مکانِ دل کو سدا خالی تو نہیں رہنا
جو تو نہیں تو کوئی اور آ ہی جائے گا
عبیدؔ رضا عباس
شعر دیکھیے احباب
یہ ہے پابندِ خداوندِ عبید
ایک مہلت جو فرشتہ بھی نہ دے
ع ر ع
"انت جیون سے ارچناؤں کا"
ع ر ع
میں نے منافقوں پہ کیا تبصرہ فقط
بیکار میں ہی خون تمھارا ابل گیا
عبید رضا عباس
اس پہ ہرگز یقین مت کیجے
حق کی خاطر جو پیش سر نہ کرے
عبید رضا عباس
تازہ واردہ
زندگی ہے وہ لا علاج مرض
جس پہ کوئی دوا اثر نہ کرے
عبید رضا عباس
منت ہے میری تم سے فرشتہ صفت بنو
دکھتی ہیں آدمی میں اگر خامیاں بہت
عبید رضا عباس
🤧🤒
اسے تلاش ہی لیتا ہے حق کہیں نہ کہیں
کہ جس میں ضد کی زمانہ مثال دیتا ہے
ع ر ع
تیری غرض ہے اور ہجوم منافقاں
تو نے غلط کو ٹھیک ابھی ماننا تو ہے
ع ر ع
مجھ کو حاصل ہیں سانس سے وافر
اپنے حصے کی مشکلیں ہر روز
عبید رضا عباس
ایک صدمے نے سبق ایسا دیا
بات کی پھر ، آدمی پہچان کر
عبید رضا عباس
آمد
صرف اصلاح کیجیے گا حضور
لوگ تنقید سہہ نہیں سکتے
عبید رضا عباس