عبید روزِ ازل سے تھے وسوسوں کا شکار
ہمیں زمین پہ آنا پڑا اسی خاطر
ع ر ع
داد لینے کا ہے سبب کوئی؟
شعر اچھا ہوا ہے کب کوئی
نظر آتا نہیں سوا اس کے
آ بسا دل میں یوں عجب کوئی
میری نظروں میں یوں گرا ہے عبید
اس سے شکوہ نہیں ہے اب کوئی
عبید رضا عباس
ہر گھڑی ساتھ میسر ہے ترا
تیرے ہوتے ہوئے کیا غم ہے مجھے
عبید رضا عباس
طوطا سبق پڑھنا ہوری کو تے چوُری کھینا ہوری کو
اسی طرح ہے، یا مَیں نے عجیب سوچا ہے ؟
امیر سے کئی درجے غریب اچھا ہے
ہے دل میں دولتِ احساس بے حساب مگر
تو اپنے آپ کو پھر بھی غریب کہتا ہے
خدا کا شکر ہے، آنکھوں کی مہربانی سے
ہزار میل کا منظر قریب دکھتا ہے
یہ بات طے ہے ہمیں مات ہو گی کسی دن
کہ دوستی کی صفوں میں رقیب اتنا ہے
یوں ان کے درمیاں گھل مل کے رہ رہا ہے (عبیدؔ)
دکھوں کا شکوہ اب اس کو عجیب لگتا ہے
عبیدؔ رضا عباس
مَیں جانتا ہوں پریشانیاں بڑھیں گی مگر
یہ میرا دیس ہے ,چھوڑوں میں کس طرح اس کو
عبید رضا عباس
کچھ ایسے آنکھوں پہ چربی غموں کی آئی ہے
خوشی کو دیکھنے کا اتفاق ہو نہ سکا
عبید رضا عباس
میں ضبط کر کے یہی پوچھتا پھروں سب
تمھارے ساتھ، زمانے کا ساتھ کیسا ہے...؟
دکھا کے ہاتھ نجومی سے پوچھتے ہیں "عبیدؔ"
ہمارے ہاتھ میں قدرت کا ہاتھ کیسا ہے...؟
عبید رضا عباس
اسے کرائے گا احساس کا پھرنا
ہماری خدمتوں کو یاد کر کے روئے گا
عبید رضا عباس
اس سے پہلے وہ دیکھ لیں روتا
آنسوؤں کو غبار کرنا ہے
ع ر ع
سبھی کو یاد میں رہتا ہوں نیکیوں کے سبب
سو اس حساب سے میرے نصیب اچھے ہیں
عبید رضا عباس
بڑی محال ہے صبر و قناعتوں میں گزر
نہ زندگی کو سمجھنے کی کوششیں کرنا
عبید رضا عباس
ہمیں تو فکر ہمیشہ اسی کی رہتی ہے
عبید جس کو ہماری ذرا بھی قدر نہیں
عبید رضا عباس
دن بھر مشقتوں میں گزارا تو شام کو
مجھ کو سراہنے لگی ہمت وجود کی
عبید رضا عباس
ترے کلام میں کیوں اک ہی بات ہوتی ہے .؟
ترے خیال کی دنیا کیا اتنی چھوٹی ہے ؟
عبید رضا عباس
عبید گھیر کے مجمعے نے کر دیا ہے سوال
بتا وہ رنگ جو دنیا نے کم دکھایا ہے
عبید رضا عباس
جو بہترین ہو اس پر خموش کیسے رہوں ؟
فضول شعر پہ مَیں واہ کہہ نہیں سکتا
عبید رضا عباس
اب دیکھنا ہے عدل کا معیار, اس لیے
کس نے کہاں خطا کی بتانا نہیں مجھے
عبید رضا عباس
ہک واری بجھسی متھا تونڈا
اوقات تو ودھ اے نخرا تونڈا
ہوونے آلا وی نئیں ہوونا
ایڈا بھیڑاے چتا تونڈا
عبید رضا عباس
لہندی پنجابی
ٹر گئے غرضی حال ونجا کے
اکھیاں وچ وت مٹی پا کے
دھوکے کھادن ہر اک واری
غرضی سنگتاں نال رلا کے
خلد تو دور کرایا کنڑکاں
ہݨ نئیں لبھنی اتّھے آ کے
مطلب پرست زمانہ وچ تو
پھرنا وتنا سادگی چا کے
چنگا شوق عبید رکھیندن
خوش پئے تھیون روز رُوَا کے
عبید رضا عباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain