل گئے جی لو ریاضت کچھ نہیں ہوتی
کئ رشتوں کو جب پرکھا.؟ نتیجہ ایک ہی نکلا
ضرورت ہی سب کچھ ہے محبت کچھ نہیں ہوتی
کسی نے چھوڑ کے جانا ہو۔۔ تو پھر چھوڑ ہی جاتا ہے
بچھڑنا ہو تو پھر صدیوں کی رفاقت کچھ نہیں ہوتی
تعلق ٹوٹ جائے تو۔۔؛ سفینے ڈوب جاتے ہیں
یہ سب کہنے کی باتیں ہیں حقیقت کچھ نہیں ہوتی
تیری جانب اگر چلے ہوتے
ہم نہ یوں دربدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں
کون آئے گا_____اب تے ہوتے
پا لیا میں نے ساری دنیا کو
کوئی خواہش نہیں ترے ہوتے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain