نصیب کھینچ کے کس جگہ مجھے لے آئے یہاں تو کھوٹا بھی خود کو کھرا سمجھتا ہے گزارہ کس طرح اس کائنات میں ہو گا جہاں ہر ایک ہی خود کو بڑا سمجھتا ہے عبیدؔ رضا عباس
خدائے سخن "میر" کی زمین میں اک غزل تم بتاؤ میں جب نہیں آتا اک بلاوے پہ کب نہیں آتا منہ دکھاتا میں کیا زمانے کو تو اگر آج شب نہیں آتا اس زمانے کو آزما لیا ہے جب ضرورت ہو تب نہیں آتا زیاں سانسوں کا کر رہا ہے وہ جس کو جینے کا ڈھب نہیں آتا میں تری خصلتوں سے واقف ہوں تو کبھی بے سبب نہیں آتا اس کے سر پر نہ تاج رکھیے گا جس کو کرنا ادب نہیں آتا مہربانی ہے دوستوں کی عبید کسی جھانسے میں اب نہیں آتا ,, عبید رضا عباس
آبرو اس کی روز گھٹتی ہے جس پہ مرضی انا کی چلتی ہے ہاتھ آئے کو کھو دیا اس نے اس لیے اب وہ ہاتھ ملتی ہے یہ کوئی بات ہے , اجی چھوڑیں بے وجہ کائنات جلتی ہے ؟ اب غریبوں کو پوچھتا ہے کون جب سفارش ہی زر کی چلتی ہے اب جگہ ظلمتوں کی باقی نہیں "سچ کی" بستی میں شمع جلتی ہے آخری مرحلہ ہے موت, جسے زندگی خود پہ وار دیتی ہے اس لیے دور بھاگتے ہیں عبید زندگی امتحان لیتی ہے خاک پائے اساتذہ عبید رضا عباس
کسی نظر میں نہیں احترام کے قابل جو آدمی نہیں ہوتا ہے کام کے قابل نہ اس کی آنکھ کے پانی سے پیاس بجھتی ہے فقط لہو ہے دلِ تشنہ کام کے قابل ہمارے پاس نہ زر ہے نہ مرتبہ اونچا ہمیں کیوں آپ سمجھتے ,سلام کے قابل ملے مجھے بھی جگہ آپ ہی کے قدموں میں مرے لئے تو یہی ہے قیام کے قابل وہ لوگ ہم پہ مسلط نہ کیجئے جبرا کہ جن کے نام نہیں احترام کے قابل منافقوں نے سبھی سے نصیحتوں میں کہا فلاں فلاں نہیں بالکل کلام کے قابل نئے سماج میں ڈھلنا محال ہوتا ہے وہ لوگ ہیں ہی نہیں اس نظام کے قابل نجانے کھیل مقدر کا کس طرف جائے رہے نہ خاص کے قابل نہ عام کے قابل اسیر کر گئی ہے اس کی ساحرانہ ادا نہ تھا عبید بظاہر غلام کے قابل عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain