شبیر لا الہ کو بچائے سجود میں
اسلام "بس" رہا ہے علی کے وجود میں
اتنے عظیم بن گئے اللہ کے کچھ (عبید)
خالق نے التفات دکھایا درور میں
عبید رضا عباس
علی مولا علیہ السلام
یہی تو راز ہے تیرہ رجب کی خوشیوں کا
کہ لا مکان کے گھر میں دراڑ باقی ہے
عبید رضا عباس
سانس لازم ہے دل ربا لیکن۔
دل دھڑکنے کا اک سبب تو ہے
عبید رضا عباس
بیاں کیا ہے مسافر نے حال زار اپنا
کئی دنوں کی مسافت پہ مسکرائے ہیں
ع ر ع
"کوئی نہیں ہے مقدر میں مرتضی جیسا"
عبید رضا عباس
کھٹک رہا ہے بہت سے منافقوں کو عبید
نزول خالق اکبر کے گھر میں حیدر کا
ع ر ع
علی کے اسم مبارک سے جانچیے سب کو
یہ بات طے ہے منافق علی سے جلتے ہیں
عبید رضا عباس
خیال آتا ہے عمراں کے لاڈلے کا بس
گماں عبید کا جب جب خدا کا ہوتا ہے
علیہ السلام
ع ر ع
"خوشیاں کہاں لکھی ہیں ہمارے نصیب میں"
آلِ محمد
عبیدؔ مَیں بھی ہوں اسی در کا ماننے والا
نظیر جس کی نہیں ملتی اس زمانے میں
ع ر ع
میں بے سبب نہیں کرتا نصحتیں اتنی
یہ خوف ہے مجھے، تم دربدر نہ ہو جاؤ
عبید رضا عباس
گرہ
مشکلوں میں ہمیں دے دی ہے صدا
"اجنبی ہو کے، شناسا ہو تم"
عبیدؔ رضا عباس
گرہ
آزماتے ہو کٹھن مرحلوں میں
"اجنبی ہو کے، شناسا ہو تم"
عبیدؔ رضا عباس