کافی ہے ایک شعر مگر شعر بھی تو ہو
معیار شاعری پہ نہ سمجھوتہ کیجیے
عبید رضا عباس
نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہر
یہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے
میر
مری حیات کا گلشن خزاں سے لے پت تھا
بہار آپ کا اور دیکھنے سے آئی ہے
اور بامعانی طرف/سمت
ع ر ع
جو گری طور پر تجلی تو
جل گیا ہے چراغ حیرت بھی
عبید رضا عباس
کسی کی اور نہ جائے کی اب نظر اپنی
اٹک گیا ہے نظر میں جب آپ کا چہرہ
عبید رضا عباس
نہیں قابل کسی لحاظ سے جو
اس کو کیونکر سلام کرتے ہو
ع ر ع
انتخاب
اس طرح دیوانگی کچھ اور بھی بڑھ سکتی ہے
پاگلوں کو پاگلوں سے دور رہنا چاہیے
کسی نے کہا تھا
میں وقت جیسی ہوں
قدر نہ کرنے والوں کو دوبارہ نہیں ملتی ۔
اور یہ سچ ثابت ہوا
دل نشیں آپ سا سامنے ہے پر
ہوش پھر بھی بحال رہتے ہیں
ع ر ع
کیا ہے دوستوں کی مہربانیوں نے خوار
سبب دکھوں کا زمانے کو کیا بتاتے ہم
عبید رضا عباس
ابھی سے ڈر گئے کچھ آزمائشوں سے آپ
ابھی تو زیست نے کیا کچھ بچا کے رکھا ہے
ع ر ع
ہمیں بھی چاہ تھی خوشحال زندگی کی مگر
مصیبتوں نے یہ ہونے نہیں دیا بالکل
عبید رضا عباس
تو زندگی کی تمنا ہی مسترد کر دیں ؟
نچوڑ زیست کا شاعر کی شاعری میں ہے
سخنوری بہت آسان مت سمجھ لینا
عبید رضا عباس
"بات نکلی تو بہت دور تلک جائے گی"
لوگ سمجھتے ہیں جو انھیں پسند آ گیا بس وہی اعلا ہے جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں سب کی اپنی اپنی پسند ہوتی ہے اور اس پسند کو جبرا کسی پہ تھوپا نہیں جا سکتا ۔
میرے نزدیک تو اچھا اور اعلا شعر وہی ہے جو دیر تک تلک ذہن میں رہ جائے پھر چاہے وہ شعر کسی کا بھی ہو، آفاقیت و عالمیت یا ابدیت ہر شعر میں نہیں ہو سکتی ۔
سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
جہاں اس بات سے انکار ممکن نہیں وہیں ایسے اشعار بھی موجود ہیں جن کے مضامین گنتی کے لوگوں نے لائے ہیں اور پھر ان سے میں بھی کچھ ہی لوگ اس میں کامیاب ہو پائے ہیں
شاعری Subjective ہو یا Objective شاعر کو چاہیے کہ سہل انداز میں پیش کرے دقیق والا معاملہ تو بعض کےلیے معما ہی بن کر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