ندا حق کی یوں پردہ پوش ہوئی
لب سلے اور زباں خموش ہوئی
میں وہ تنہا عبید ہوں جس کی
جس کی اچھائی نذرِ دوش ہوئی
عبید رضا عباس
آنکھیں ان خوابوں کے در پر ہیں عبید
جن کی تعبیر نہیں ہوتی ہے
ع ر ع
انس و وفا سے کچھ بھی سروکار ہی نہیں
نفرت کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہیں جو
عبید رضا عباس
فقط اک بے وفا دیکھا ہے اس نے
وفاداروں پہ کب اس کی نظر ہے
عبید رضا عباس
پلٹ سکتے تھے وار اس طرح سے بھی
کسی کو اس کا اندازہ نہیں تھا
عبید رضا عباس
مصیبت کا اک اک سے احوال کہنا
مصیبت سے ہے یہ مصیبت زیادہ
مولانا الطاف حسین حالی
جانے یہ کس طرح کا تعلق ہے اس کے ساتھ
بچھڑا ہوا وہ شخص مجھے بھولتا نہیں
عبید رضا عباس
ٹوٹنا تھا دل پرائے ہاتھ سے
آپ سے ٹوٹا چلو اچھا ہوا
اسحاق اثر اندوری
جان پائے تو پھر بتائیں گے
کہ حقیقت میں زندگی کیا ہے
ع ر ع
معلوم بس خدا کو ہے اس بات کا عبید ؟
اک بے گنہ عبید کہاں مارا جائے گا
عبید رضا عباس
مجھ کو خوشی ہے تیرا طلبگار ہونے کی
کیا وجہ ہے عبید سے بیزار ہونے کی
عبید رضا عباس
محض سانسیں ہے اس جہان میں جنھیں
ساتھ اب تک مرا میسر ہے
ع ر ع
"مطلب کے یار دوست ہیں مطلب سے گفتگو"
قافلے اوج مراتب کے عبید
آشنا سب سے نہیں ہوتے ہیں
عبید رضا عباس
باہر آتا ہے زباں سے ایسے
ذہن میں گند بھرا ہو جیسے
بخت رہتا تو تھا ابد کا ساتھ
رت بدلتے ہی دوست بدلے ہیں
عبید رضا عباس
"دعا کرو کہ تمنائیں دل کی بر آئیں"