سادگی اس قدر نہیں اچھی
سیکھیے کچھ تو اس زمانے سے
ع ر ع
دل جو رشوت قبول کرتا تو
آپ سے بد گمان کر دیتے
ع ر ع
جاری غزل سے ایک شعر
گر خریدار مل نہ پائیں تو
لفظ ضائع مزید ہوتے ہیں
عبید رضا عباس
کچھ نہ بدلے گا جانتے ہوئے بھی
سوچتے ہیں نصیب کے بارے
عبید رضا عباس
دل کی آواز
آہ! نیکی وہی دریا میں بہا دیتا ہے
جس کا احساس ضرورت سے زیادہ کر لو
عبید رضا عباس
وہ سبب بن گئی ندامت کا
جو خطا ہو گئی تھی بھولے سے
ع ر ع
لوگ افسوس کریں آنکھوں کا
رہ گئے خواب ادھورے اپنے
عبید رضا عباس
نشے میں دھت بھی ہوئے تو قدم سنبھل کے رکھے
ہم نے تیرے ساتھ زمانے آخر تک انصاف کیا
دل بھی اپنا صاف رکھا ہے ہاتھ بھی خالی رکھے ہیں ۔
ا ا ا
ہمارے نام سے منسوب جب ہوئی دنیا
نجانے کتنے جہاں انقلاب میں آئے ۔
مالک کائنات استاد محترم کے درجات مزید بلند فرمائیں ۔
الہی آمین
بہت سچا اور داخلیت کا حامل شعر (کیفیت ابھی یوں ہی ہے)
تجھ سے تعلقات کی گنجائشیں گئیں
پھر بھی ترے خیال کا ٹکراؤ ساتھ ہے
استاد محترم اسحاق اثر اندوری
استاد معظم کی غزل ملاحظہ بفرمائید ۔
1- سن رہا ہوں ہر بھلے کاموں میں شامل آپ ہیں ۔
اس لیے ہی دل میں رکھ لینے کے قابل آپ ہیں ۔
2- آپکے اخلاق نے لوگوں پہ جادو کر دیا ،
ایسا لگتا ہے کہ خاص و عام کا دل آپ ہیں ۔
3- تیری میری کرتے کرتے تو زمانے ہو گئے ،
مثل قارونی خزانوں کے جو حاصل آپ ہیں ۔
4- چھوڑ کر جانا پڑیگا ایک دن سب مال و زر ،
کیوں ابھی تک اس حقیقت سے بھی غافل آپ ہیں ۔
5- رونقیں بازار کی سب آپ ہی کے دم سے ہیں ،
بھاڑ میں ہے پردہ داری شمع محفل آپ ہیں ۔
6- ہر ہنر مجھ سے ہی سیکھے، اور یہ سب دیکھ کر ،
میں تو خود حیران ہوں، میرے مقابل آپ ہیں ۔
7- کہتے ہیں الفاظ اور مفہوم کہ "راشد" میاں ،
ہم کو غزلوں میں پرو لینے کے قابل آپ ہیں
خاکپاے بزرگان ادب:
راشد خان "راشد", راوت بھاٹہ، کوٹہ، راجستھان، انڈیا،
لاکھ تصویر کھنچوا لو بن ٹھن کے تم
حسن یوسف کسی کو ملے گا نہیں
ل ح
شعر دیکھیے
اک عمر کا چڑھا ہوا دریا اتر گیا
بیٹے نی پی تو باپ کا نشہ اتر گیا
دل کا اور دکھوں کا یہ تال مال تو دیکھو
جسم میں جہاں دل ہے درد بھی وہیں پر ہے
شبینہ ادیب کانپوری
خدائے سخن میر تقی میر کی زمین میں
تم بتاؤ میں جب نہیں آتا ؟
اک بلاوے پہ کب نہیں آتا ؟
منہ دکھاتا میں کیا زمانے کو
تو اگر آج شب نہیں آتا
کیسا مخلص ہے چاہنے والا
جب ضرورت ہو تب نہیں آتا
زیاں سانسوں کا کر رہا ہے وہ
جس کو جینے کا ڈھب نہیں آتا
میں تری خصلتوں سے واقف ہوں
تو کبھی بے سبب نہیں آتا
اس کے سر پر نہ تاج رکھیے گا
جس کو کرنا ادب نہیں آتا
مہربانی ہے دوستوں کی، عبید
کسی جھانسے میں اب نہیں آتا
عبید رضا عباس
مجھے لاڈ کرتی ہے اکثر اداسی
کسے اور ایسی میسر اداسی
مجھے اپنا جیسا بنایا ہے اس نے
مرے حصے آئی ہے سندر اداسی
ہوا سہل رستہ مری زندگی کا
بنی جب سے جیون میں رہبر اداسی
چھڑائیں گے کیسے بھلا جان اس سے
کہ پیچھے پڑی ہاتھ دھو کر اداسی
عبید آج اپنوں نے چھوڑا یہ کہہ کر
مری جان تیرا مقدر اداسی
عبید رضا عباس
میں نے ہنستے ہوئے بس بات کی ہے
فکر پاگل کو مساوات کی ہے
تجھ سے واقف ہوں فریبی دنیا
تیری پہچان میں دن رات کی ہے
آنکھ درکار ہے ہر بار تری
یہ ندا خوابِ طلسمات کی ہے
دن اجالے میں سنور کر نکلے
ہم سفر تیرگی بس رات کی ہے
ہار کر میں نے بہت کچھ سیکھا
جیت سے بڑھ کے خوشی مات کی ہے
فاطمہ (ع) آپ کے بچوں کے طفیل
آبرو دہر میں سادات کی ہے
ظلم کرتے ہوئے کب سوچتے ہیں
کہ نظر سب پہ مکافات کی ہے
مول گھٹتا ہے وہاں رہنے سے مرا
جس جگہ قدر نہ جذبات کی ہے
پیاس تلچھٹ سے نہ بجھتی ہے "عبیدؔ"
تشنگی عرض و سماوات کی ہے
عبید رضا عباس
یہ محبت تو بس اس کی سوغات ہے
ورنہ میں کیا ہوں کیا میری اوقات ہے
میں نے دیکھے ہیں لاکھوں سخنور مگر
آپ کی بات بس آپ کی بات ہے
گر ہے جنت زمین پہ تو بس ہے یہی
آپ ہم ہیں غزل ہے حسیں رات ہے
تم سے ملتے ہوئے مجھ کو آئی حیا
ایسا لگتا ہے پہلی ملاقات ہے
لتا حیا
لہجے تھے جن کے پھول سے مخمل سا تھا مزاج
حالات نے انھیں بھی کٹاری بنا دیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain