آغاز صبح اس عظیم ذات کے نام سے جو ہر لحاظ سے لائق تکریم ہے جس کی الوہیت کے گواہ اٹھارہ ہزار عالمین ہیں ۔ سوز بھی ساز بھی ہر نغمہ سرائی تیری ذرے ذرے پہ جہاں کے ہے خدائی تیری
اہل زبان، اس غزل کی شرح کر کے اپنے جوہر دکھائیں ۔ ۔ ۔ ۔ باب,تحریر مکافات, جنوں تھا۔ یوں تھا سوز, دل درجہء ایقان و سکوں تھا۔ یوں تھا رات تا دیر لب, بام رھے اشک رواں قصہء گریہء مہتاب, زبوں تھا یوں تھا پاؤں بھی کاٹ دیئے حلقہء زنجیر کے ساتھ وائے الفت کہ مرا شوق فزوں تھا یوں تھا پھر نظر آیا شب, تار جو محمل کا وجود خواب تھا یا کہ مرا جذب, بروں تھا یوں تھا آج ھیں اہل, ہنر اپنے ظواہر کے رقیب میری تجدید کے رستے میں دروں تھا یوں تھا عشق نے قصر, علی نام لکھا تھا گھر پر جس کے اطراف محبت کا فسوں تھا یوں تھا علی مزمل
ہمارے ساتھ بات کرنے کی چاہ انھیں بھی رہی جن سے ملنے کےلیے لوگ وقت لیتے ہیں ، افسوس ہم ناقدری کرنے والوں کو میسر تھے جس کا نقصان کبھی پورا نہیں ہو سکتا ۔ ع ر ع
جب آپ کو کسی شے کا علم نہ ہو تو زبردستی خود کو اس میں گھسیڑنا بھی نہیں چاہیے آپ جیسے آئیں بائیں شائیں والے سیکڑوں افراد میرا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں جو کسی صورت قابل معافی نہیں ۔