انھیں خبر کی نہیں ہے کچھ امتحانوں کی
جو پوچھتے ہیں کہ، ہے کیا، کمال زندگی کا
گزارہ دی ہے عبید آزمائشوں کے بیچ
تمام عمر رہے گا ملال زندگی کا
ع ر ع
کیا کسی کی خبر رکھوں، کہ مرا
ذہن سو الجھنوں میں الجھا ہے
عبید رضا عباس
ایک مطلع ایک شعر
خوشنصیبی ترے در پر تو نہیں
تو مقدر کا سکندر تو نہیں
۔
مجھ سے بچ بچ کے گزرتا کیوں ہے
میں تری راہ کا پتھر تو نہیں
عبید رضا عباس
دیکھیے قوتِ دماغ عبید
بوجھ اتنا نہ لادیے اس پر
عبید رضا عباس
آپ کے ہاتھ آ گیا ہوں اگر
لاج رکھیے گا کچھ جناب مری
عبید رضا عباس
چاہ میں دنیا کے گنوا دی آخرت
رہ گیا نقصان اور کیا ہونے کو
ع ر ع
جس کا افسوس رہے ساری عمر
بھول ایسی بھی نہ ہونے پائے
عبید رضا عباس
سادہ دقیق نثر
بڑھاؤ ہاتھ لیکن خود سمجھ کر
سبھی کے ساتھ چلنا سہل کب ہے
ع ر ع
زیر اک وار میں ہونے والے
تو مجھے اپنی مہارت نہ بتا
عبید رضا عباس
خیر چھوڑو اس بھیانک خواب کو
جو کیا اس نے وہ اچھا تو نہ تھا
عبید رضا عباس
دل نے کہنا بھی گوارا نہ کیا
کھو دیا ، بھول گیا ہوں، اس کو
ع ر ع
مطلع
غم حیات صراحی کی میے بڑھائے گی
اداس شام اداسی کی لے بڑھائے گی
ع ر ع
ذہن کو ٹھیک سجھاو نہ ملے
پھر ہے بیکار سمجھداری بھی
عبید رضا عباس
کون سمجھے گا بھلا تم کو عبید
مسئلہ یہ بھی ایک سلجھانے کا ہے
ع ر ع
میری چالوں سے تو کہاں واقف
تجھ کو مہلت نہ دو سنبھلنے کی
ع ر ع
معترف جھوٹ کے نہ ہوتے ہوئے
تیری آنکھوں پہ کیا کہیں گے لوگ
عبید رضا عباس
فیصلہ سوچ سمجھ کے کیتا
فاصلہ سوچ سمجھ کے کیتا
ظرف معیار رکھا اے اپنڑا
آئنہ سوچ سمجھ کے کیتا
ع ر ع
مجھے یہ بات نہ سمجھا سکا وہ دست شناس
کہ میری عُمر سے لمبی ہے کیوں سفر کی لکیر
ڈاکٹر شبیہ الحسن رضوی
اس برے وقت سے نکلنے کی
وقت مہلت بھی تو نہیں دیتا
ع ر ع
اب ملے ہم تو کئی لوگ بچھڑ جائیں گے
انتظار اور کرو __ _ __ اگلے جنم تک میرا
بشیر بدر