تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے──────⊱◈◈◈⊰──────ان کہی بات کو سمجھو گے تو یاد آؤنگا ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے──────⊱◈◈◈⊰────── صفحہ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤنگا اسی انداز میں پوتے تھے مخاطب مجھ سے──────⊱◈◈◈⊰──────خط کس اور کو لکھو گے تو یاد آؤنگا میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح──────⊱◈◈◈⊰──────تم اگرخد سے نہ بولو گے تو یاد آؤنگا اب تو یہ اشک میں ہونٹوں سے چرا لیتا ہوں✶⊶⊷⊶⊷❍⊶⊷⊶⊷✶ہاتھ سے خود انہیں پونچھو گے تو یاد آؤنگا شال پہنائے گا اب کون؟ دسمبر میں تمہیں✶⊶⊷⊶⊷❍⊶⊷⊶⊷✶بارشوں میں کبھی بھیگو گے تو یاد آؤنگا اس میں شامل ہے مرے بخت کی تاریکی بھی═════ ✥.❖.✥ ═════تم سیہ رنگ جو پہنو گے تو یاد آؤنگا
کس کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا فقط تم سے ہی کرتا ہوں میں ساری راز کی باتیں ہراک کو داستان دل سناکر کچھ نہیں ملتا نہ جانے کون سے جزے کی یوں تسکین کرتا ہوں بظاہر تو تمہارے خط جلا کر کچھ نہیں ملتا مجھے اکثر ستاروں سے یہی آواز آتی ہے کسی کے ہجر میں نیندیں گنوا کر کچھ نہیں ملتا جگرہوجائیگا چھلنی یہ آنکھیں خون روئیں گی──────⊱◈◈◈⊰──────وصی بےفیض لوگوں سےنبھاکر کچھ نہیں ملتا
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے؟ تو مل بھی جاتا تو آخر____ تجھے گنوا دیتے تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ؟ دعا وہ کرتے کہ ہم آسماں ہلا دیتے ہمیں یہ زعم رہا اب کے وہ پکارے گے انہیں یہ ضد تھی کہ ہربار ہم صدا دیتے وہ تراغم تھا کہ تاثیر میرے لہجے کی کہ جس کو حال سناتے اسے رلا دیتے تمہاری یاد نےکوئی جواب ہی نہ دیا مرے خیال کے آنسو رہے صدا دیتے سماعتوں کو میں تا عمر کوستا_____سید وہ کچھ نہ کہتے مگر ہونٹ تو ہلا دیتے ✶⊶⊷⊶⊷❍⊶⊷⊶⊷✶
کیسا___؟ مفتوح سا منظر ہے کئ صدیوں سے مرے قدموں پہ مرا سر ہےکئ صدیوں سے خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لےجائے میری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئ صدیوں سے اشک آنکھوں سے سلگتے ہوئے سوجاتے ہیں یہ مری آنکھ جو بنجر ہے کئ صدیوں سے کون کہتا ہے ملاقات مری آج کی ہے؟ تو مری روح کے اندر ہے کئ صدیوں سے
تمہارا_________نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے؟ کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں،؛؛ تیری یادوں کی خوشبو کھڑکیوں میں رقص کرتی ہے ترے غم میں سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں میں ہنس کے جھیل لیتا ہوں جدائی کی سبھی رسمیں؛ گلےجب اس کے لگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ترے کوچے سے اب میرا تعلق واجبی ساہے مگر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے میرے دل پر______________ وصی میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں_____________✍️
ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا؛ اتنا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا اک بگولے کی طرح ڈھونڈتے پھرنا تجھ کو !!!روبرو ہو تو نہ شکوہ نہ شکایت کرنا اےےےے اسیر ؛؛ قفس سحر انا دیکھ آکر کتنا مشکل ہے۔ ترے شہر سے ہجرت کرنا؛؛ جمع کرنا تہ مژگاں تجھے قطرہ؛ قطرہ رات بھر پھر تجھے ٹکڑوں میں روایت کرنا •••••••••••••••••••••••••••••
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں؟ ہیں کئی ہجر__________ درمیاں جاناں رائیگاں وصل میں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقت ہوا ؛؛؛ پر ہوا خوب رائیگاں جاناں میرے اندر ہی تو کہیں گم ہے کس سے پوچھوں؟ ترا نشاں جاناں روشنی__________ بھر گئی نگاہوں میں ہوگئے خواب___________ بےاماں جاناں اب بھی؛؛ جھیلوں میں عکس پڑتے ہیں !!!!!اب نیلا ہے آسماں جاناں ہےجو پرخوں_____سے تمہارا عکس خیال _____________________________ زخم آئے کہاں کہاں جاناں
