Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

سنا رہے ہو کسے اپنی داستان عبید
یہاں تو کوئی طرفدار آدمی کا نہیں
ع ر ع

Abeed
 

یہ جانتا ہے کہ نقصان ہے ثمر اس کا
مگر (عبید) کی لالچ تو کم نہیں ہوتی

Abeed
 

عقیدت
نبی کا ویر ، نصیری کا کردگار عبید
مجھے وہ عہدہ بتا جو علی سے اونچا ہے ؟
عبید رضا عباس

Abeed
 

جب امتحان زیست میں ثابت قدم رہا
طوفاں مصیبتوں کا مرے سر سے ٹل گیا
عبید رضا عباس

Abeed
 

جن میں موجود بز دلی ہے انھیں
زندگی نا گوار لگتی ہے
ع ر ع

Abeed
 

ممکن نہیں کہ عدل ہو ایسے سماج میں
عزت جہاں بشر کو ملے دیکھ بھال کر
ع ر ع

Abeed
 

ہر کوئی موت کے آگے بے بس
زندگی تو میاں بدنام ہے بس
ع ر ع

Abeed
 

کوڑے کے ڈھیر سے جنھیں کھانا نصیب ہو
تو ان سے جا کے پوچھ ذرا روٹیوں کے بھاؤ
دن رات آزمائشوں کے درمیاں ہوں مَیں
اچھے سے جانتا ہوں کھری کھوٹیوں کے بھاؤ
عبید رضا عباس

Abeed
 

دیکھ لی ہوں گی خوبیاں مجھ میں
جو مرا احترام کرتے ہیں
ع ر ع

Abeed
 

جو آپ کہہ رہے ہیں مجھے مسکرانے کا
آسان اس قدر نہیں صدمات بھولنا
چہرہ تغیرات سے چاہ کر نہ بچ سکا
جب بھی کسی کے روبرو رکھا ہے آئنہ
عبید رضا عباس

Abeed
 

نعت مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جاذب ذہن و دل زیور جسم و جاں
تو وجود عیاں زینت لا مکاں
۔
تو نہیں تو کہانی میں کچھ بھی نہیں
ابتدا انتہا تو ، تو ہی درمیاں
۔
تجھ کو ڈھونڈا تو خود کا پتا مل گیا
چاہتے بھی تو ملتا نہ اپنا نشاں
۔
تیرا کردار کردار لا پائمال
تیری ہستی معزز امین و اماں
۔
سبز گنبد ہے میری نگاہوں میں یوں
رحل پر جیسے رکھا ہوا ہو قرآں
۔
ہو "اثر" کے لیے بھی عطا صبح نو
آفتاب کرم، روشنی، کہکشاں
جنت مکانی اسحاق اثر اندوری

Abeed
 

پاکستان میں جہالت کی انتہا ہے ۔
اب دمادم پہ ہی دیکھ لیجیے 100 میں سے 85 لوگ اپنی جہالت کی فیکٹریاں لگائے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔
باقی 15 میں سے 10 ابھی سیکھنے کے مراحل میں ہیں رہے 5 تو وہ چپ چاپ تماشہ بین ہیں مجھ سمیت ۔
اگر ہم لوگ باتوں میں آئیں تو فلاسفروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیں اور حقیقت میں جہالت کی نہج پر ہیں ۔
والسلام

Abeed
 

دنیا میں چند لوگ ہیں اپنے مزاج کے
جن پر کبھی وجود کا جادو چلا نہیں
ا ا ا

Abeed
 

عبید ، راشد ، اسحاق اثر ، ساغر نظامی ، مضطر خیرآبادی ، حضرت امیر مینائی
سودا و میر دونوں ہی استاد ہیں امیر
لیکن ہے فرق آہ میں اور واہ واہ میں
حضرت امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ

Abeed
 

صاحبو ! ایک پرانا شعر پیش خدمت ہے ۔
بڑے یقین سے پرہیزگار کہنے لگے
تلاشنے سے گنہگار مل ہی جائیں گے
ع ر ع

Abeed
 

اب مزاجوں سے دشمنی چھوڑو
یہ مراسم بہت پرانے ہیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

گل ، شجر ، تتلی ، چاند ، ستارے ، کہکشاں
جاگتی آنکھوں میں اکثر خواب کا آنا لکھوں
ا ا ا

Abeed
 

جس کے احسان نے گرویدہ کیا تھا دل کو
اس کا ممنون تو اسحاق اثر آج بھی ہے
ا ا ا

Abeed
 

وہ لا شریک جو قادر ہر ایک چیز پہ ہے
بڑی توجہ سے اپنے عبید کو دیکھے
جو مجھ پہ بیت رہی ہے وہ جانتا ہے مگر
بدل نہیں رہا قسمت کی آزمائش کو
وہ لا شریک کہ جس کا
نصیب کو بدلنے پہ اختیار بھی ہے
اسی کے رحم کا مدت سے انتظار بھی ہے
وہ کن کہے تو مقدر میں جھرجھری آئے
کوئی تو سانس مجھے بھی سکون کی آئے
نہ پھر گلہ نہ شکایت نہ یہ دھائی ہو
قدم قدم پہ مددگار کبریائی ہو۔
۔
ع ر ع

Abeed
 

مجھ سا ایک گن نہیں عبید ان میں۔
آپ جن سے مجھے ملاتے ہیں
ع ر ع