Damadam.pk
Abeed's posts | Damadam

Abeed's posts:

Abeed
 

عبید روزِ ازل سے تھے وسوسوں کا شکار
ہمیں زمین پہ آنا پڑا اسی خاطر
ع ر ع

Abeed
 

داد لینے کا ہے سبب کوئی؟
شعر اچھا ہوا ہے کب کوئی
نظر آتا نہیں سوا اس کے
آ بسا دل میں یوں عجب کوئی
میری نظروں میں یوں گرا ہے عبید
اس سے شکوہ نہیں ہے اب کوئی
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہر گھڑی ساتھ میسر ہے ترا
تیرے ہوتے ہوئے کیا غم ہے مجھے
عبید رضا عباس

Abeed
 

طوطا سبق پڑھنا ہوری کو تے چوُری کھینا ہوری کو

Abeed
 

اسی طرح ہے، یا مَیں نے عجیب سوچا ہے ؟
امیر سے کئی درجے غریب اچھا ہے
ہے دل میں دولتِ احساس بے حساب مگر
تو اپنے آپ کو پھر بھی غریب کہتا ہے
خدا کا شکر ہے، آنکھوں کی مہربانی سے
ہزار میل کا منظر قریب دکھتا ہے
یہ بات طے ہے ہمیں مات ہو گی کسی دن
کہ دوستی کی صفوں میں رقیب اتنا ہے
یوں ان کے درمیاں گھل مل کے رہ رہا ہے (عبیدؔ)
دکھوں کا شکوہ اب اس کو عجیب لگتا ہے
عبیدؔ رضا عباس

Abeed
 

مَیں جانتا ہوں پریشانیاں بڑھیں گی مگر
یہ میرا دیس ہے ,چھوڑوں میں کس طرح اس کو
عبید رضا عباس

Abeed
 

کچھ ایسے آنکھوں پہ چربی غموں کی آئی ہے
خوشی کو دیکھنے کا اتفاق ہو نہ سکا
عبید رضا عباس

Abeed
 

میں ضبط کر کے یہی پوچھتا پھروں سب
تمھارے ساتھ، زمانے کا ساتھ کیسا ہے...؟
دکھا کے ہاتھ نجومی سے پوچھتے ہیں "عبیدؔ"
ہمارے ہاتھ میں قدرت کا ہاتھ کیسا ہے...؟
عبید رضا عباس

Abeed
 

اسے کرائے گا احساس کا پھرنا
ہماری خدمتوں کو یاد کر کے روئے گا
عبید رضا عباس

Abeed
 

اس سے پہلے وہ دیکھ لیں روتا
آنسوؤں کو غبار کرنا ہے
ع ر ع

Abeed
 

سبھی کو یاد میں رہتا ہوں نیکیوں کے سبب
سو اس حساب سے میرے نصیب اچھے ہیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

بڑی محال ہے صبر و قناعتوں میں گزر
نہ زندگی کو سمجھنے کی کوششیں کرنا
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہمیں تو فکر ہمیشہ اسی کی رہتی ہے
عبید جس کو ہماری ذرا بھی قدر نہیں
عبید رضا عباس

Abeed
 

دن بھر مشقتوں میں گزارا تو شام کو
مجھ کو سراہنے لگی ہمت وجود کی
عبید رضا عباس

Abeed
 

ترے کلام میں کیوں اک ہی بات ہوتی ہے .؟
ترے خیال کی دنیا کیا اتنی چھوٹی ہے ؟
عبید رضا عباس

Abeed
 

عبید گھیر کے مجمعے نے کر دیا ہے سوال
بتا وہ رنگ جو دنیا نے کم دکھایا ہے
عبید رضا عباس

Abeed
 

جو بہترین ہو اس پر خموش کیسے رہوں ؟
فضول شعر پہ مَیں واہ کہہ نہیں سکتا
عبید رضا عباس

Abeed
 

اب دیکھنا ہے عدل کا معیار, اس لیے
کس نے کہاں خطا کی بتانا نہیں مجھے
عبید رضا عباس

Abeed
 

ہک واری بجھسی متھا تونڈا
اوقات تو ودھ اے نخرا تونڈا
ہوونے آلا وی نئیں ہوونا
ایڈا بھیڑاے چتا تونڈا
عبید رضا عباس

Abeed
 

لہندی پنجابی
ٹر گئے غرضی حال ونجا کے
اکھیاں وچ وت مٹی پا کے
دھوکے کھادن ہر اک واری
غرضی سنگتاں نال رلا کے
خلد تو دور کرایا کنڑکاں
ہݨ نئیں لبھنی اتّھے آ کے
مطلب پرست زمانہ وچ تو
پھرنا وتنا سادگی چا کے
چنگا شوق عبید رکھیندن
خوش پئے تھیون روز رُوَا کے
عبید رضا عباس