رباعی (محمد نصیر زندہ)
زنجیر میں درد کی صدا ہوتی ہے
آزادی بھی قید میں رہا ہوتی ہے
مے خانے میں کوزہ و سبو پیاسے ہیں
ہر دور کی اپنی کربلا ہوتی ہے
کیوں الجھتے ہو ایک دوسرے سے سے
کوئی شعیہ ہے اور نہ سنی ہے
دو ہی مسلک پیں پوری دنیا میں
اک حسینی ہے اک یزیدی پے
جاوید صبا
غم حسین میں آنکھوں نے اشک باری کی
آداب دوستو!
میرا ایک پیغام اس ویب سائیٹ کے مالک تک پہنچا دیں کیونکہ وہ لڑکیوں کے سوا کسی کے ساتھ بات کرنا گوارہ نہیں کرتا ، نہ کرے
لیکن ........!
ایک بات اسے بڑے ہی پیار سے سمجھا دیجیے کہ وہ اس ویب سائیٹ کا مالک ہے سب کچھ اس کے سامنے ہے اور ہر مسئلے کا حل وہ ایک منٹ میں نکال سکتا ہے ۔۔۔
خدارا ان بے ہودہ لوگوں کی آئی ڈیز ختم کرے جو بے ہودہ پوسٹ لگاتے ہیں ، خواہ وہ کسی قسم کی بھی ہوں ۔
یہ تو تھی عاجزانہ التجا
اب جیسے آپ کے پاس ہر مسئلے کا حل ہے اسی طرح ہر آدمی مسئلہ سلجھانے کے فن سے آشنا ہوتا ہے سیدھے طریقے سے نہ ہو تو غلط کا تو ڈر ہی نہیں ۔
بلاسفیمی کی رٹ لگانے والوں
اس دمادم پہ چند لوگ آنلائن ہیں اور ان میں سے 90 فیصد لوگ گانے بجانے میں لگے ہیں اور باقی دس میں سے 5 فیصد دنیاوی ٹھرک میں ۔
آپ کروڑوں کا شکوہ کرتے ہیں
یہاں چند مسلمان ہیں اور ماشاءاللہ بہت اچھے سے مسلمانی کو بدنام کر رہے ہیں ۔
ٹھیک ہے سوشل سائیٹ ہے لیکن بندہ ایام مقدس کا تو لحاظ رکھ لیتا ہے
خیر .... ! "کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی"
پھر کہتے ہیں توہین مذہب ہو گئی ۔
لوگوں کو اس مہینے کے تقدس کا بالکل بھی خیال نہیں
پھر رونا روتے ہیں فلاں نے یہ کیا فلاں نے یہ
کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیے جو آپ کر رہے ہیں وہ کیسا ہے
بات آفاقیت پہ منبی ہے
کوئی خود کو غلط نہیں کہتا
ع ر ع
جلتی آنکھوں سے یہ مرا پرسہ
جلتے بجھتے خیام کے لیے ہے
شاعر ؛ افتخار حیدر
یہ جو سالے خ کی جگہ ہ لکھتے ہیں یہ کن جاہل استادوں سے پڑھے ہیں ؟؟
ختم کو ہتم
بے مروت سماج میں ہم نے
کیا بتائیں کہ کیا نہیں دیکھا
یہ حقیقت ہے موت کی، اس نے
کوئی چھوٹا بڑا نہیں دیکھا
کرے بیدار جو زمانے کو
شعر وہ آپ کا نہیں دیکھا
عبیدؔ رضا عباس
یہ لازمی نہیں میں بتاؤں ہر ایک بات
چہرے پہ جو لکھا ہے کتابوں سے کم نہیں
ع ر ع
وصل و فراق عشق کا حاصل وصول ہے
بہت ضروری ہیں کچھ ٹھوکریں سنبھلنے کو
پتا عبید کا لمحوں میں چل نہیں سکتا
ع ر ع
اس قدر جدتوں کے ہوتے ہوئے
آ رہی ہے کیوں آدمی میں بگاڑ
ع ر ع
سوچیے پڑھ کے قصہء قابیل
اب عبید اعتبار کس کا کریں
عبید رضا عباس
آدمیت پر ظلم کرنے کی
انتہا پر عبید پہنچے ہیں
ع ر ع
ٹرک اڈے کے بعد پیش خدمت ہے ٹھرک اڈہ (دمادم) 

ایک چرواہی ، دن بھر پگ ڈنڈی پر بیٹھی رہتی ہے
اس بستی کا رستہ جب سے ہم بنجارے بھول گئے
حضرت ستیا پال آنند
ظلم و ستم کے سہنے والوں! یہ بھی کوئی بات ہوئی
آپ سبھی خاموش رہیں گے بولوں تو بس بولوں میں
اسحاق اثر اندوری
بانٹیے ہم میں نہ نفرت کے سبق
ہم محبت کے طلبگار ہیں بس
ع ر ع
فائدے میں رہا وہی جس نے
دوست اپنے مزاج کا رکھا
تبھی نظریں چرا رہے ہیں عبید
سامنے ان کے آئنہ رکھا
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain