جنت مکانی استاد محترم اسحاق اثر اندوری کی غزل ملاحظہ فرمائیں .
دو چار بات ہوتی تو سہنا بھی ٹھیک تھا
اب سوچتا ہوں آپ کا کہنا بھی ٹھیک تھا
پوشاک سے ضمیر کی قیمت نہیں رہی
تیور تو زندگی کا برہنہ بھی ٹھیک تھا
شہرت کے بھاؤ تاؤ نے چونکا دیا مجھے
یوں دیکھنے کی حد میں یہ گہنا بھی ٹھیک تھا
دونوں طرف زبان کی تلوار کھنچ گئی
خاموش میرا ایسے میں رہنا بھی ٹھیک تھا
جو چھیننے کو آئی تھی بینائیاں مری
اس روشنی کا آنکھوں سے بہنا بھی ٹھیک تھا
پہچاننے میں کس لیے دھوکہ ہوا (اثر)
چشمہ تو میتی آنکھوں نے پہنا بھی ٹھیک تھا
یہ جاگنا شب کو، دن میں سونا
کوئی سنے گا تو کیا کہے گا