کچھ_____ دن تو بسو میری آنکھوں میں؛ پھر________ خواب اگر ہو جاؤ تو کیا کوئی رنگ تو دو میرے چہرے کو پھر___________ زخم اگر مہکاو تو کیا میں تنہا تھا میں تنہا ہوں ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛تم آؤ تو کیا؛؛؛؛؛نہ آؤ تو کیا اک________وہم ہے یہ دنیا اس میں؛ کچھ کھوو تو کیا کچھ پاؤ تو کیا؟
میں نے روکا بھی نہیں؛ اور وہ ٹھہرا بھی نہیں؛ حادثہ کیا تھا؟ جسےدل نے بھلایا بھی نہیں؛؛؛ کون سا موڑہے کیوں پاؤں پکڑتی ہے زمیں؟ اس کی بستی بھی نہیں کوئی پکارا بھی نہیں؛؛؛ وہ تو صدیوں کا سفر کرکے یہاں پہنچا تھا! تونے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں؛؛؛ _____________💌---------------
دل منافک تھا شبِ ہجر میں سویا کیسا اور جب تجھ سےملا ٹوٹ کہ رویا کیسا؛؛ زندگی میں بھی غزل ہی کا قرینہ رکھا! خواب در خواب ترے غم کو پرویا کیسا؛؛ اب تو چہروں پہ بھی کتبوں کا گماں ہوتا ہے!!! آنکھیں پتھرائی ہوئی ہیں لب گویا کیسا؛؛ دیکھ اب قرب کا موسم بھی نہ سر سبز لگے!!! ہجر ہی ہجر مراسم میں سمویا کیسا؛؛؛ ایک_____آنسو تھا کہ دریائے ندامت تھا فراز! دل سے بےباک شناور کو ڈبویا کیسا ______________🦋______________
ٹھہرو ذرا کہ مرگِ تمنا سے بیشتر؛؛؛ اپنی رفاقتوں کو پلٹ کر بھی دیکھ لیں؛ گزری مسافتوں پہ بھی ڈالیں ذرا نظر قربت کی ساعتوں کا مقدر بھی دیکھ لیں شاید!! کہ مل سکے نہ نئے موسموں میں ہم؛؛؛ جاتی رتوں کے آخری منظر بھی دیکھ لیں ________🕊️___________________
جب ہم ہوئے تھے شوق کی راہوں پہ گامزن؛؛؛؛؛ رہزن نہیں ملے تھے کہ مقتل نہ آئے تھے صحرائے غم سے تابہ ہوائے گل مراد_______کن کن قیامتوں نے نہ فتنے اٹھائے تھے قول و قرار و واعدہ و پیماں سے بے خبر؛ یہ خواب یہ گلاب ہمیں نے سجائے تھے
کہیں پلکیں اوس سے دھو گئی کہیں دل کو پھولوں سے بھر گئی تری یاد سولہ سنگھار ہے جسے چھو دیا وہ سنور گئی!!! تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئ 📉📈📉📈📉📈📉📈📉📈📉📈📉📈 م
ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا؛؛؛ اسے یاد کرکے نہ دل دکھا جو گزر گیا سو گزر گیا؛؛ نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے؛ یونہی راستے میں فدا ہوئے! نہ توبےوفا نہ میں بےوفا جو گزر گیا سو گزر گیا!!! وہ غزل کی اک کتاب تھا وہ گلوں میں اک گلاب تھا________ذرادیرکاکوئ خواب تھا جو گزر گیا سو گزر گیا وہ اداس دھوپ سمیٹ کر کہیں وادیوں میں اتر گیا_______اسے اب نہ دے میرے دل صدا جو گزر گیا سو گزر گیا یہ سفر بھی کتنا طویل ہے؛ یہاں وقت کتنا قلیل ہے__________کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا جو گزر گیا سو گزر گیا کوئی فرق شاہ وگدا نہیں کہ یہاں کسی کی بقاء نہیں_____________یہ اجاڑ محلوں کی سن صدا____جو گزر گیا سو گزر گیا
عجب موسم ہے؛؛؛؛ میرے ہر قدم پہ پھول رکھتاہے_____محبت میں محبت کا فرشتہ ساتھ چلتا ہے ہر آنسو میں کوئ تصویر اکثر جھلملاتی ہے؛؛؛؛؛؛؛؛؛تمہیں آنکھیں بتائیں گی دئیوں میں کون جلتا ہے میں جب سوجاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا؛؛؛؛؛؛؛؛ یقین آجاے گا پلکوں تلے بھی 💓 دل دھڑکتا ہے "محبت" غم کی بارش ہے زمین سرسبز ہوتی ہے؛؛؛؛ بہت سے پھول کھلتے ہیں جہاں 🌧️🌧️🌧️ساون برستا ہے__________☄️☄️☄️☄️
تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں؛؛ تری یاد شاخ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک گئ___٫ تری یاد آ ئیے تو چپ رہوں""ذرا چپ رہوں تو غزل لکھوں_____یہ عجب آگ کی بیل تھی میرے تن بدن سے لپٹ گئی