کھوکھلی ہیں اس کی بنیادیں اثر
چند سانسوں پر کھڑا ہے آدمی
اسحاق اثر اندوری
"دل میں بے چینیاں ہزاروں ہیں"
حوصلہ ہارنے لگا تھا جب
اس کو ہمت سے لاجواب کیا
عبید رضا عباس
شکریہ شب کہ تیرے آنے سے
بے سکوں کچھ سکون پاتے ہیں
عبید رضا عباس
فاش کرتے ہیں دوسروں کے راز
جرم اپنا مگر چھپاتے ہیں
ع ر ع
لازمی ہے عبید ان کی سزا
جو خطائیں ہوئیں ہیں دانستہ
ع ر ع
خواہش دل کسی نے پوچھی تو
ہم نے رو رو کے بس "خوشی" مانگی
عبید رضا عباس
ہیں کڑے امتحاں مقدر کے
اب تمنائیں، دل نہیں رکھتا
عبید رضا عباس
یوں پریشانیوں نے گھیرا ہے
چھن گئے قہقہے جوانی میں
عبید رضا عباس
آئنہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر
ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے
سلیم کوثر
ادھر تو لوگ اچھی باتیں بھی کرتے ہیں ۔
مجھے اپنی آنکھوں پہ تو بھروسہ ہے لیکن دماغ اور ذہن تسلیم نہیں کر رہا ہے ۔
موت سے پہلے کسی اگلے جنم کا فیصلہ
زندگی بار دگر رکھے گی اور سو جائے گی
امداد آکاش
حاصل نہ ہو سکے گا وہ گل بدن عبید ،
یہ جانتے ہوئے بھی تمنا نہ چھوڑیے۔
عبید رضا عباس
سنبھلے کے لیے ایک ٹھوکر بھی کافی ہوتی ہے ۔
ع ر ع
مجھ کو دے دیجیے حضور سبھی
جو پریشانیاں ہیں آپ کے ساتھ
عبید رضا عباس
ہزار سانحے پردیس میں گزرتے ہیں
جو ہو سکے تو ہم سے رابطہ رکھنا
صابر ظفر
یارو! نفاست سے حظ اُٹھاو ۔
۔
میں تو سوچوں میں گم نہیں ہوتا
درد ملتے ہی شعر ہو جائے
۔
عبید رضا عباس
لاکھ الزام تم لگاؤ پر
کچھ نہ پھر بھی بگاڑ پاؤ گے
عبید رضا عباس
تازہ واردہ
مجھ پہ تہمت لگا گیا ہے وہ
اصل اپنی دکھا گیا ہے وہ
مجھ کو نیچا دکھانے کی خاطر
خود کو کچھ اور گرا گیا ہے وہ
تم مرے عیب ، اب گنا رہے ہو
پہلے سے آزما گیا ہے وہ
کھل چکی ہیں حقیقتیں سب کی
ایسے پردا گرا گیا ہے وہ
عبید رضا عباس
انتہا کی ہے پریشانیوں نے
پھر بھی ہم چیں بہ جبیں ہو نہ سکے
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain