مرے نصیب کے پنچھی کہیں تو مل مجھ کو
تری تلاش میں ہر ایک دن گزرتا ہے
عبید رضا عباس
قطعہ
انکساری ہے انا میں اپنی
ہم تکبر کو مرض کہتے ہیں
تم جسے پیار سمجھتے ہو عبید
اس کی"دنیا کی غرض" کہتے ہیں
عبید رضا عباس
تھی سحر طاری گیا ہک جھلک دے پاروں بس
جداں جھلک او اچانک پوے تا کی بنڑسی ؟
عبید ساہ دے نکلن دی کھیڈ سوکھی اے
ہزار مشکلاں ہوون تا زندگی بنڑسی
عبید رضا عباس
انکساری ہے انا میں اپنی
ہم تکبر کو مرض کہتے ہیں
عبید رضا عباس
آپ میں کیا صفتِ یزداں ہے ؟
مجھ کو بس دیکھ کے جانا کیسے ؟
عبید رضا عباس
جس قدر لوگ سمجھ لیتے ہیں
اتنے پاگل بھی نہیں ہوتے لوگ
عبید رضا عباس
خوشیوں کا اس طرف کبھی ہونا نہیں گزر
اچھا یہی ہے غم کا تسلسل بنا رہے
عبید رضا عباس
اسے بھی خوف تو رہتا ہے ہر گھڑی دل میں
رکھے ہوں جس نے تعلق منافقوں کے ساتھ
خاک پائے اساتذہ
عبید رضا عباس
تازہ واردہ
خواہش خوشی کی ذہن میں کیونکر سوار ہو
دامن میں غم کی بھیڑ کا اک آسرا بہت
عبید رضا عباس
اک دفعہ حال اس دیے کا پوچھ
تھک رہا ہے جو روشنی کے لیے
کس طرح جان کی اماں پاؤں
سر پہ الزام ان کہی کے لیے
عبید رضا عباس
سچ خطرناک ہے نہ چھوڑے گا
اس سے بہتر ہے فاصلہ کیجے
صبر کا بوجھ کب تلک سہنا
اب روانہ یہ قافلہ کیجے
عبید رضا عباس
عدو عزیز ہیں تجھ تو فیصلہ ہے مرا
ذرا بھی دیر نہ رک اب یہاں سے چلتا بن
خاک پائے اساتذہ
ع ر ع
پروفیسر وسیم بریلوی
اس نے بھی چھوڑ دی مرے بارے میں گفتگو
کچھ دن کے بعد میں بھی اسے بھول سا گیا
ہمارے درمیاں احساس ہو گئے ساکت
انا کے بت کو "عبیدؔ" اب گرا کے رہنا ہے
عبید رضا عباس
بس خدا سے عبید سے رشتہ
ہر جہاں برقرار رہنا ہے
عبید رضا عباس
وہ جو لمحوں میں دل کو بھا جائے
بھول پانے میں عمر لگتی ہے
عبید رضا عباس
بڑے یقین سے پرہیز گار کہنے لگے
تلاشنے سے گنہگار مل ہی جائیں گے
خاک پائے اساتذہ
عبید رضا عباس
جن کی ہر اک ادا پہ رہے ہم تو جاں نثار
"ہم پر تو مہرباں وہ کبھی تھے کبھی نہ تھے"
عبید رضا عباس
تو میرے نام سے جلتا ہے کس لیے نادان
,
مجھے جہاں میں سب کچھ مشقتوں سے ملا
,,
عبید رضا عباس
ہماری جیب میں پیسہ اگر رہا ہوتا
کسی کا رابطہ ہم سے نہ پھر کٹا ہوتا
خود اپنے ہاتھ میں رکھا ہے نظام قدرت نے
وگرنہ "رزق" پہ قبضہ امیر کا ہوتا
نجانے کتنے ہی "زندہ" زمین میں دھنستے
اگر خدا کی عدالت کا فیصلہ ہوتا
اگر یقین کی سانسیں نہ لڑکھڑاتی تو
ہمارا نام زمانے میں جا بجا ہوتا
رقیب چن کے دکھائی ہے تم نے کم ظرفی
جو دل میں کھوٹ رکھا تھا کہہ دیا ہوتا
یہ کہہ رہا ہے مرا دل بہت زیاں کے بعد
مرا بھی کاش! زمانے سے فاصلہ ہوتا
"عبیدؔ" مل کے مصیبت کا سامنا کرتے...؟
انھیں جو "وقت سے پہلے" کا کچھ پتا ہوتا
خاک پائے اساتذہ
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain