Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

کسی کی بات میں آ کر جو آنا ہو تو مت آنا
اگر جانے کا پہلے سے بہانا ہو تو مت آنا
ن م

Abeed
 

استاد معظم کی غزل پیش خدمت ہے ملاحظہ فرمائیں ۔
1- محبتوں میں وفا آزمانی پڑتی ہے ۔
خموش رہہ کے بھی عزت بچانی پڑتی ہے ۔
2- جو زخم دل پہ لگے ہیں انہیں چھپانے کو ،
ہمیشہ جھوٹی کہانی سنانی پڑتی ہے ۔
3- جہالتوں کا جہاں پر بھی بول بالا ہو ،
ادب کی شمع وہاں پر جلانی پڑتی ہے ۔
4- اٹھاے سر جو کوئی پیار سے نہیں سمجھے ،
پھر اس کو دھول بھی اک دن چٹانی پڑتی ہے ۔
5- عجب غضب سی ہیں رسمیں یہ دنیاداری کی ،
جہاں پہ جان بھی اکثر گنوانی پڑتی ہے ۔
6- نکل تو جاتا میں دنیا کے پل صراطوں سے ،
مگر یہ بیچ میں کافر جوانی پڑتی ہے ۔
7- گھر اپنے جانے کی خاطر ہی ابن آدم کو ،
وہاں کی عمدہ کرنسی جٹانی پڑتی ہے ۔

Abeed
 

میں سو جاؤں تو ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے
بشیر بدر

Abeed
 

ڈال کر انکھوں میں اب تیزاب، مارے جائیں گے
شاہ کا ہے حکم اب ہمارے خواب، مارے جائیں گے
اکھل راج اندوری

Abeed
 

تیرے غم نے مری ہستی کی ضمانت دی تھی
تو اگر اپنے تعلق کو نبھائے تو میں ہوں
احمد فراز

Abeed
 

شعر جبرا اگر جو گھڑنے ہیں
چھوڑ دیجیے محاذ شعر و سخن
ع ر ع

Abeed
 

برا مرض ہے ترا، سچ بھی سہہ نہیں سکتا
اور اپنی بات کو جھوٹا بھی کہہ نہیں سکتا
غرور سانس کے جاتے ہی گُل ہوا سارا
بغیر سانس کے آدم تو رہ نہیں سکتا
عبید رضا عباس

Abeed
 

لکھا ہے شعر ہمیشہ ہی بیتنے کے بعد
ہماری جھوٹے تخیل سے جان جاتی ہے
عبید رضا عباس

Abeed
 

تجھے کھڑکی سے اس نے جھانک کر پھر آج دیکھا تو
میرے ہاتھوں سے پاگل چاند جم کر مار کھائے گا
اکھل راج اندوری

Abeed
 

صبر بھی پوچھنے لگا ہے اب
کب ٹلیں گی مصیبتیں سر سے
عبید رضا عباس

Abeed
 

جب خدا نے کان بخشے ہی نہیں ہیں سانپ کو
تم بتاؤ کیا کریں گے سُر تمھاری بین کے؟
جنت مکانی "اسحاق اثر" اندوری

Abeed
 

وہاں پہنچا دیا ہے تجربوں نے
جہاں ہم آج تک پہنچے نہیں تھے
سفر آرام کا ڈھونڈا سبھی نے
کسی کے پاؤں میں چھالے نہیں تھے
جنت مکانی استاد اسحاق اثرؔ اندوری

Abeed
 

زمین پر کوئی دکھتا ہے بے سہارا جب
میں دیکھتا ہوں تعجب سے آسماں کی طرف
عبید رضا عباس

Abeed
 

اس کا رتبہ ہے اشرف المخلوق
مت ملا آدمی کو سانپ کے ساتھ
عبید رضا عباس

Abeed
 

اس قدر آزمائشیں ، توبہ!
کیا بنایا ہے زندگی تو نے ؟
عبید رضا عباس

Abeed
 

منافقت سے بہت دور ہیں خدا والے
ترے چلن نہیں لگتے ہیں پارسا والے
یہ لوگ اس لیے دنیا کے منہ نہیں لگتے
کہ باقیوں سے جدا کچھ تو ہوں خدا والے
صدا یہ آئی ہے، زحمت کریں مکرر کی
خیال آپ کے ہوتے ہیں انتہا والے
رکھا ہے اس لیے چہرے پہ مسکراہٹ کو
عبید مول لگائیں گے خوش ادا والے
عبید رضا عباس

Abeed
 

اس کو بھی مال و زر نے معزز بنا دیا،
آداب جس میں ہیں نہ کوئی بات ڈھنگ کی۔
عبید رضا عباس

Abeed
 

مَیں اس یقین سے نکلا ہوں کچھ نیا کرنے،
خدا جو چاہے وہ رہتا ہے لازمی ہو کر۔
عبید رضا عباس

Abeed
 

مَیں اس یقین سے نکلا ہوں کچھ نیا کرنے،
خدا جو چاہے وہ رہتا ہے لازمی ہو کر۔
عبید رضا عباس

Abeed
 

(عبیدؔ) آپ اکیلے نہیں ہیں دنیا میں
یہاں ہر ایک کو، تقدیر سے شکایت ہے
عبیدؔ رضا عباس