کسی کی بات میں آ کر جو آنا ہو تو مت آنا
اگر جانے کا پہلے سے بہانا ہو تو مت آنا
ن م
استاد معظم کی غزل پیش خدمت ہے ملاحظہ فرمائیں ۔
1- محبتوں میں وفا آزمانی پڑتی ہے ۔
خموش رہہ کے بھی عزت بچانی پڑتی ہے ۔
2- جو زخم دل پہ لگے ہیں انہیں چھپانے کو ،
ہمیشہ جھوٹی کہانی سنانی پڑتی ہے ۔
3- جہالتوں کا جہاں پر بھی بول بالا ہو ،
ادب کی شمع وہاں پر جلانی پڑتی ہے ۔
4- اٹھاے سر جو کوئی پیار سے نہیں سمجھے ،
پھر اس کو دھول بھی اک دن چٹانی پڑتی ہے ۔
5- عجب غضب سی ہیں رسمیں یہ دنیاداری کی ،
جہاں پہ جان بھی اکثر گنوانی پڑتی ہے ۔
6- نکل تو جاتا میں دنیا کے پل صراطوں سے ،
مگر یہ بیچ میں کافر جوانی پڑتی ہے ۔
7- گھر اپنے جانے کی خاطر ہی ابن آدم کو ،
وہاں کی عمدہ کرنسی جٹانی پڑتی ہے ۔
میں سو جاؤں تو ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے
بشیر بدر
ڈال کر انکھوں میں اب تیزاب، مارے جائیں گے
شاہ کا ہے حکم اب ہمارے خواب، مارے جائیں گے
اکھل راج اندوری
تیرے غم نے مری ہستی کی ضمانت دی تھی
تو اگر اپنے تعلق کو نبھائے تو میں ہوں
احمد فراز
شعر جبرا اگر جو گھڑنے ہیں
چھوڑ دیجیے محاذ شعر و سخن
ع ر ع
برا مرض ہے ترا، سچ بھی سہہ نہیں سکتا
اور اپنی بات کو جھوٹا بھی کہہ نہیں سکتا
غرور سانس کے جاتے ہی گُل ہوا سارا
بغیر سانس کے آدم تو رہ نہیں سکتا
عبید رضا عباس
لکھا ہے شعر ہمیشہ ہی بیتنے کے بعد
ہماری جھوٹے تخیل سے جان جاتی ہے
عبید رضا عباس
تجھے کھڑکی سے اس نے جھانک کر پھر آج دیکھا تو
میرے ہاتھوں سے پاگل چاند جم کر مار کھائے گا
اکھل راج اندوری
صبر بھی پوچھنے لگا ہے اب
کب ٹلیں گی مصیبتیں سر سے
عبید رضا عباس
جب خدا نے کان بخشے ہی نہیں ہیں سانپ کو
تم بتاؤ کیا کریں گے سُر تمھاری بین کے؟
جنت مکانی "اسحاق اثر" اندوری
وہاں پہنچا دیا ہے تجربوں نے
جہاں ہم آج تک پہنچے نہیں تھے
سفر آرام کا ڈھونڈا سبھی نے
کسی کے پاؤں میں چھالے نہیں تھے
جنت مکانی استاد اسحاق اثرؔ اندوری
زمین پر کوئی دکھتا ہے بے سہارا جب
میں دیکھتا ہوں تعجب سے آسماں کی طرف
عبید رضا عباس
اس کا رتبہ ہے اشرف المخلوق
مت ملا آدمی کو سانپ کے ساتھ
عبید رضا عباس
اس قدر آزمائشیں ، توبہ!
کیا بنایا ہے زندگی تو نے ؟
عبید رضا عباس
منافقت سے بہت دور ہیں خدا والے
ترے چلن نہیں لگتے ہیں پارسا والے
یہ لوگ اس لیے دنیا کے منہ نہیں لگتے
کہ باقیوں سے جدا کچھ تو ہوں خدا والے
صدا یہ آئی ہے، زحمت کریں مکرر کی
خیال آپ کے ہوتے ہیں انتہا والے
رکھا ہے اس لیے چہرے پہ مسکراہٹ کو
عبید مول لگائیں گے خوش ادا والے
عبید رضا عباس
اس کو بھی مال و زر نے معزز بنا دیا،
آداب جس میں ہیں نہ کوئی بات ڈھنگ کی۔
عبید رضا عباس
مَیں اس یقین سے نکلا ہوں کچھ نیا کرنے،
خدا جو چاہے وہ رہتا ہے لازمی ہو کر۔
عبید رضا عباس
مَیں اس یقین سے نکلا ہوں کچھ نیا کرنے،
خدا جو چاہے وہ رہتا ہے لازمی ہو کر۔
عبید رضا عباس
(عبیدؔ) آپ اکیلے نہیں ہیں دنیا میں
یہاں ہر ایک کو، تقدیر سے شکایت ہے
عبیدؔ رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain