Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

یہ کہہ رہا ہے مرا دل بہت زیاں کے بعد
،، 
مرا بھی کاش!  زمانے سے فاصلہ ہوتا 
،، 
عبید رضا عباس
A  : یہ کہہ رہا ہے مرا دل بہت زیاں کے بعد ،، مرا بھی کاش! زمانے سے فاصلہ ہوتا  - 
Abeed
 

نصیب کھینچ کے کس جگہ مجھے لے آئے
یہاں تو کھوٹا بھی خود کو کھرا سمجھتا ہے
گزارہ کس طرح اس کائنات میں ہو گا
جہاں ہر ایک ہی خود کو بڑا سمجھتا ہے
عبیدؔ رضا عباس

Abeed
 

جنہیں پسند نہیں سچ سے رو برو ہونآ
"کب ان کے ہاتھ میں رہتا ہے آئنہ محفوظ"
ع ر ع

Abeed
 

خدائے سخن "میر" کی زمین میں اک غزل
تم بتاؤ میں جب نہیں آتا
اک بلاوے پہ کب نہیں آتا
منہ دکھاتا میں کیا زمانے کو
تو اگر آج شب نہیں آتا
اس زمانے کو آزما لیا ہے
جب ضرورت ہو تب نہیں آتا
زیاں سانسوں کا کر رہا ہے وہ
جس کو جینے کا ڈھب نہیں آتا
میں تری خصلتوں سے واقف ہوں
تو کبھی بے سبب نہیں آتا
اس کے سر پر نہ تاج رکھیے گا
جس کو کرنا ادب نہیں آتا
مہربانی ہے دوستوں کی عبید
کسی جھانسے میں اب نہیں آتا
,,
عبید رضا عباس

Abeed
 

اب کچھ نہیں رہا تو ملامت کرے ضمیر
مخلص عبید ہونے کا کچھ فائدہ ہوا ...؟
خاک پائے اساتذہ
عبید رضا عباس

Abeed
 

مجھ کو تسلیم ہے سزا لیکن
کیوں گنہ کا عذاب سخت ہوا ...؟
عبید رضا عباس

Abeed
 

یہ کہہ کے چھوڑ دیا دوستوں نے ساتھ مرا
خزاں کا ساتھ گوارا نہیں بہاروں کو
ع ر ع

Abeed
 

مطلع عرض ہے
جو جان کر بھی حقیقت ,یقیں نہیں کرتے
پھر ان کی سمت کبھی ہم جبیں نہیں کرتے
خاک پائے اساتذہ
عبید رضا عباس

Abeed
 

پہچان نیک و بد کی کرانے میں رات کی
پھولوں کی بات کی کبھی کانٹوں کی بات کی
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہر کوئی کیوں نہ سن سکا اس کو
دل کی دھک دھک تو ایک جیسی ہے
عبید رضا عباس

Abeed
 

"غم"
ترا غم کیا ہے؟
مرے جیون میں
اس سے بھی بڑے
غم آئے ہیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

کرم عبید کی آنکھوں پہ کر نظر بھی آ
خدا نہ دیکھ سکیں ان سے , پھر ضرورت کیا؟
عبید رضا عباس

Abeed
 

بات واضح ہے مگر آپ نے تو
حکم اپنے ہی منانے ہیں حضور
ع ر ع

Abeed
 

آبرو اس کی روز گھٹتی ہے
جس پہ مرضی انا کی چلتی ہے
ہاتھ آئے کو کھو دیا اس نے
اس لیے اب وہ ہاتھ ملتی ہے
یہ کوئی بات ہے , اجی چھوڑیں
بے وجہ کائنات جلتی ہے ؟
اب غریبوں کو پوچھتا ہے کون
جب سفارش ہی زر کی چلتی ہے
اب جگہ ظلمتوں کی باقی نہیں
"سچ کی" بستی میں شمع جلتی ہے
آخری مرحلہ ہے موت, جسے
زندگی خود پہ وار دیتی ہے
اس لیے دور بھاگتے ہیں عبید
زندگی امتحان لیتی ہے
خاک پائے اساتذہ
عبید رضا عباس

Abeed
 

سادگی اتنی بھی نہیں اچھی
بے رخی کیوں نہیں سمجھتے آپ
عبید رضا عباس

Abeed
 

کسی نظر میں نہیں احترام کے قابل
جو آدمی نہیں ہوتا ہے کام کے قابل
نہ اس کی آنکھ کے پانی سے پیاس بجھتی ہے
فقط لہو ہے دلِ تشنہ کام کے قابل
ہمارے پاس نہ زر ہے نہ مرتبہ اونچا
ہمیں کیوں آپ سمجھتے ,سلام کے قابل
ملے مجھے بھی جگہ آپ ہی کے قدموں میں
مرے لئے تو یہی ہے قیام کے قابل
وہ لوگ ہم پہ مسلط نہ کیجئے جبرا
کہ جن کے نام نہیں احترام کے قابل
منافقوں نے سبھی سے نصیحتوں میں کہا
فلاں فلاں نہیں بالکل کلام کے قابل
نئے سماج میں ڈھلنا محال ہوتا ہے
وہ لوگ ہیں ہی نہیں اس نظام کے قابل
نجانے کھیل مقدر کا کس طرف جائے
رہے نہ خاص کے قابل نہ عام کے قابل
اسیر کر گئی ہے اس کی ساحرانہ ادا
نہ تھا عبید بظاہر غلام کے قابل
عبید رضا عباس