دیکھ کر کامیابیاں میری
حاسدوں کے لٹک گئے ہیں منہ
عبید رضا عباس
یاران نکتہ داں کےلیے
مُجھے یہاں کوئی مُجھ سا نظر نہیں آتا
مَیں تھک گیا ہوں فرشتے شمار کرتے ہوئے
رفیع رضا
خدا گوا وہ فرشتہ صفت عبید ہی ہے
دل آنکھوں میں لیے ہر آنکھ دیکھتی ہے جسے
عبید رضا عباس
کیفیت
ترس نہ جائیں کہیں ہونٹ اب ہنسی کے لیے
اثر مزاج میں تحلیل ہو گئے آنسو
ا ا ا
یہ بھیڑ شہر شور شرابہ یہ بھاگ دوڑ
اکتاہٹوں کا بوجھ ہے ہلچل کی زندگی
ا ا ا
ہم اپنے خواب بھی آئینہ دار رکھتے ہیں
نہ ہم سے گفتگو کرنا پہلیوں والی
ا ا ا
غزل
کہاں تک چلے گی مسلسل اداسی
مرے ساتھ، میں تو ہوں پاگل اداسی
بہت جس سے امید کی موسموں نے
گیا وہ بھی برسا کے بادل اداسی
گزرتے ہیں جب بھی تمھاری گلی سے
لپٹتی ہے پاؤں سے پاگل اداسی
کہیں تو ہمیں سر چھپانا پڑے گا
تو اپنے ہی گھر ہم کو لے چل اداسی
ہے تیرے پس و پیش ہنگامہ برپا
مرے آس پاس ایک جنگل اداسی
اسحاق اثر اندوری
کیسی گھٹیا ترین پسند ہے لوگوں کی۔
تھرڈ کلاس شاعری جگالی اور کلیشے ۔
اگر شاعری سے شغف رکھتے ہیں تو اساتذہ کا کلام پڑھیں جو معیاری بھی ہے اور آفاقیت و ابدیت کا حامل بھی ۔
آداب احباب !
مجھے ایک منفرد سا نام بتائیں جسے میں بطور تخلص استعمال کر سکوں ۔
پیشگی شکریہ ۔
سہل اب تک وہ کہہ نہیں پائے
اور تمنا دقیق کہنے کی
عبید رضا عباس
وقت ، انسان کی چال چلتے ہوئے
تیز سے تیز تر ہوا جائے
ع ر ع
شعر ذرا سی تبدیلی کے بعد
تمھارے چاہنے والے بھی نہیں لیکن
تمھیں ہماری طرح اور کون چاہے گا
سجل کانپوری
آفاقیت ، عالمیت اور ابدیت کا شعر
معیار زمانہ تو کبھی کچھ ہے کبھی کچھ
تو کیسی ترازو میں مجھے تول رہا ہے
حضرت پروفیسر وسیم بریلوی
میں چل رہا ہوں کہ چلنا بھی ایک عادت ہے
یہ بھول کر یہ رستہ کہاں کو جاتا ہے
پروفیسر وسیم بریلوی
نہیں آتا منافقوں کو یقین
دیجیے مت صفائیاں ان کو
عبید رضا عباس
زہر رکھتی ہے سانپ کے جیسے
آپ کی سوچ آپ کے جیسے
عبید رضا عباس
احباب! شعر دیکھیے
سوچ قاصر ہے سوچنے سے جسے
سوچ اس کی کہا لے آئی ہے
عبید رضا عباس
ہم نے مخلص عبید ڈھونڈ لیا
زندگی کی تلاش ختم ہوئی
ع ر ع
شاکے
ادھر تو سب دل جلے ہیں -
پچاس لڑکیوں کو میسج کرنے کے بعد ایک بے ہودہ لڑکی سے کہتے ہیں میں ایسا ویسا بالکل بھی نہیں
اخے ، ایڈے تسی حاجی ثنااللہ دے پتر
واللہ باخدا
ان اگنت اچھے اور برے کام کیے لیکن کبھی کسی کا رنگ خود پہ چڑھانے کی کوشش نہیں کی
یہ اور بات کہ
بہت سوں نے ہمارے انداز اپنانے کی ناکام کوششیں کی ہیں اور ناکام کوششیں کرتے رہیں گے
میرے دوست کا جملہ ہے کہ
"شوق ہونا ضروری نہیں، ماسٹر ہونا ضروری ہے"
کہنے کو تو بہت کچھ ہے ابھی کے لیے یہی کافی ہے
"چلتے بنو" 
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain