ڈاکٹر شاکر حسین عباسی ، ناگپور
20 مارچ 2010
نظم و نثر دونوں کے لیے یہ سچائی عالمگیر
ہے کہ معیاری ادب وہ ہوتا ہے جو "مسرت سے شروع ہو کر بصیرت پر ختم ہو" ۔
جب کوئی شعر ہمارے دل میں چٹکی بھر لیتا ہے اور کیف و سرور اور لذت و نشاط کی اک موج بن کر دل پر سے گزر جاتا ہے تب اس کی تہہ میں سے بصیرت کی روشنی اور فکر کی کوئی کرن پھوٹتی ہے اور زندگی کے کسی پہلو کو شائستگی دے جاتی ہے ایسا ہی شعر ، شاعری کا بھرم ہوتا ہے ، ایک خوبصورت شعر دیکھیے جس میں غناء بھی ہے اور حق معبودیت بھی
ہونٹ ہلتے ہیں تو بس تیری عنایت کے سبب
کیسے الفاظ کریں شکر ادائی تیری
ایک اور شعر میری پسند کا
ان اجالوں میں تو آنکھیں نہیں کھولی جاتیں
یہ ترقی ہے کہ محروم نظر ہونا ہے
ایسے ہی اشعار کے خالق کا نام ہے "اسحاق اثر" ......!
یہ بھیڑ مرے پاس عبث تو نہیں رہتی
روتوں کو ہنسانے کا ہنر آتا ہے مجھ کو
عبید رضا عباس
کیونکر گناہ گار کو ہو خواہش بہشت
جو آدمی نے بویا وہی کاٹنا بھی ہے
عبید رضا عباس
اب کہ دولت ہی بن چکی ہے خدا
کر رہے ہیں ارادھنا اس کی
عبید رضا عباس
شاعری تضادات کے مجموعے کے نام ہے ۔
ذو معنی شعر دیکھیں
۔
کر دور اپنی بھول کو اے دل نشیں غزال
تیرے عبید کے لیے ہیں داسیاں بہت
عزیز ہوں میں جنھیں وہ عدو کسی کے ہیں۔
پسند سب کی الگ ہے تو نا پسند الگ
عبید رضا عباس
حیرت ہے اپنی جا ،مگر اتنا ضرور ہے
کچھ مختلف ضرور ہے سب سے سخن مرا
ع ر ع
غلط انداز دوستوں کا ہے
بات بے بات منہ بناتے ہیں
ع ر ع
اجڑ گیا ہے گھرانہ رسول اعظم کا
انجے تا نئیں الا دا نگہبان تھی گیا
نانے دے دین واسطے قربان تھی گیا
ع ر ع
آج شبیر نے دیکھا ہے جوانوں کی طرف
ہر کوٸی مرنے پہ تیار ہے آگے آگے
اسد اعوان
یزیدیت ترے ماتھے پہ جو پسینہ ہے
خدا کا خوف نہیں ہے یہ ڈر حسین کا ہے
فرحت عباس شاہ
جو شفق ہے کربلا رخ پہ ترے پھیلی ہوئی
اس نے پائی ہے رمق زینب تری گفتار سے
علینا عطرت رضوی
بہت مضبوط ہے ایمان میرا
مجھے وہ لوگ بالکل پسند نہیں جنہیں مولا علی علیہ السلام پسند نہیں
حسین بانٹ رہے ہیں نجات لے جاؤ
کچھ آنسوؤں کے عوض کائنات لے جاؤ
لتھا قرض لہا کے گھوڑے توں
مقروض حسین دی ماں دا
علیہ السلام
اسلام کا چراغ ہے روشن حسین سے
پلٹی ہیں منہ کی کھا کے یہاں آندھیاں بہت
عبید رضا عباس
شدتٍ پیاس سامنے رکھ کر
نم ہیں آنکھیں حسین والوں کی
عبیدؔ رضا عباس
یزید تھک گئے بھرپور کوششیں کر کے
مگر جھکا نہ سکے سر حسین والوں کا
عبید رضا عباس
غم حسین کہاں ہر مکاں سے ملتا ہے
یہ رزق صرف خدا کی دکاں سے ملتا ہے
فرشتے قبر میں ہر ماتمی سے پوچھتے ہیں
یہ نقش تمغہ اکبر کہاں سے ملتا ہے
شوکت رضا شوکت
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain