Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

سادگی اس قدر نہیں اچھی
سیکھیے کچھ تو اس زمانے سے
ع ر ع

Abeed
 

دل جو رشوت قبول کرتا تو
آپ سے بد گمان کر دیتے
ع ر ع

Abeed
 

جاری غزل سے ایک شعر
گر خریدار مل نہ پائیں تو
لفظ ضائع مزید ہوتے ہیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

کچھ نہ بدلے گا جانتے ہوئے بھی
سوچتے ہیں نصیب کے بارے
عبید رضا عباس

Abeed
 

دل کی آواز
آہ! نیکی وہی دریا میں بہا دیتا ہے
جس کا احساس ضرورت سے زیادہ کر لو
عبید رضا عباس

Abeed
 

وہ سبب بن گئی ندامت کا
جو خطا ہو گئی تھی بھولے سے
ع ر ع

Abeed
 

لوگ افسوس کریں آنکھوں کا
رہ گئے خواب ادھورے اپنے
عبید رضا عباس

Abeed
 

نشے میں دھت بھی ہوئے تو قدم سنبھل کے رکھے

Abeed
 

ہم نے تیرے ساتھ زمانے آخر تک انصاف کیا
دل بھی اپنا صاف رکھا ہے ہاتھ بھی خالی رکھے ہیں ۔
ا ا ا

Abeed
 

ہمارے نام سے منسوب جب ہوئی دنیا
نجانے کتنے جہاں انقلاب میں آئے ۔
مالک کائنات استاد محترم کے درجات مزید بلند فرمائیں ۔
الہی آمین

Abeed
 

بہت سچا اور داخلیت کا حامل شعر (کیفیت ابھی یوں ہی ہے)
تجھ سے تعلقات کی گنجائشیں گئیں
پھر بھی ترے خیال کا ٹکراؤ ساتھ ہے
استاد محترم اسحاق اثر اندوری

Abeed
 

استاد معظم کی غزل ملاحظہ بفرمائید ۔
1- سن رہا ہوں ہر بھلے کاموں میں شامل آپ ہیں ۔
اس لیے ہی دل میں رکھ لینے کے قابل آپ ہیں ۔
2- آپکے اخلاق نے لوگوں پہ جادو کر دیا ،
ایسا لگتا ہے کہ خاص و عام کا دل آپ ہیں ۔
3- تیری میری کرتے کرتے تو زمانے ہو گئے ،
مثل قارونی خزانوں کے جو حاصل آپ ہیں ۔
4- چھوڑ کر جانا پڑیگا ایک دن سب مال و زر ،
کیوں ابھی تک اس حقیقت سے بھی غافل آپ ہیں ۔
5- رونقیں بازار کی سب آپ ہی کے دم سے ہیں ،
بھاڑ میں ہے پردہ داری شمع محفل آپ ہیں ۔
6- ہر ہنر مجھ سے ہی سیکھے، اور یہ سب دیکھ کر ،
میں تو خود حیران ہوں، میرے مقابل آپ ہیں ۔
7- کہتے ہیں الفاظ اور مفہوم کہ "راشد" میاں ،
ہم کو غزلوں میں پرو لینے کے قابل آپ ہیں
خاکپاے بزرگان ادب:
راشد خان "راشد", راوت بھاٹہ، کوٹہ، راجستھان، انڈیا،

Abeed
 

لاکھ تصویر کھنچوا لو بن ٹھن کے تم
حسن یوسف کسی کو ملے گا نہیں
ل ح

Abeed
 

شعر دیکھیے
اک عمر کا چڑھا ہوا دریا اتر گیا
بیٹے نی پی تو باپ کا نشہ اتر گیا

Abeed
 

دل کا اور دکھوں کا یہ تال مال تو دیکھو
جسم میں جہاں دل ہے درد بھی وہیں پر ہے
شبینہ ادیب کانپوری

Abeed
 

خدائے سخن میر تقی میر کی زمین میں
تم بتاؤ میں جب نہیں آتا ؟
اک بلاوے پہ کب نہیں آتا ؟
منہ دکھاتا میں کیا زمانے کو
تو اگر آج شب نہیں آتا
کیسا مخلص ہے چاہنے والا
جب ضرورت ہو تب نہیں آتا
زیاں سانسوں کا کر رہا ہے وہ
جس کو جینے کا ڈھب نہیں آتا
میں تری خصلتوں سے واقف ہوں
تو کبھی بے سبب نہیں آتا
اس کے سر پر نہ تاج رکھیے گا
جس کو کرنا ادب نہیں آتا
مہربانی ہے دوستوں کی، عبید
کسی جھانسے میں اب نہیں آتا
عبید رضا عباس

Abeed
 

مجھے لاڈ کرتی ہے اکثر اداسی
کسے اور ایسی میسر اداسی
مجھے اپنا جیسا بنایا ہے اس نے
مرے حصے آئی ہے سندر اداسی
ہوا سہل رستہ مری زندگی کا
بنی جب سے جیون میں رہبر اداسی
چھڑائیں گے کیسے بھلا جان اس سے
کہ پیچھے پڑی ہاتھ دھو کر اداسی
عبید آج اپنوں نے چھوڑا یہ کہہ کر
مری جان تیرا مقدر اداسی
عبید رضا عباس

Abeed
 

میں نے ہنستے ہوئے بس بات کی ہے
فکر پاگل کو مساوات کی ہے
تجھ سے واقف ہوں فریبی دنیا
تیری پہچان میں دن رات کی ہے
آنکھ درکار ہے ہر بار تری
یہ ندا خوابِ طلسمات کی ہے
دن اجالے میں سنور کر نکلے
ہم سفر تیرگی بس رات کی ہے
ہار کر میں نے بہت کچھ سیکھا
جیت سے بڑھ کے خوشی مات کی ہے
فاطمہ (ع) آپ کے بچوں کے طفیل
آبرو دہر میں سادات کی ہے
ظلم کرتے ہوئے کب سوچتے ہیں
کہ نظر سب پہ مکافات کی ہے
مول گھٹتا ہے وہاں رہنے سے مرا
جس جگہ قدر نہ جذبات کی ہے
پیاس تلچھٹ سے نہ بجھتی ہے "عبیدؔ"
تشنگی عرض و سماوات کی ہے
عبید رضا عباس

Abeed
 

یہ محبت تو بس اس کی سوغات ہے
ورنہ میں کیا ہوں کیا میری اوقات ہے
میں نے دیکھے ہیں لاکھوں سخنور مگر
آپ کی بات بس آپ کی بات ہے
گر ہے جنت زمین پہ تو بس ہے یہی
آپ ہم ہیں غزل ہے حسیں رات ہے
تم سے ملتے ہوئے مجھ کو آئی حیا
ایسا لگتا ہے پہلی ملاقات ہے
لتا حیا

Abeed
 

لہجے تھے جن کے پھول سے مخمل سا تھا مزاج
حالات نے انھیں بھی کٹاری بنا دیا