Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

کھوکھلی ہیں اس کی بنیادیں اثر
چند سانسوں پر کھڑا ہے آدمی
اسحاق اثر اندوری

Abeed
 

"دل میں بے چینیاں ہزاروں ہیں"

Abeed
 

حوصلہ ہارنے لگا تھا جب
اس کو ہمت سے لاجواب کیا
عبید رضا عباس

Abeed
 

شکریہ شب کہ تیرے آنے سے
بے سکوں کچھ سکون پاتے ہیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

فاش کرتے ہیں دوسروں کے راز
جرم اپنا مگر چھپاتے ہیں
ع ر ع

Abeed
 

لازمی ہے عبید ان کی سزا
جو خطائیں ہوئیں ہیں دانستہ
ع ر ع

Abeed
 

خواہش دل کسی نے پوچھی تو
ہم نے رو رو کے بس "خوشی" مانگی
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہیں کڑے امتحاں مقدر کے
اب تمنائیں، دل نہیں رکھتا
عبید رضا عباس

Abeed
 

یوں پریشانیوں نے گھیرا ہے
چھن گئے قہقہے جوانی میں
عبید رضا عباس

Abeed
 

آئنہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر
ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے
سلیم کوثر

Abeed
 

ادھر تو لوگ اچھی باتیں بھی کرتے ہیں ۔
مجھے اپنی آنکھوں پہ تو بھروسہ ہے لیکن دماغ اور ذہن تسلیم نہیں کر رہا ہے ۔

Abeed
 

موت سے پہلے کسی اگلے جنم کا فیصلہ
زندگی بار دگر رکھے گی اور سو جائے گی
امداد آکاش

Abeed
 

حاصل نہ ہو سکے گا وہ گل بدن عبید ،
یہ جانتے ہوئے بھی تمنا نہ چھوڑیے۔
عبید رضا عباس

Abeed
 

سنبھلے کے لیے ایک ٹھوکر بھی کافی ہوتی ہے ۔
ع ر ع

Abeed
 

مجھ کو دے دیجیے حضور سبھی
جو پریشانیاں ہیں آپ کے ساتھ
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہزار سانحے پردیس میں گزرتے ہیں
جو ہو سکے تو ہم سے رابطہ رکھنا
صابر ظفر

Abeed
 

یارو! نفاست سے حظ اُٹھاو ۔
۔
میں تو سوچوں میں گم نہیں ہوتا
درد ملتے ہی شعر ہو جائے
۔
عبید رضا عباس

Abeed
 

لاکھ الزام تم لگاؤ پر
کچھ نہ پھر بھی بگاڑ پاؤ گے
عبید رضا عباس

Abeed
 

تازہ واردہ
مجھ پہ تہمت لگا گیا ہے وہ
اصل اپنی دکھا گیا ہے وہ
مجھ کو نیچا دکھانے کی خاطر
خود کو کچھ اور گرا گیا ہے وہ
تم مرے عیب ، اب گنا رہے ہو
پہلے سے آزما گیا ہے وہ
کھل چکی ہیں حقیقتیں سب کی
ایسے پردا گرا گیا ہے وہ
عبید رضا عباس

Abeed
 

انتہا کی ہے پریشانیوں نے
پھر بھی ہم چیں بہ جبیں ہو نہ سکے
عبید رضا عباس