کسی نے کہا تھا 
.
کسی بھی تعلق ہی بات ہی اور ہے
میں تو کبھی تک میں پہل نہیں کرتی
اور تمھارا اتنا مغرور ہونا بنتا تھا
تم جانتے جو تھے میں ہر کسی پر نہیں
مرتی💯🥀🧸🖤
پھر نہ ملیں گے
تجھے
کسی جلی کتاب میں
لفظوں کی طرح🦋✌️🖤
آج خوشبوؤں کی شاعرہ کا جنم دن ہے
تو تو دھتکارا تو پھر غیر کی ہونے کےلیے،
اس قدر دل سے سجی، سکتے ہوئے رونے لگی۔
دکھ ہوا کرتا ہے کچھ اور بیاں
بات کچھ اور ہوا کرتی ہے
پروین شاکر
غزل اسے کہتے ہیں
ہنگامہء دنیا سے تجھے ڈھونڈ کے لائے
وہ نیند کہاں ہے جو ترا خواب دکھائے
ہے کون سی صورت تری صورت کے مقابل
ہے کون سراپا جو ترے سامنے آئے
وہ صبح کا تارا ہو کہ جھونکا ہو ہوا کا
اب کوئی تو آئے جو تری بات بتائے
میں حسن کی تصویر میں کچھ رنگ بھروں گا
اس کارِ خدائی میں کوئی ہاتھ بٹائے
اےظلم کے ہنگام میں خاموش کھڑے شخص
تجھ کو کسی مظلوم کی لگ جائے نہ ہائے
اب دھول ہوئی جاتی ہے خواہش بھی انا بھی
اب کوئی مرے ساتھ محبت نہ جتائے
معیارِ سماعت کا تقاضا تو یہی ہے
جو شعر سمجھتا ہو وہی مصرع اٹھائے
افتخار حیدر
منقبت کا شعر ہے
میں روشنی کا قصیدہ نگار ہوں سرور
اندھیرے اس لیے مجھ سے حسد میں رہتے ہیں
نواب سرور لکھنوی
میں اس امید پہ ڈوبا کہ وہ بچا لے گا
اب اس کے بعد مرا امتحان کیا لے گا
پروفیسر وسیم بریلوی
اب گزری ہوئی عمر کو اواز نہ دینا
اب دھول میں لپٹا ہوا بچپن نہ ملے گا
انور جلال پوری
یاد آوں گا تجھے ذہن کی ہر منزل پر
حرف سادہ تو نہیں ہوں کہ بھلایا جاؤں
محسن نقوی
بن ترے ہم نے جی کے دیکھا ہے
بن کسی کے کوئی بھی مرتا نہیں
سجل کانپوری
فیصلہ کوئی بھی ہو دل میں اتر کر کرنا
جو تجھ کو دل میں رکھے اس کو ہمسفر کرنا
میرے ماتھے کی لکیریں بھی یہی کہتے ہیں امبر
یہ محبت ہے ذرا سوچ سمجھ کر کرنا
انامیکا جین امبر
ہم بھی اپنے وقت کے بگڑے ہوئے
وہ بھی اپنے وقت کا ٹوٹا ہوا
اسحاق اثر اندوری
ایک پرانا شعر
امیر شہر کے کتوں کی موج کے کارن
غریب شہر غریبی میں دن بدن آگے
عبید رضا عباس
میر کی ہندی بحر
یہ کیا جانے سیاہ و ابیض
دل کب وحشت سے نکل پایا
ع ر ع
دیکھنے والے سوچتے ہی رہے
میں نے جس فن سے زندگی جی ہے
عبیدؔ
دو شعر ۔
ایک برے خواب کی طرح پل میں
ہے یقیں مجھ کو بھول جائے گا
۔۔
بھول کر سب شکایتیں اپنی
میں بلاؤں ، تو وہ نہ آئے گا ؟
عبید رضا عباس
رہ چکا ہے ڈر بہت اس دل میں بھی
ع ر ع
غلط نظر بھی علی میں نہ پا سکی پستی
علی خدا نظر آئے اگر غلط دیکھا
علیہ السلام
جہاں تلہ گنگ میں گندم اور مونگ پھلی اپنی پہچان آپ ہیں، وہیں ایک ضرب المثال بھی مشہور ہے
"تلہ گنگ نی تا ماں وی چنگی نئیں"

تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
ادا جعفری
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain