Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

آورد
صرف معصوم سے چہرے پہ نہ جا
لوگ خود غرض بھی ہو سکتے ہیں
ع ر ع

Abeed
 

وہ مرا ہمسفر بنے ، جس نے
مشکلیں بے شمار دیکھیں ہوں
ع ر ع

Abeed
 

"کر دکھاؤں گا کسی روز بڑا کچھ میں بھی"

Abeed
 

فی البدیہہ
دل نے مجبور کر دیا ورنہ
قابلِ اعتبار کوئی نہیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

بس یونہی ...
میں جانتا ہوں کہ بہت کم ہے زندگی میری
میں جس حساب سے ہر پل اداس رہتا ہوں
عبید رضا عباس

Abeed
 

کسی خاص کی نذر
۔
روٹھنے والے تجھے علم نہیں
منتیں مجھ سے نہیں ہوتی ہیں
۔
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہر وہ شے جو یہیں رہ جانی ہے
لوگ اس کے لیے لڑتے کیوں ہیں؟
ع ر ع

Abeed
 

اوکھ چے جہڑا اوکھا ہوسی
بعد ءچ اوہا سوکھا ہوسی
رب دی طوفوں ہار نہ ہووے
اوکھا ویلا،سوکھا ہوسی
وت کیں گنڑنے ہن عیب ترے
مال پلال جے چوکھا ہوسی
عبید رضا عباس
عبید رضا عباس

Abeed
 

یہ فرشتے جو ساتھ رہتے ہیں
حق میں انساں کے بولتے بھی نہیں
ع ر ع

Abeed
 

ماں_ بولی
لہندی پنجابی
۔۔
مینڈی قسمت دے پھیر انج ان
مڑ جڑ کے ما* دھوکہ ہوسی
جس کول آ گئے ودھ دو چھلڑ
اوہا اندروں لوکا ہوسی
اس دے سر تاج اے شہرت دا
بندہ جیڈا شوخا ہوسی
ہک ادھ لبھسی "عبیدؔ" مخلص
باقی جا جا دھوکہ ہوسی
عبید رضا عباس

Abeed
 

اپݨے اندر ویکھ کے دسو
تسی لوک، اساں ہݨ چگسو
نہ خفکاؤ پل صراط تو ما
تسی وی تا اتھو لگھسو
سارے حربے اساں کو سکھ کے
غیرت کرو، اساں ہݨ ٹھگسو?
کی فیدہ چمچہ گیری نا
اپݨا اپݨا کھادا رجسو
عبیدؔ" نال ان غرضاں تائیں"
وت انہاں نے پچھے بھجسو
ماں بولی
لہندی پنجابی

Abeed
 

آج پنجابی زبان کا عالمی دن ہے یا ماں بولی کا ؟؟

Abeed
 

"میں نے پھر اس کے بعد بھروسہ نہیں کیا"

Abeed
 

نفرت کے دام کم ہیں پرستار ہیں ہزار
بہتر یہی ہے آپ محبت سمیٹ لیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

صبح کا تحفہ
۔
اپنے قدموں کو اب سنبھالو عبید
زندگی ہے قدم قدم دلدل

Abeed
 

اک غلط فیصلے کی وجہ سے
خواب ٹوٹے ہیں آنکھ روئی ہے
ع ر ع

Abeed
 

یہی تمنا ہے ہر اک عبید کے دل میں
میں ہر کسی سے اچانک وشال ہو جاؤں
۔۔
میں دیکھتا ہوں گریباں میں جھانک کر اپنے
نظر میں اپنی اگر بے مثال ہو جاؤں
۔۔
بھلے شریر میں بالکل نہ جان ہو لیکن
بس اس کو دیکھنے سے میں بحال ہو جاؤں
۔۔۔
خاک پائے بزرگان ادب کی خاک پا
عبید رضا عباس

Abeed
 

کسی بھی شخص کا کردار سامنے رکھ کر
ہو احترام کے قابل تو لازمی کرنا
ع ر ع

Abeed
 

ہر غلط راہ پہ چل نکلا ہے
ختم ہے خوف خدا مومن میں
عبید رضا عباس

Abeed
 

اگر وہ جانتا ہے ہر عبید کی الجھن